سنت کے مطابق افطار—شکر اور سادگی کا حسین منظر
رمضان المبارک عبادت، صبر اور شکر کا مہینہ ہے، اور اس مہینے کا سب سے پُراثر لمحہ افطار کا وقت ہوتا ہے۔ افطار محض روزہ کھولنے کا نام نہیں بلکہ یہ وہ گھڑی ہے جب بندہ سارا دن ضبط کے بعد اللہ کی نعمتوں کو پہچانتا اور شکر کے ساتھ قبول کرتا ہے۔ سنت کے مطابق افطار دراصل عبادت کا تسلسل ہے، نہ کہ اس کا اختتام۔احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ افطار میں سادگی کو پسند فرماتے تھے۔ کھجور اور پانی سے افطار کرنا نہ صرف سنت ہے بلکہ اس میں اعتدال اور حکمت بھی پوشیدہ ہے۔ اہلِ علم فرماتے ہیں کہ سنت کے مطابق کیا گیا افطار جسم کے لیے بھی مفید ہوتا ہے اور دل کے لیے بھی سکون کا باعث بنتا ہے۔
افطار سے پہلے دعا کا اہتمام سنت سے ثابت ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب روزہ دار کی دعا قبول ہوتی ہے۔ ہاتھ اٹھا کر اللہ سے مانگنا اس بات کی علامت ہے کہ بندہ اپنی کمزوری کو پہچان چکا ہے اور اب ہر نعمت کو رب کی عطا سمجھتا ہے۔ یہی کیفیت افطار کو ایک روحانی منظر بنا دیتی ہے۔
سنت کے مطابق افطار میں اسراف نہیں بلکہ قناعت ہوتی ہے۔ تھوڑا کھانا، شکر کے ساتھ کھانا، اور اللہ کی یاد کے ساتھ کھانا—یہی وہ انداز ہے جو روزے کی اصل روح کو زندہ رکھتا ہے۔ جب افطار سادگی سے کیا جائے تو دل میں غرور کے بجائے عاجزی پیدا ہوتی ہے، اور نعمت کی قدر بڑھ جاتی ہے۔
آج کے دور میں جہاں افطار کو محض دسترخوان کی زینت بنا دیا گیا ہے، وہیں سنت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل خوبصورتی شکر اور اطاعت میں ہے، نہ کہ کثرت میں۔ افطار کا حسین منظر وہی ہے جہاں دعا ہو، سنت ہو، اور دل اللہ سے جڑا ہوا ہو۔
لہٰذا اگر ہم اپنے افطار کو سنت کے مطابق بنا لیں—سادہ، بابرکت اور شکر سے بھرپور—تو یہی عمل ہمارے روزے کو قبولیت کے قریب لے جاتا ہے۔ یہی افطار دراصل رمضان کی اصل روح کی عکاسی کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سنت پر عمل کرنے، سادگی اختیار کرنے اور اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔