نیا سال

 ✍️ محمد علی سبحانی‌ 
      دیوبند

نیا سال بظاہر خوشیوں اور جشن کا نام لگتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک گہرا اور سنجیدہ لمحہ ہوتا ہے۔
یہ وقت ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ہماری زندگی سے ایک اور قیمتی سال خاموشی سے گزر گیا اور ہم نے بہت سارا وقت فضول کاموں میں گزار دیا۔
وہ سال جس میں ہم نے بہت سے خواب دیکھے، بہت سی منصوبہ بندیاں کیں۔
نیا سال ہمیں رک کر اپنی زندگی کا Introspection (محاسبہ) کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ ہمیں خود سے سوال کرنا چاہیے کہ جو Planning ہم نے گزشتہ سال کی تھی، اس میں سے کتنے کام ہم پورے کر سکے۔
کتنے اہداف تھے جو ارادوں تک محدود رہ گئے اور کتنے خواب ادھورے رہ گئے۔
یہ لمحہ خود احتسابی کا ہے، خود سے نظریں ملانے کا ہے۔
میرے ایک پروفیسر ہمیشہ حوصلہ دینے کے لیے کہا ہمیشہ کرتے تھے:
“Past is past, it never comes again, look for the future.”
یہ الفاظ ہمیں ماضی کے افسوس میں قید نہیں کرتے بلکہ آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔
نیا سال ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم دوبارہ عزم کریں۔
اپنی کمزوریوں اور ناکامیوں کو تسلیم کریں اور بہتر بننے کی کوشش کریں۔
نئے سال کی Planning صرف خواہشات پر نہیں بلکہ عمل پر مبنی ہونی چاہیے۔
ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ آنے والا سال بے مقصد نہ گزرے۔
ہر دن کو ذمہ داری، شعور اور احساس کے ساتھ جینے کا ارادہ کرنا چاہیے۔
یوں نیا سال خوشی کا نہیں بلکہ شعور، احساس اور نئے عزم کا موقع ہونا چاہیے۔