شبِ معراج: تاریخ کی دھند اور عبادت کی حقیقت
مفتی محمد ابراہیم غفاری
ibrahimgifari@gmail.com
شبِ معراج اسلامی تاریخ کا وہ تابندہ باب ہے جس میں زمین و آسمان کے فاصلے سمٹ گئے اور محبوبِ کبریا ﷺ کو وہ شرفِ قرب عطا ہوا جس کی نظیر کائنات میں نہیں ملتی۔ مگر افسوس کہ اس عظیم واقعے سے وابستہ تاریخ اور اس کی بعض نسبتوں کے باب میں امت کے درمیان غیر ضروری قطعیت پیدا کر لی گئی ہے، حالاں کہ محدثین اور مؤرخین کی نگاہ میں یہ مسئلہ ابتدا ہی سے مختلف فیہ رہا ہے۔
واقعۂ معراج کے بارے میں یہ بات پورے وثوق سے نہیں کہی جا سکتی کہ وہ لازماً ستائیس رجب ہی کی شب تھی۔ تاریخ، دن اور مہینے کے تعین میں روایات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ کسی نے ربیع الاول کا ذکر کیا، کسی نے رمضان کا، کسی نے شوال کا اور کسی نے رجب کا نام لیا۔ اگرچہ عوامی سطح پر ستائیس رجب زیادہ معروف ہو گئی ہے، مگر شہرت، تحقیق کی جگہ نہیں لے سکتی۔
اسی طرح اس شب کو مخصوص عبادت کے ساتھ ممتاز کرنے کے لیے کتبِ حدیث میں کوئی صریح اور صحیح دلیل موجود نہیں۔ جو روایات اس مقصد کے لیے بیان کی جاتی ہیں، وہ یا تو ضعف کا شکار ہیں یا سند و متن کے اعتبار سے اعتماد کے قابل نہیں۔ ائمۂ حدیث نے ان روایات پر کلام کیا ہے اور انہیں حجت بنانے سے احتراز کیا ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص عام راتوں کی طرح اس شب میں بھی ذکر و عبادت کر لے تو شریعت کی نگاہ میں اس پر کوئی گرفت نہیں، کیونکہ نیکی ہر وقت نیکی ہے، مگر اسے لازم یا خاص سمجھ لینا درست نہیں۔
اسی قبیل سے اگلے دن کے روزے کا مسئلہ بھی ہے۔ عوام میں یہ بات زبان زدِ عام ہے کہ شبِ معراج کے بعد کا روزہ ہزار روزوں کے برابر ہے، حالاں کہ اس دعوے کے حق میں کوئی صحیح روایت موجود نہیں۔ اہلِ علم نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ اس نسبت کی کوئی اصل نہیں، اور یہ محض عوامی روایت ہے جسے تحقیق کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو وہ قائم نہیں رہتی۔
تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ واقعۂ معراج نبوت کے دسویں سال پیش آیا، اس وقت رسولِ اکرم ﷺ کی عمر مبارک تقریباً پچاس برس تھی۔ بعض روایات اسے ہجرت سے چند ماہ قبل بتاتی ہیں اور بعض تین سال قبل قرار دیتی ہیں، جن میں آخری قول زیادہ راجح معلوم ہوتا ہے۔ عیسوی حساب سے یہ عظیم واقعہ تقریباً ۶۲۱ء میں پیش آیا۔ دن کے تعین میں بھی اختلاف ہے، اگرچہ بعض کتب میں ہفتے کے دن کا ذکر ملتا ہے۔
یوں شبِ معراج ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ دین کا حسن جذبات میں نہیں، تحقیق، اعتدال اور اتباعِ سنت میں ہے۔ عقیدت جب علم کے چراغ سے روشن ہو جائے تو وہ بدعت نہیں بنتی، اور عبادت جب دلیل کے سہارے کی جائے تو مقبولیت کا درجہ پا لیتی ہے۔
https://chat.whatsapp.com/HVmBQOsLVRYBHRGbA1EiGr