📌 ایک کنجوس شخص کا اپنی بیوی کو طلاق دینا ؛

جاحظ کتاب البخلاء میں نقل کرتے ہیں ؛

ابراہیم النظام کہتے ہیں ؛ ہمارے ایک پڑوسی نے ہمیں کھانے پر بلایا۔ اس نے ہمیں کھجوریں اور پگھلی ہوئی چربی کھلائی اور ہم ایک دستر خوان پر بیٹھے تھے جس پر ان چیزوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ ہمارے ساتھ ایک خراسانی شخص بھی کھانا کھا رہا تھا میں نے دیکھا کہ وہ دستر خوان پر اس قدر گھی ٹپکاتا جا رہا تھا کہ حد سے بڑھ گیا۔ میں نے اپنے پاس بیٹھے ایک شخص سے کہا ؛ اس شخص کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ لوگوں کا گھی ضائع کر رہا ہے کھانے میں بد سلیقگی کر رہا ہے اور حد سے زیادہ لے رہا ہے؟

اس نے کہا ؛ کیا تم اس کی وجہ نہیں جانتے؟

میں نے کہا ؛ نہیں خدا کی قسم

اس نے کہا ؛ یہ دستر خوان اسی (یعنی گھی ٹپکانے والے) کا ہے وہ چاہتا ہے کہ اس کے دستر خوان میں خوب چکنائی جذب ہو جائے تاکہ وہ اس کے لیے چمڑا تیار کرنے کی طرح ہو جائے اور اس نے اپنی بیوی کو جو اس کے بچوں کی ماں تھی صرف اس لیے طلاق دے دی کہ اس نے دیکھا کہ اس عورت نے اس کا دستر خوان گرم پانی سے دھو دیا تھا۔ اس نے اس سے کہا ؛ تم نے اسے دھونے کی بجاۓ صرف پونچھنے پر ہی اکتفاء کیوں نہ کیا ؟