آج وہ بے حد خوش تھی ۔اسکا چہرہ منشور کی سی خاصیت رکھے ہوۓ تھا کہ اک مدھم سی روشنی بھی پڑتی تو سات مختلف رنگوں میں تقسیم ہوکر پلٹ رہی تھی۔لوگوں کا جم غفیر ،ان کی طرف سے ملنے والے دعاںیٔہ کلمات،مبارکباد گو کہ ہر لمحہ فرحت بخش محسوس ہو رہا تھا۔کیونکہ کے یہ تمام باتیں کچھ ایسے اشخاص کے منہ سے بھی نکل رہی تھی جو کبھی فضولیات بھری باتیں اور طعنے دیا کر تے تھے۔اور یہ تمام باتیں سواۓ اذیت کے کچھ نہ تھیں۔
                    ----*----*----*-----
           اب تک ضروریات زندگی معمول کے مطابق روا‌ں  دواں تھی۔کھانے‌،کپڑے،معمولی مکان جو رہنے کے لںٔے کافی تھا سب کچھ اللہ کے فضل سے میسر تھا ۔اسی بیچ وقت اتنی تیزی سے گزرا کہ احساس بھی نہ کرایا ۔ناجانے آنچل پکڑ کر کھیلتی ہو ںٔی بچیاں کب خود ہی آنچل کو سنبھالنے کے قابل ہوگئیں کچھ خبر ہی نہ ہوںیٔ۔دہلیز کے اندر پڑے ہوئے قدم‌کو خوشی سے باہر نکالنے کا وقت آگیا تھا۔نگاہ کسی مرد کی منتظر تھی۔ جو خوشی سے اس کی بیٹی کا ہاتھ تھام‌کر زندگی کے تمام راستوں کو پار کراتا۔وقت گزرتا گیا ۔نگاہ تھی کہ وہ منتظر ہی رہی۔
                  ----*----*----*----
۔ باجی آپ بضد کیوں ہیں کہ کوںٔی ایسا لڑکا جس میں مرد کی خاصیت ہو گی آپ کی بیٹی کو بیاہے گا؟ بڑے تعجب سے پڑوسن نے یہ بات کہی۔
دن‌میں خواب دیکھنا چھوڑ دیں ۔میں یہ نہیں کہہ رہی کہ ایسا کوئی نہیں ہے جسےصرف سمجھدار،دیندار اور سلیقہ مند بہویا بیوی چاہںٔے ان کا جہیز سے کوںٔی لینا دینا نہیں ہوتا ۔ایسے لوگ ہیں تو ضرور مگر آٹے میں نمک کے برابر ،اب تو بدصورت ،بدچلن بھی ہو تو لوگ پیسوں میں ڈھانپ لیتے ہیں۔میں آپ کی باتوں کو سمجھتی ہوں کیونکہ ہمارا اسلام بھی تو یہی کہتا ہے کہ ہم نے مرد کو عورتوں پر حاکمیت دی ہے اور اک حاکم‌کا فرض ہے کہ وہ اپنے‌ماتحتوں کی ضرورتوں کا خیال رکھے نا کہ ماتحتوں سے اپنی ضرورتوں اور خواہشوں کو پورا کرواۓ ۔حدیث کا مفہوم ہے کہ خود نبی کریمﷺنے ارشاد فرمایا کہ لوگ عورتوں سے چار چیزوں کی بنا پر نکاح کرتے ہیں ۔اسکے حسب نسب کی وجہ سے ،مالداری سے ،خوبصورتی سے تم ان میں دینداری کو پسند کرو۔
               لیکن آج کل نہ جانے لوگوں کے بچے کیسے ہوتے ہیں کہ وہ تلاش میں ہوتے ہیں کسی ایسے گھرانے کی جو ان کہ لڑکوں کو کچھ بنا دیں پڑوسن نے بڑی حیرت کا مظاہرہ رتے ہوۓ اپنی بات‌کو آگے بڑھایا اور مخاطب ہوںٔی ؛
باجی! مجھے اک بات سمجھ نہیں آرہی ہی کہ ،اللہ نے انہیں بہترین ساخت ،شکل وصورت والا،عقل سلیم دے کر مرد کامل بنا کر تو بھیجا ہے آخر اب انہیں کیا بنانے کی ڈیمانڈ کرتے ہیں؟
وہ مسکرا کر پڑوسن کی طرف دیکھی اور خاموش نظروں سے بہت کچھ کہہ گزری۔

                   ----*----*----*----
           اس کی ہم عمر لڑکیوں کی شادیاں ہو رہی تھیں ۔کچھ کی تو شادی ہوۓ زمانہ بیت چکا تھا۔لوگوں کی سوالیہ نظریں جب اس کی طرف اٹھتی تو اسے صرف انہی ہی بات کا ملاال ہوتا کہ کاش!وہ بھی ایک بڑے باپ کی اولاد ہوتی یا پھر نہایت غریب باپ کی،یاپھر اسکا کوںٔی وجود ہی نہ ہوتا۔کیونکہ بڑے گھرانوں میں پیدا ہونے والی لڑکیوں کی شکل وصورت ،ہنرمندی آڑ نہیں ہوتی تھی ہر کوںٔی بیاہ کر اپنی گھر لانے کی خواہش رکھتا تھا۔کیونکہ ان کی نظر میں صرف دولت کی وقعت ہوا کرتی ہے۔انھیں نسلوں کی بہترین پرورش کرنے والی ماؤں کی ضرورت نہیں ہوتی۔اور والدین بھی اپنی بیٹیوں کے لئے بڑے شوق سے اچھی قیمت پر دولہا خرید لیا کرتے ہیں۔ان کہ لںٔے یہ سب ایک تفریح کا ،خوش ہونے کا موقع ہوا کرتاہے۔رہی بات غریبوں کی ،تو وہ غریب ہوتے ہیں ۔ہر طرف سے معاشرے کے کچھ طبقات مدد کے لئے آگے ہاتھ بڑھا دیا کرتے ہیں وہ اپنے فرض سے ادا ہو جاتے ہیں ۔معمولی تنخواہ سے ضروریات زندگی پوری کرنے والا خودار خاندان زاںٔد ضرورتوں کو پورا کرنے سے قاصر تھا ۔ان کہ یہاں صرف بچیوں کی صحیح پروش، انکی بہترین تربیت ،ہنرمندی،دینداری اور سلیقہ مندی جیسے سرماۓ موجود تھے۔لیکن سوداگر کی کمی تھی۔
     اس نے اپنی بیٹیوں کو ہمیشہ یہی تربیت دی کہ یہاں جو چیزیں میسر ہیں ہو سکتاہے کہ وہ داںٔمی نہ ہوں جہاں تم جاؤگی ہو سکتاہے یہ چیزیں تمہیں نہ ملے ۔تو کبھی اس کی شکایت نہ کرنا ۔اگر اس سے بہتر مل جاۓ تو کبھی بھی اپنی حیثیت نہ بھولنا۔انسان ایک مسافر ہے اور زندگی اس کی گاڑی ہے اگر وہ لگژری ہو تو کیا ہوا منزل پر پہنچنے پر آپ کو اس پر سے اترنا ہی ہے۔اگر سواری تکلیف دہ ہو تو بھی تو منزل پر پہنچنے پر اتر جانا ہے۔فانی چیزوں پر کیا شکایت اور کیسا گھمنڈ کرنا۔ سسرال میں جانے کے‌بعد‌خدارا کسی چیز کے نہ ہونے کی شکایت نہ کرنا جو تمہیں یہاں میسر ہے،اور جو مل جاۓ اس پر خدا کا شکر بجالانا۔

                      ----*----*----*----
        آخر وہ دن آ ہی گیا جب اس کی بیٹی دلہن بنی اسٹیج کی خوبصورتی میں چار چاند لگا رہی تھی ۔اور وہ دوڑ دوڑ مہمانوں کی ضیافت کر رہی تھی ۔لوگ بڑے پر جوش سے مل رہے تھے ۔وہ بہت خوش تھی ۔فرض سے ادائیگی اسے راحت بخش رہی تھی ۔اس کے چہرے سے سب کچھ صاف عیاں تھا۔مگر دل میں ایک ملال تھا۔رنجش تھی۔اور خواہش تھی کہ جو ادھوری ہی رہی ۔چودھویں کےچمکتےچاند کے پیچھے ابر کے گھنے بادل بھی تھے۔خوشی دینے کے لئے اپنے حصے میں غم کو بھی خریدا تھا۔اس نے پڑوسن کی بات مان لی تھی ۔اور وہ سچ بھی تھی کہ آخر اسے اپنی بیٹی کہ لںٔے ہمسفر چند زمین کے ٹکڑے کو فروخت کر کے ،قرض میں ڈوب کر کے خریدنا پڑا۔خیر وہ اذیت سے ہی صحیح اپنے فرض سے ادا ہو گئی۔ مگر ہمارے مردوں کی غیرت کہاں کھو گںئ۔ اپنے ہی ہاتھوں سے جہیز کے سامان کو ترتیب سے اپنے گھروں میں سجاتے ہیں۔دلہن دو دن بعد اور دلہے کی قیمت(جہیز) دودن پہلے ہی ہمارے گھروں کی زینت بن جاتی ہے۔یہ مضمون پڑھ رہے ہیں ۔ہمیں غم بھی ہے ۔لیکن ہم شامل بھی انھیں میں رہنے والے ہیں۔

             خدایا دے وہ مائیں جو جنیں مردانِ مومن کو
              شریعت کا جو قائد، پاسبانِ دین و ملت ہوں

                                     از قلم :شیخ زینت ابوطالب