سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا – بصیرت اور پاکیزگی کا پیکر 
مکہ کی معزز ترین خواتین میں سے ایک نام ایسا تھا جو شرافت، دولت، دیانت اور پاکیزگی کا استعارہ بن چکا تھا: سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا۔ وہ محض ایک مالدار خاتون نہیں بلکہ ایک عظیم تاجرہ تھیں جنہیں معاشرے میں "طاہرہ" اور "سیدہ قریش" کے القابات سے یاد کیا جاتا تھا۔ ان کا کاروباری بصیرت ضرب المثل تھی۔ دور دراز کے علاقوں میں مال بھیجنا، لوگوں پر اعتماد کرنا اور صحیح شخص کا انتخاب ان کی خاص پہچان تھی۔ مگر جب قریش کے تمام تاجروں کا قافلہ روانہ ہوتا تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تجارتی سامان سب سے بڑا ہوتا۔ ایک ایسی جو عورت ہونے کے باوجود بھی تجارت اور منصب کے میدان میں نمایاں کردار ادا کر رہی تھیں۔
سفرِ شام: امانت، دیانت اور اخلاق کی داستان
اسی پس منظر میں نظر ڈالتے ہیں جب آپ ﷺ کی دیانت و صداقت (سچائی) کا چرچا ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر مکہ میں عام تھا۔ جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کی سچائی، امانت، معاملہ فہمی اور بصیرت کا تذکرہ سنا تو ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ کیوں نہ اپنا تجارتی مال آپ ﷺ کے ساتھ شام بھیجا جائے۔ جب یہ پیشکش آپ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے نہایت وقار اور امانت کے ساتھ اسے قبول فرمایا۔
چنانچہ انہوں نے آپ ﷺ کی خدمت میں پیغام بھیجا اور اس تجارتی معاملے (جسے فقہی اصطلاح میں مضاربت کہا جاتا ہے) کی پیشکش کی۔
میکائیل کی گواہی
جب آپ ﷺ کا تجارتی قافلہ شام کی جانب روانہ ہوا تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے غلام میسرہ کو آپ ﷺ کے ساتھ بھیجا تاکہ حالات اور معاملات کا مشاہدہ کرے۔ میسرہ نے اس سفر میں جو کچھ دیکھا وہ حیرت انگیز تھا۔ وہ بیان کرتا ہے کہ سفر کے دوران میں نے آپ ﷺ کے اخلاق، دیانت اور طرزِ عمل کا جو مظاہرہ دیکھا، اس کی مثال نہیں ملتی۔ آپ ﷺ نہ جھگڑا کرتے، نہ دھوکہ دیتے، نہ کسی پر زیادتی کرتے۔ کاروباری سودے انتہائی انصاف اور سچائی کے ساتھ طے پاتے۔ یہاں تک کہ شدید گرمی میں بھی ایک بادل آپ ﷺ پر سایہ فگن رہتا، جس کا تصور بھی اس وقت محال تھا۔
میسرہ کی چشم دید گواہی
واقعی پیارے میسرہ نے سیدہ خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کو جو روداد سنائی، وہ صرف نفع و نقصان کا حساب نہ تھا۔ انہوں نے ایک ایک لمحے کی تفصیل بیان کی۔ اس نے آپ ﷺ کے بے مثال اخلاق، میسرہ کے ساتھ آپ ﷺ کا مشفقانہ برتاؤ، آپ ﷺ کی کاروباری حکمت، بتوں سے آپ ﷺ کی نفرت اور سفر میں پیش آنے والے ان تمام معجزاتی واقعات کا ذکر کیا جنہوں نے اسے حیرت زدہ کر دیا تھا۔
سیدہ خدیجہ (رضی اللہ عنہا) ایک انتہائی زیرک اور معاملہ فہم خاتون تھیں۔ انہوں نے میسرہ کی باتوں کو جوڑا اور نتیجہ اخذ کیا۔ یہ بے مثال کاروباری کامیابی، یہ آسمانی نشانیاں (فرشتوں کا سایہ اور راہب کی گواہی) اور یہ کردار کی عظمت، یہ سب مل کر ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے تھے کہ محمد بن عبداللہ ﷺ کوئی عام انسان نہیں ہیں۔ یہ محض ایک دیانت دار تاجر کا معاملہ نہ تھا، بلکہ یہ ایک ایسی ہستی کا معاملہ تھا جس پر آسمان مہربان تھا اور جس کا کردار خود ایک معجزہ تھا۔ سیدہ خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کی روحانی بصیرت بھی کہہ رہی تھی کہ انہوں نے اس حقیقت کو پہچان لیا۔ ان کا فیصلہ محض ایک کاروباری شراکت سے بہت آگے بڑھ کر اپنی پوری زندگی اور اپنی تمام دولت کو اس مقدس ہستی کے ساتھ وابستہ کرنے کا فیصلہ تھا۔