Translation unavailable. Showing original.
کیا دین صرف ایک مہینے کا نام ہے؟
23 فروری، 2026
کیا دین صرف ایک مہینے کا نام ہے؟
یہ ایک تلخ حقیقت ہے جسے ماننے سے شاید بہت سے لوگ کتراتے ہیں، مگر سچ یہی ہے کہ آج مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد عملی طور پر رمضانی مسلمان بن چکی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں، دل ہی دل میں تسلیم بھی کرتے ہیں کہ ہمارا تعلق اللہ، قرآن اور رسولِ اکرم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقۂ زندگی سے صرف رمضان المبارک تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ گیارہ مہینے ہم نماز سے بے نیاز، قرآن سے غافل، شریعت سے دور اور گناہوں میں ڈوبے رہتے ہیں، مگر جیسے ہی رمضان آتا ہے، ہم اچانک بڑے نمازی، بڑے پرہیزگار اور بڑے دین دار بن جاتے ہیں۔ یہ کیسی دوغلی زندگی ہے؟ یہ کیسا دھوکہ ہے جو ہم خود اپنے آپ کو دے رہے ہیں؟
ذرا سوچو! کیا اللہ کو دھوکہ دیا جا سکتا ہے؟ کیا وہ ہمارے ظاہر کے چند سجدوں سے خوش ہو جائے گا جبکہ ہمارا باطن پورا سال نافرمانی، بے حیائی، ظلم، دھوکے اور گناہوں میں ڈوبا رہتا ہے؟ کیا رسولِ اکرم ﷺ کی امت ہونے کا یہی مطلب ہے کہ سال بھر شیطان کی غلامی کریں اور ایک مہینہ اللہ کے بندے بن جائیں؟ خدارا! اپنے آپ پر رحم کرو، اپنی آخرت پر ترس کھاؤ، کیونکہ یہ طرزِ زندگی تمہیں سیدھا جہنم کی طرف لے جا رہی ہے۔
نماز، جو دین کا ستون ہے، ہم نے اسے کھیل بنا رکھا ہے۔ روزہ، جو تقویٰ پیدا کرنے کے لیے فرض کیا گیا، ہم نے اسے صرف بھوک پیاس کی رسم بنا دیا ہے۔ حلال و حرام کی تمیز ختم ہو چکی ہے۔ غیبت، چغلی، جھوٹ، فریب، سود، رشوت، بدنگاہی، حسد، بغض اور کینہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ ہم نماز بھی پڑھتے ہیں اور ظلم بھی کرتے ہیں، تلاوت بھی کرتے ہیں اور زبان سے زہر بھی اگلتے ہیں، روزہ بھی رکھتے ہیں اور دلوں کو بھی توڑتے ہیں۔ آخر یہ کیسا اسلام ہے؟
یاد رکھو! اللہ کی گرفت بہت سخت ہے۔ وہ جب پکڑتا ہے تو پھر نہ دولت بچا سکتی ہے، نہ طاقت، نہ سفارش اور نہ کوئی تعلق۔ جب اس کی پکڑ آتی ہے تو عقل حیران رہ جاتی ہے اور زبان گنگ ہو جاتی ہے۔ قبر کا اندھیرا، منکر نکیر کے سوال، حشر کی ہولناکی، پل صراط کی باریکی اور جہنم کی آگ یہ سب حقیقت ہیں، کہانیاں نہیں۔ اگر آج بھی ہم نہ سدھرے، اگر اب بھی ہم نے سچی توبہ نہ کی، اگر اب بھی ہم نے نماز، قرآن اور شریعت کو اپنی مستقل زندگی کا حصہ نہ بنایا، تو کل ہمارا حال ایسا ہوگا کہ ہم چیخیں گے، روئیں گے، گڑگڑائیں گے، مگر کوئی سننے والا نہیں ہوگا۔
اب بھی وقت ہے! ہوش کے ناخن لو! غفلت کی نیند سے جاگو! اپنی زندگی بدل ڈالو! ورنہ یاد رکھو، جو آج نہیں بدلا، کل وہی سب سے زیادہ پچھتائے گا۔ اللہ کی طرف لوٹ آؤ، سچی توبہ کرو، ورنہ اللہ کی پکڑ ایسی آئے گی کہ نسلیں یاد رکھیں گی۔ یہ محض الفاظ نہیں، ایک درد مند دل کی فریاد اور ایک سچے خیر خواہ کی چیخ ہے۔
رمضانی مسلمان
رمضانی مسلمان بن جانا دراصل ایمان کے لیے ایک نہایت خطرناک اور تباہ کن رویہ ہے۔ یہ وہ طرزِ زندگی ہے جس میں انسان پورا سال اللہ کی نافرمانی میں گزارتا ہے، مگر رمضان آتے ہی اچانک عبادت گزار بن جاتا ہے۔ یہ روش نہ صرف دین کی روح کے خلاف ہے بلکہ یہ اللہ کے ساتھ ایک طرح کی بے ادبی اور خود فریبی بھی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چند دن نماز پڑھ لینے، چند پارے تلاوت کر لینے اور چند روزے رکھ لینے سے ہم بری الذمہ ہو گئے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
اسلام کسی ایک مہینے کا دین نہیں، بلکہ یہ مکمل زندگی کا ضابطہ ہے۔ جو شخص گیارہ مہینے نماز ترک کرے، قرآن سے بے تعلق رہے، حرام میں ڈوبا رہے، لوگوں کے حقوق پامال کرے، ظلم کرے، دھوکہ دے، جھوٹ بولے اور پھر رمضان میں اچانک نیک بن جائے وہ دراصل اپنے ضمیر کو دھوکہ دے رہا ہوتا ہے، اللہ کو نہیں۔ کیونکہ اللہ دلوں کے حال جانتا ہے، نیتوں سے واقف ہے اور ہمارے ہر عمل کو دیکھ رہا ہے۔
رمضانی مسلمان دراصل عبادت کو رسم بنا لیتے ہیں اور دین کو عادت۔ ان کے لیے نماز بوجھ بن جاتی ہے، قرآن صرف رمضان کی کتاب بن جاتا ہے اور تقویٰ صرف چند دنوں کا مہمان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان کے بعد ان کی زندگی میں کوئی حقیقی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ نہ کردار بدلتا ہے، نہ اخلاق سنورتے ہیں، نہ معاملات درست ہوتے ہیں۔ اگر ہماری عبادت ہمیں برائی سے نہ روکے تو ہمیں ڈر جانا چاہیے کہ کہیں یہ عبادت صرف ظاہری نہ ہو۔
یاد رکھو! یہ طرزِ عمل اللہ کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مسلمان اس لیے نہیں بنایا کہ ہم صرف ایک مہینہ اس کے بن کر رہیں، بلکہ اس لیے بنایا ہے کہ ہم ہر لمحہ اس کے بندے بن کر زندگی گزاریں۔ جو شخص اس حقیقت کو نہیں سمجھتا، وہ بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہے، اور یہ غلط فہمی اسے ایک دن ہلاکت کے دہانے پر لا کھڑا کرے گی۔
نماز سے غفلت
نماز سے غفلت دراصل ایمان کے کمزور پڑ جانے، بلکہ رفتہ رفتہ ختم ہو جانے کی سب سے واضح علامت ہے۔ جو شخص جان بوجھ کر نماز ترک کرتا ہے، وہ صرف ایک عبادت نہیں چھوڑتا بلکہ وہ اپنے رب سے اپنا تعلق توڑ دیتا ہے۔ نماز اللہ اور بندے کے درمیان وہ مضبوط رشتہ ہے جو بندے کو گناہوں سے روکتا، برائیوں سے بچاتا اور سیدھی راہ پر قائم رکھتا ہے۔ جب یہی رشتہ کمزور پڑ جائے تو انسان شیطان کے لیے آسان شکار بن جاتا ہے۔
ذرا غور کرو! جس نماز کو اللہ نے دن میں پانچ مرتبہ فرض کیا، جسے نبی کریم ﷺ نے دین کا ستون قرار دیا، جس کے بارے میں قیامت کے دن سب سے پہلے سوال ہوگا ہم نے اسی نماز کو اپنی زندگی سے نکال دیا۔ ہمیں نہ فجر کی فکر، نہ ظہر کی پروا، نہ عصر کا خیال، نہ مغرب کی طلب اور نہ عشاء کی کوئی اہمیت۔ دن بھر دنیا کی دوڑ دھوپ، کاروبار، موبائل، تفریح اور فضول مشغولیات کے لیے وقت ہے، مگر اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کے لیے چند منٹ نہیں۔
یہ محض سستی نہیں، یہ سنگین غفلت ہے۔ یہ دل کی سختی ہے۔ یہ ایمان کی کمزوری ہے۔ جو دل نماز میں سکون نہ پائے، جو پیشانی سجدے میں لذت محسوس نہ کرے، سمجھ لو کہ اس دل پر گناہوں کی تہیں جم چکی ہیں۔ اور جب دل مر جاتا ہے تو پھر نصیحت بھی اثر نہیں کرتی، وعظ بھی بے فائدہ ہو جاتا ہے اور آیاتِ الٰہی بھی بے اثر ہو جاتی ہیں۔
نماز چھوڑنے کا انجام نہایت خطرناک ہے۔ یہ انسان کو آہستہ آہستہ بے حیائی، فحاشی، ظلم، دھوکہ، جھوٹ، حرام خوری اور ہر طرح کی برائی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ کیونکہ نماز ہی وہ طاقت ہے جو انسان کو برائی سے روکتی ہے۔ جب یہ طاقت ختم ہو جائے تو شیطان پورے زور کے ساتھ حملہ آور ہوتا ہے اور انسان کو گناہوں کی دلدل میں دھنسا دیتا ہے۔
یاد رکھو! قبر میں نہ دولت کام آئے گی، نہ رتبہ، نہ رشتے اور نہ سفارش وہاں صرف نماز کام آئے گی۔ جو دنیا میں سجدے سے بھاگتا رہا، وہاں اسے ایسے سوالوں کا سامنا ہوگا جن کا تصور بھی رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔ اب بھی وقت ہے، نماز کو اپنی زندگی میں واپس لے آؤ، ورنہ کل بہت دیر ہو چکی ہوگی۔
دنیا کی محبت اور آخرت کی فراموشی
آج ہماری تباہی کی سب سے بڑی وجہ دنیا کی اندھی محبت اور آخرت کی مکمل فراموشی ہے۔ ہمارے دلوں میں دنیا اس قدر رچ بس چکی ہے کہ اللہ، رسول ﷺ، قرآن اور آخرت سب پیچھے چھوٹ گئے ہیں۔ ہم صبح سے شام تک صرف کمانے، جمع کرنے، بڑھانے، دکھانے اور مقابلہ کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ حلال و حرام کی تمیز ختم، جائز و ناجائز کی پروا نہیں، بس دولت آئے، چاہے جیسے بھی آئے۔ یہی سوچ ہمیں آہستہ آہستہ دین سے دور اور شیطان کے قریب کرتی چلی جاتی ہے۔
ہم نے دنیا کو سب کچھ اور آخرت کو کچھ بھی نہیں سمجھا۔ ہمیں بڑی کوٹھی، بڑی گاڑی، بڑا عہدہ، بڑا نام اور بڑا رتبہ تو چاہیے، مگر قبر کی فکر نہیں۔ ہمیں مہنگے کپڑے، اچھا کھانا، آرام دہ بستر تو چاہیے، مگر سجدے کی سختی برداشت نہیں۔ ہمیں لوگوں کی واہ واہ چاہیے، مگر اللہ کی رضا کی کوئی فکر نہیں۔ یہ وہ اندھی دوڑ ہے جس کا انجام صرف حسرت، ندامت اور بربادی ہے۔
یاد رکھو! یہ دنیا چند دن کی مہمان ہے۔ آج جو ہمارے ہاتھ میں ہے، کل کسی اور کے ہاتھ میں ہوگا۔ آج جن محلات میں ہم فخر سے رہ رہے ہیں، کل دو گز زمین میں اکیلے پڑے ہوں گے۔ نہ ساتھ دولت جائے گی، نہ اولاد، نہ رشتے، نہ دوست ساتھ جائیں گے تو بس ہمارے اعمال۔ مگر افسوس! ہم نے اعمال بنانے کے بجائے مال بنانے کو مقصد بنا لیا۔
دنیا کی محبت نے ہمارے دلوں کو اس قدر اندھا کر دیا ہے کہ ہمیں گناہ گناہ نہیں لگتے۔ جھوٹ معمول بن چکا ہے، دھوکہ کاروبار کا حصہ ہے، سود لینا دینا فیشن بن چکا ہے، رشوت کامیابی کا ذریعہ سمجھی جاتی ہے، بدنگاہی تفریح اور بے حیائی آزادی کہلاتی ہے۔ ہم ہنستے کھیلتے گناہ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ سب ٹھیک ہے، حالانکہ ہم آہستہ آہستہ اپنی آخرت کو خود اپنے ہاتھوں سے برباد کر رہے ہوتے ہیں۔
سوچو! اگر آج موت آ گئی تو کیا ہم تیار ہیں؟ کیا ہماری نمازیں مکمل ہیں؟ کیا ہمارے حقوق العباد صاف ہیں؟ کیا ہمارے دل کینے، بغض اور حسد سے پاک ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے تو سمجھ لو کہ ہم بہت بڑے خطرے میں ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ دنیا کی محبت کو دل سے نکالیں اور آخرت کی فکر کو دل میں بسائیں، ورنہ یہ دنیا ہمیں ایسا دھوکہ دے گی کہ ہم ہمیشہ کے لیے خسارے میں چلے جائیں گے۔
گناہوں میں ڈوبی ہوئی زندگی اور ہماری بے حسی
آج ہماری زندگی گناہوں کی ایسی دلدل میں دھنس چکی ہے کہ ہمیں گناہ، گناہ ہی محسوس نہیں ہوتے۔ ہمارا دل اتنا سخت ہو چکا ہے کہ برائی دیکھ کر بھی کانپتا نہیں، ظلم کر کے بھی نادم نہیں ہوتا، کسی کا حق مار کر بھی ضمیر نہیں جاگتا۔ ہم جھوٹ بولتے ہیں، دھوکہ دیتے ہیں، غیبت کرتے ہیں، چغلی کھاتے ہیں، حسد کرتے ہیں، بغض رکھتے ہیں، کینہ پالتے ہیں، بدنگاہی کرتے ہیں، حرام کماتے ہیں اور پھر بھی خود کو اچھا مسلمان سمجھتے ہیں۔ یہ کیسی بے حسی ہے؟ یہ کیسا دھوکہ ہے جو ہم خود اپنے ساتھ کر رہے ہیں؟
سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اب ہمیں اپنے گناہوں پر شرمندگی بھی نہیں ہوتی۔ پہلے گناہ ہو جاتا تھا تو دل تڑپ اٹھتا تھا، آنکھ نم ہو جاتی تھی، توبہ کی فکر پیدا ہوتی تھی، مگر آج گناہ کر کے ہم ہنستے ہیں، فخر کرتے ہیں اور اسے ہوشیاری سمجھتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان ہدایت سے بہت دور اور ہلاکت کے بہت قریب ہو جاتا ہے۔ جب دل سے ندامت ختم ہو جائے تو سمجھ لو کہ ایمان خطرے میں پڑ چکا ہے۔
ہماری زبانیں زخم دینے میں تیز ہیں، ہمارے ہاتھ ظلم کرنے میں بے خوف ہیں، ہماری آنکھیں حرام دیکھنے کی عادی ہیں اور ہمارے کان فضول اور فحش سننے کے رسیا ہو چکے ہیں۔ موبائل نے گناہ کو ہماری مٹھی میں لا دیا ہے۔ چند لمحوں میں وہ سب کچھ دیکھ لیا جاتا ہے جس سے دل سیاہ، ایمان کمزور اور روح مردہ ہو جاتی ہے۔ مگر افسوس! ہمیں نہ خوف ہے، نہ شرم، نہ فکرِ آخرت۔
یاد رکھو! گناہوں پر ڈھیٹ ہو جانا اللہ کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ جو انسان بار بار گناہ کرے اور پھر بھی نہ سدھرے، اس پر آہستہ آہستہ رحمت کے دروازے بند ہونے لگتے ہیں اور ہدایت کی توفیق چھن جاتی ہے۔ پھر نہ وعظ اثر کرتا ہے، نہ نصیحت فائدہ دیتی ہے، نہ قرآن دل کو ہلاتا ہے۔ یہ سب سے بڑی سزا ہے کہ انسان حق سن کر بھی بے حس رہے۔
اب بھی وقت ہے! گناہوں کی اس دلدل سے باہر نکل آؤ! اپنے دل کو زندہ کرو! سچی توبہ کرو! آنسو بہاؤ! اللہ کے سامنے گڑگڑاؤ! ورنہ یہ گناہ ہمیں ایسی جگہ لے جائیں گے جہاں صرف حسرت ہوگی، چیخیں ہوں گی اور ہمیشہ کا عذاب ہوگا۔
توبہ اور رجوع الی اللہ
اگرچہ ہماری حالت نہایت خراب ہو چکی ہے، مگر اللہ کی رحمت اب بھی ہمارے لیے کھلی ہوئی ہے۔ یہ اس کا بے پایاں کرم ہے کہ وہ گناہوں کے انبار کے باوجود ہمیں توبہ کا موقع دیتا ہے، پلٹ آنے کی دعوت دیتا ہے اور بار بار اپنی طرف بلاتا ہے۔ یاد رکھو! جب تک سانس چل رہی ہے، توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ مگر یہ دروازہ ہمیشہ کھلا نہیں رہے گا۔ ایک لمحہ آئے گا جب مہلت ختم ہو جائے گی، اور پھر صرف پچھتاوا رہ جائے گا۔
سچی توبہ صرف زبان سے “استغفار” کہہ دینے کا نام نہیں، بلکہ دل سے ندامت، گناہ چھوڑنے کا پختہ عزم، آئندہ نہ کرنے کا سچا ارادہ اور عملی تبدیلی کا نام ہے۔ توبہ کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی نماز درست کریں، قرآن سے اپنا تعلق جوڑیں، حلال و حرام کی تمیز سیکھیں، لوگوں کے حقوق ادا کریں، زبان، آنکھ، کان اور دل کو گناہوں سے پاک کریں، اور اپنی زندگی کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے طریقے کے مطابق ڈھالیں۔
حقیقی اسلامی زندگی وہ ہے جس میں ہمارا اٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا، کمانا کھانا، بولنا خاموش رہنا سب کچھ اللہ کی رضا کے لیے ہو۔ وہ زندگی جس میں فجر کی اذان ہمیں بستر سے کھینچ کر سجدے میں لے آئے، قرآن ہمارے دل کی آواز بن جائے، حرام سے دل نفرت کرنے لگے اور گناہ ہمیں کانٹوں کی طرح چبھنے لگیں۔ یہی وہ زندگی ہے جو اللہ کو محبوب ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو جنت کی طرف لے جاتا ہے۔
آج اگر ہم نے خود کو بدل لیا تو کل اللہ ہمارا مقدر بدل دے گا۔ آج اگر ہم نے اپنے آنسوؤں سے اپنے گناہ دھو ڈالے تو کل اللہ اپنی رحمت سے ہمارے نامۂ اعمال کو روشن کر دے گا۔ مگر اگر ہم نے آج بھی ٹال مٹول سے کام لیا، آج بھی غفلت میں پڑے رہے، آج بھی دین کو صرف رمضان تک محدود رکھا، تو ڈر ہے کہ کل ہمیں وہ موقع نہ ملے جس کی ہم آج ناقدری کر رہے ہیں۔
اب بھی وقت ہے! اٹھو! اپنے رب کی طرف لوٹو! سچی توبہ کرو! نماز کو اپنی زندگی کی بنیاد بناؤ! قرآن کو اپنا ساتھی بناؤ! دین کو اپنا شعار بناؤ! کیونکہ جو آج اللہ کے در پر جھک گیا، کل وہی سب سے کامیاب ہوگا، اور جو آج اکڑ کر غفلت میں رہا، کل وہی سب سے زیادہ خسارے میں ہوگا۔
تحریر: محمد فداء المصطفٰی قادری
رابطہ نمبر: 9037099731
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی