مسواک صرف روحانی اور دینی عبادت ہی نہیں بلکہ جسمانی اور مادی خوبیوں کی سوغات بھی ہے، چنانچہ محبوب العلماء و الصلحاء حضرت مولانا پیر ذو الفقار احمد صاحب نقشبندی مجددی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
“ایک مرتبہ واشنگٹن (امریکہ) کا ایک ڈاکٹر مجھ سے کہنے لگا کہ مسواک کے سوا کریں، میں نے کہا: کیوں؟
وہ کہنے لگا: اس لیے کہ آج کی جدید ریسرچ اور سائنسی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ انسان جو چیزیں کھاتا ہے تو منہ کے اندر پلازما (Plazma) پیدا ہو جاتا ہے، اب یہ پلازما صرف کلی کرنے سے صاف نہیں ہوتا، مسواک کرنا بہت ضروری ہے، عام طور سے سونے کی حالت میں دانت زیادہ خراب ہوتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ جب انسان سوتا ہے اس کا منہ اکثر بند ہوتا ہے، اور بند منہ کے اندر جراثیم کے لیے تنہائی پیدا ہونا بہت آسان ہوتا ہے، اس کے علاوہ دن کے وقت بندہ کبھی بول رہا ہے تو زبان چل رہی ہے، کبھی کھا رہا ہے، کبھی پانی پی رہا ہے، دن کے وقت حرکت کرنے کی وجہ سے پلازما کا مرنے کا موقع نہیں ملتا اور رات کے وقت جب بندہ سوتا ہے تو پلازما کو مرنے کا موقع مل جاتا ہے، اس لیے رات کے وقت دانت زیادہ خراب ہوتے ہیں، صبح اٹھتے ہی دانتوں میں ایک قسم کی میل اور بدبو جمع ہو جاتی ہے، اس لیے مسواک کرنا ضروری چاہیے۔
میں نے (دل ہی دل میں) اللہ کا شکر ادا کیا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ہم آپ رات کو سوتے سوتے اور فجر میں مسواک کے وضو بھی فرماتے تھے، جب بھی انسان کھانا کھا کر فوراً مسواک کرنے کا تو نقصان سے بچے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور ہماری زندگی — ۱۸
ہاتھ دھوتے وقت اور کھانا کھانے کے بعد بھی کرنا چاہیے، حالانکہ منہ کے اندر مٹھاس چپکنے کے بعد اس کے اثرات کافی دیر تک رہتے ہیں، اور اگر اسی وقت کلی کرنے کی عادت پڑ جائے تو تلف ہو جائے گا۔
علاوہ ازیں کتاب میں بہت سے ایسے واقعات قلم بند کیے ہیں کہ جن میں بہت سے لاعلاج امراض جن کے تعلق سے ڈاکٹرز نے دست برداری کر دی، لیکن اللہ پاک نے مسواک کی برکت سے انہیں شفا عطا فرمائی۔ (خواہشمند حضرات سنت نبوی اور جدید سائنس، نامی کتاب سے رجوع کر سکتے ہیں)۔
مفتی صادق امین قاسمی