انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ انسان ہمیشہ اندھیروں اور روشنی کے درمیان کشمکش میں مبتلا رہا ہے۔ یہ اندھیرے کبھی جہالت کے ہوتے ہیں، کبھی ظلم کے، کبھی ناامیدی کے اور کبھی اخلاقی زوال کے۔ جبکہ روشنی علم، ہدایت، عدل، امید اور اخلاقی بیداری کی علامت ہے۔ دراصل اندھیروں سے روشنی کی طرف سفر ہی انسانی زندگی کا اصل مقصد اور تہذیبی ارتقا کا بنیادی محرک ہے۔
اندھیروں سے مراد صرف مادی تاریکی نہیں بلکہ فکری، روحانی اور اخلاقی تاریکیاں ہیں۔ جب انسان علم سے محروم ہو جاتا ہے تو جہالت کا اندھیرا اس کی سوچ پر چھا جاتا ہے۔ وہ صحیح اور غلط میں تمیز کھو بیٹھتا ہے، توہمات کو حقیقت سمجھنے لگتا ہے اور تعصب و تنگ نظری کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی جہالت معاشروں کو پسماندگی، انتشار اور زوال کی طرف لے جاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے علم کو نظر انداز کیا، وہ جلد یا بدیر اندھیروں میں گم ہو گئیں۔
اسی طرح ظلم اور ناانصافی بھی اندھیروں کی ایک گہری شکل ہے۔ جب طاقتور کمزور کو دبانے لگے، جب حق کو پامال کیا جائے اور باطل کو تحفظ دیا جائے تو پورا معاشرہ ظلمت میں ڈوب جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں نہ امن باقی رہتا ہے، نہ اعتماد اور نہ ہی انسانی وقار۔
ان اندھیروں سے نکلنے کا راستہ فرد کی اصلاح سے ہو کر گزرتا ہے، کیونکہ قوموں کی تقدیر کا فیصلہ اجتماعی طور پر نہیں بلکہ افراد کے کردار سے ہوتا ہے۔ اسی حقیقت کو علامہ اقبالؒ نے نہایت بلیغ انداز میں یوں بیان کیا ہے؎
افراد کے ہاتھ میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
یہ شعر اس امر کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ اگر فرد سنور جائے تو قوم خود بخود اندھیروں سے نکل کر روشنی کی طرف بڑھنے لگتی ہے۔
روشنی کی سب سے پہلی کرن علم ہے۔ علم انسان کو شعور عطا کرتا ہے، سوچنے کی صلاحیت دیتا ہے اور اندھی تقلید سے نجات دلاتا ہے۔ تعلیم یافتہ انسان نہ صرف اپنی ذات کو بہتر بناتا ہے بلکہ اپنے معاشرے میں بھی مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے علم کو فرض قرار دے کر انسان کو فکری تاریکی سے نکالنے کا بندوبست کیا۔
ہدایت بھی روشنی کا ایک عظیم سرچشمہ ہے۔ جب انسان اپنے رب سے جڑ جاتا ہے تو اس کی زندگی کا مقصد واضح ہو جاتا ہے۔ عبادات انسان کے اندر نظم، ضبط اور اخلاقی پاکیزگی پیدا کرتی ہیں، جو اسے روحانی اندھیروں سے نکال کر سکون اور روشنی کی طرف لے جاتی ہیں۔
اخلاقی اقدار جیسے سچائی، دیانت، عدل اور خدمتِ خلق وہ چراغ ہیں جو معاشروں کو روشن رکھتے ہیں۔ جب یہ اقدار کمزور پڑ جاتی ہیں تو بدعنوانی اور بے حسی جنم لیتی ہے، اور معاشرہ دوبارہ اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے۔ اس کے برعکس مضبوط اخلاقی بنیادیں قوموں کو عروج عطا کرتی ہیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اندھیروں سے روشنی کی طرف سفر کوئی خیالی تصور نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت ہے، بشرطیکہ فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے۔ جب ہر فرد خود کو ملت کے مقدر کا ستارہ سمجھے تو اندھیری رات بھی سحر میں بدل سکتی ہے، کیونکہ روشنی ہمیشہ شعور، کردار اور ہدایت کے ساتھ وابستہ رہتی ہے۔