ہم کہاں کھڑے ہیں؟
یہ سوال آج کسی ایک فرد کا نہیں،یہ پوری اُمت کا سوال ہے۔
ہم کہاں کھڑے ہیں؟
ترقی کے نام پر آگے، یا اقدار کے اعتبار سے پیچھے؟
روشنیوں کے شہر میں، یا ضمیروں کی تاریکی میں؟
ہم نے بہت کچھ حاصل کیا ہے—
آواز، پلیٹ فارم، اختیار، رفتار۔
مگر اصل سوال یہ ہے:
ہم نے کھویا کیا؟
ہم نے سچ کو سہولت پر قربان کیا،
اصول کو مفاد پر،
اور خاموشی کو شور کے حوالے کر دیا۔
حقیقت یہ ہے کہ آج حق اس لیے کمزور نہیں کہ اس میں وزن نہیں،
بلکہ اس لیے کہ وہ مقبول نہیں۔
اور باطل اس لیے طاقتور نہیں کہ وہ سچا ہے،
بلکہ اس لیے کہ وہ خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
ہم کہاں کھڑے ہیں؟
ہم وہاں کھڑے ہیں جہاں غلطی پر شرمندگی نہیں،
بلکہ صفائی پیش کی جاتی ہے۔
جہاں سوال سوچنے کے لیے نہیں،
بلکہ سامنے والے کو خاموش کرانے کے لیے کیا جاتا ہے۔
اگر ہم درست سمت میں ہوتے تو
ہماری زبانیں نرم ہوتیں،
اختلاف میں بھی شائستگی ہوتی،
اور عبادت ہمیں بہتر انسان بناتی—
نہ کہ صرف بہتر دکھنے والا۔
یہ دلیل ہمارے سامنے ہے کہ
جب اعمال زیادہ ہوں مگر اثر کم ہو جائے،
جب عبادت ہو مگر عدل نہ ہو،
جب علم ہو مگر عمل نہ ہو—
تو سمجھ لیجیے،
ہم راستے پر نہیں، کنارے پر کھڑے ہیں۔
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں قرآن ہمیں عدل پر قائم رہنے کا حکم دیتا ہے،
اور ہم مصلحت پر جم جاتے ہیں۔
جہاں ہمیں یاد دلایا گیا کہ
اللہ اعمال کو نہیں، دلوں کو دیکھتا ہے—
مگر ہم دل سنوارنے کے بجائے
چہرے سنوارنے میں لگے ہیں۔
نبی ﷺ نے ہمیں آگاہ کیا تھا کہ
ایک وقت آئے گا جب الفاظ زیادہ ہوں گے،
مگر اثر کم ہو جائے گا؛
دینداری ظاہر میں ہوگی،
مگر امانت اور سچائی کمزور پڑ جائیں گی۔
اور افسوس!
وہ وقت آج ہمارے سامنے کھڑا ہے۔
یہ سب سے کڑا نکتہ ہے:
ہم عبادت کو کافی سمجھ بیٹھے ہیں،
مگر اس کے اثر کو بھول گئے ہیں۔
اگر نماز ہمیں جھوٹ سے نہ روکے،
اگر روزہ ہمیں بددیانتی سے نہ بچائے،
اگر علم ہمیں عاجزی نہ دے—
تو پھر سوال وہی رہتا ہے:
ہم کہاں کھڑے ہیں؟
قرآن ہمیں بار بار یہ اصول سکھاتا ہے کہ
حق کم ہونے سے حق نہیں چھوڑ دیتا،
اور باطل زیادہ ہونے سے حق نہیں بن جاتا۔
مگر ہم نے حق کا معیار تعداد کو بنا لیا—
اور یہی ہماری سب سے بڑی فکری شکست ہے۔
آج ہمیں تقریروں کی کمی نہیں،
مگر کردار کی کمی ہے۔
نعرے بہت ہیں،
مگر نیت کمزور ہے۔
ہم نظام بدلنا چاہتے ہیں،
مگر خود کو نہیں۔
یاد رکھئے!
جب قومیں اپنے گریبان میں جھانکنا چھوڑ دیتی ہیں،
تو تاریخ انہیں جھنجھوڑ کر یاد دلاتی ہے۔
آج بھی وقت ہے۔
آج بھی موقع ہے۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا:
یا تو ہم ہجوم کا حصہ بنیں،
یا حق کا بوجھ اٹھائیں۔
یا ہم شور میں کھو جائیں،
یا سچ کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔
کیونکہ کل جب سوال ہوگا:
تم کہاں کھڑے تھے؟
تو یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم کتنے مشہور تھے،
بلکہ یہ پوچھا جائے گا:
تم حق کے ساتھ تھے یا نہیں؟
اور یہی سوال آج ہم سب سے پوچھ رہا ہے:
ہم کہاں کھڑے ہیں؟
اب یہ سوال کسی مقرر کا نہیں رہا،
یہ سوال ہر اُس شخص کا ہے جو یہ سطور پڑھ رہا ہے:
ہم کہاں کھڑے ہیں؟
بس اس کا جواب دیجیے
🌷۔۔۔فضہ صباحت ۔۔۔🌷