لتبلون في اموالكم وانفسكم و لتسمعن من الذين اوتوا الكتاب من قبلكم و من الذين اشركو اذى كثيرا و أن تصبروا وتتقوا فان ذلك من عزم الأمور (سورہ ال عمران آیت 186)
ترجمہ ،،تمہاری ضرور آزمائش ہو گی تمہارے مالوں اور جانوں میں اور تمہیں ان لوگوں کی طرف سے جنہیں کتاب دی گئی (یہود و نصاری) اور مشرکین کی طرف سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سننیں پڑے گیں ،اور اگر تم صبر کرو اور پرہیز گاری اختیار کرو تو یہ ہمت اور حوصلہ کی بات ہوگی ،
اس آیت کریمہ میں دو باتیں قابل ذکر ہیں ،ایک یہ کہ دنیا دار الامتحان اور آزمائش گاہ ہے ،یہاں جان و مال کا امتحان ہر کس و ناکس سے ہونا ہے کوئی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے ،،
دوسری بات یہ کہ اہل باطل (یہود و نصاری) اور مشرکین کی طرف سے اسلام اور اہل اسلام کو انکا طعن و تشنیع اور تلخ کلامی کو سننا پڑیگا چونکہ اس آزمائش اور تلخ کلامی سے جزبات مجروح و مشتعل ہو نے کا قوی امکان ہوتا ہے اسلیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے مومنین کو صبرو تقویٰ اورپرہیزگاری کو عملی جامہ پہننے کا حکم فرمایا ہے ،
اس آیت کی تفسیر میں بخاری شریف میں ایک واقعہ مذکور ہے کہ ہجرت کے بعد آپ علیہ الصلواۃ والسلام ایک مرتبہ سواری پر سوار ہوکر قبیلہ خزرج کے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لئے نکلے راستہ میں ایک ایسی مجلس کے پاس سے گزرے جس میں عبد اللہ ابن ابی (رئیس المنافقین) اور مشرکین ،چند یہودی اور بعض مسلمان شریک مجلس تھے ،آپ علیہ الصلواۃ والسلام نے اہل مجلس کو اسلام کی دعوت دی اور قرآن کریم کی آیات سے نصیحت کی تو عبد اللہ ابن ابی سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو سخت و سُست کرنے لگا اور منھ پر کپڑے رکھ کر آپ علیہ الصلواۃ والسلام کو کہا کہ آپ یہاں پر گرد و غبار مت اڑائیں ، ہمیں آپ کی بات اچھی نہیں لگتی ہے ، جایۓ اپنے مجلس والوں کو یہ ساری باتیں خوب سنائیں ،
یہ گفت و شنید چل ہی رہی تھی کہ ایک صحابی رسول حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہماری مجلسوں میں ضرور تشریف لایئے ہم آپ کی بات خوب اچھی طرح سننے کے لئے ہمہ تن گوش رہیں گے، دشمنان اسلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مابین بحث و مباحثہ شروع ہو گیا یہاں تک کہ ہاتھا پائی تک کی نوبت آگئی ،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاملہ کو رفع دفع کراکر مدینہ منورہ کے سردار حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے اور انکو سارے معاملہ سےباخبر کیا، کہ عبد اللہ ابن ابی نے گستاخانہ برتاؤ کیا ہے ،اس پر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے آپ علیہ الصلواۃ والسلام کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ کے مدینہ منورہ تشریف لانے سے پہلے عبد اللہ ابن ابی مدینے کا سردار مقرر ہونے والا تھا اور اب چونک مجھے منتخب کردیا گیا ہے اسلیے اسے بہت ہی زیادہ کلفت ہے ، اسی لئے وہ گستاخ اپنے دل کی بھڑاس آپ پر نکال رہا ہے ، آپ اس کی باتوں کو نظر انداز فرما دیجئے ،!
اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام اور اہل اسلام کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ انہیں بدنام کرنے کی ہرممکن کوشش کی جاتی رہی ہے ، لہذٰا ایسے پرفتن اورناگفتہ بہ حالات میں قرآنی آیات میں اس کا علاج مذکورہے، بالخصوص مذکورہ بالا آیت و ان تصبروا وتتقوا فان ذلك من عزم الامور یعنی ایسے نازک حالات میں مومنین کو چاہیے کہ وہ صبر و تقویٰ اور پرہیز گاری کو لازم پکڑیں کیونکہ یہ ہمت اور حوصلہ کے کاموں میں سے ہے