عنوان: روزے میں صرف سوجانا کیسا ہے؟
چند دنوں سے میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا کہ وہ روزے کی حالت میں زیادہ تر وقت نیند میں گزار دیتے ہیں۔ اس منظر نے میرے دل میں ایک سوال کو جنم دیا، اور اسی احساس نے مجھے اس امر پر قلم اٹھانے پر آمادہ کیا کہ کیا روزے کو محض سونے میں گزار دینا درست طرزِ عمل ہے یا نہیں؟ چنانچہ اسی نیتِ خیر کے ساتھ یہ معروضات پیشِ خدمت ہیں۔
🌹- الحمد للّٰہ ربّ العالمین - 🌹
اہلِ علم کے نزدیک روزہ محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک عظیم الشان عبادت ہے جس کا مقصد نفس کی اصلاح اور تقویٰ کا حصول ہے۔ جیسا کہ Qur'an میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ روزہ اس لیے فرض کیا گیا تاکہ تم میں پرہیزگاری پیدا ہو۔ پس معلوم ہوا کہ روزے کا اصل مقصود دل کی بیداری اور روح کی پاکیزگی ہے، نہ کہ محض جسمانی مشقت۔
- اب سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص روزے کی حالت میں سارا دن سوتا رہے تو اس کا کیا حکم ہے؟
فقہاءِ کرام فرماتے ہیں کہ اگر روزہ دار نے نیت کرلی اور روزے کی شرائط کی پابندی کی تو محض سونے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔ البتہ یہ امر قابلِ غور ہے کہ جو شخص پورا دن خوابِ غفلت میں گزار دے، وہ اس عظیم عبادت کے انوار و برکات سے خود کو محروم کر دیتا ہے۔
حضرت Muhammad ﷺ کا اسوۂ مبارکہ ہمارے سامنے ہے کہ آپ ﷺ رمضان المبارک میں عبادت، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور خدمتِ خلق میں کثرت فرماتے تھے۔ آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ اس بات کی دلیل ہے کہ روزہ بندے کو سستی اور کاہلی نہیں، بلکہ نشاطِ عمل اور قربِ الٰہی کی طرف لے جاتا ہے۔
پس جو شخص محض اس لیے سوتا رہے کہ وقت گزر جائے اور بھوک و پیاس کا احساس نہ ہو، تو یہ طرزِ عمل روحِ روزہ کے منافی ہے۔ ایسا شخص اگرچہ فرض کی ادائیگی کر لیتا ہے، مگر اجرِ کامل سے محروم رہ سکتا ہے۔ اور جو نیند کمزوری، بیماری یا شدید تھکن کی بنا پر ہو، تو شریعت میں اس پر کوئی مواخذہ نہیں، کیونکہ دین آسانی کا نام ہے، تنگی کا نہیں۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ روزہ ایک امانت ہے، ایک روحانی سفر ہے، ایک موقع ہے کہ بندہ اپنے رب کے قریب ہو۔ اسے محض نیند میں ضائع کر دینا دانشمندی نہیں۔ اہلِ ایمان کو چاہیے کہ روزے کے لمحات کو تلاوت، دعا، ذکر اور نیک اعمال سے مزین کریں تاکہ وہ اس عظیم عبادت کے حقیقی ثمرات حاصل کر سکیں۔
🌸 واللہ اعلم بالصواب 🌸