ہر الزام ایک شخص پر کیوں؟
✍️ مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی
خاموشی کا وقار اور الزام کا ہنر
یہ تحریر اُن دلوں کے نام ہے جو شور مچانے کی طاقت رکھتے ہیں، مگر پھر بھی خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ خاموشی کمزوری نہیں ہوتی، بلکہ وہ ظرف ہوتا ہے جو انسان کو دوسروں کے عیب گنوانے سے روک لیتا ہے۔ بعض لوگ سب کچھ جانتے ہوئے بھی لب سی لیتے ہیں، اس لیے نہیں کہ سچ معلوم نہیں، بلکہ اس لیے کہ سچ کہنے سے پہلے اپنے دل کے ترازو میں انصاف کو تولتے ہیں۔
ہمارا معاشرہ عجیب منطق پر چل پڑا ہے۔ اگر کہیں کوئی خرابی نظر آئے تو فوراً ایک چہرہ ڈھونڈ لیا جاتا ہے جس پر سارا بوجھ رکھ دیا جائے۔ الزام دینا آسان ہے، خود احتسابی مشکل۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ ہماری غلطیاں حالات، مجبوریوں یا کسی اور کے کھاتے میں چلی جائیں، اور دوسروں کی کوتاہیاں پوری شدت کے ساتھ نمایاں ہو جائیں۔ یوں ایک فرد کو مجرم ٹھہرا کر باقی سب اپنے آپ کو معصوم سمجھنے لگتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ غلطی کس سے ہوئی، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم سچ کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتے بھی ہیں یا نہیں۔ جب ایک انسان اپنی ذات پر لگے ہر الزام کو سننے کا حوصلہ رکھ لے، اور پھر بھی بدلے میں کیچڑ اچھالنے کے بجائے خاموشی اختیار کرے، تو یہ اس کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی اخلاقی بلندی ہوتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہر عیب کا جواب شور نہیں ہوتا، بعض اوقات وقار ہی سب سے مضبوط جواب بن جاتا ہے۔
اگر ہم واقعی ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں الزام تراشی کی عادت چھوڑ کر ذمہ داری بانٹنا سیکھنا ہوگا۔ یہ ماننا ہوگا کہ شہر میں کوئی بھی مکمل معصوم نہیں، اور کوئی بھی مکمل مجرم نہیں۔ ہر انسان میں غلطی کی گنجائش بھی ہے اور اصلاح کی صلاحیت بھی۔ جب ہم دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنی ہتھیلی کو دیکھنا سیکھ لیں گے، تب شاید خاموش لوگ بولنے لگیں گے، اور بولنے والے کچھ دیر خاموش ہو کر سوچنے لگیں گے۔
یہی سوچ دلوں کو جوڑتی ہے، یہی رویہ انسان کو انسان کے قریب لاتا ہے، اور یہی وہ ظرف ہے جو شور سے نہیں، کردار سے پہچانا جاتا ہے۔