ابھی چند سال قبل عون الترمذی کے نام سے ایک بہترین، علمی شرح منظر عام پر آئی، شارح حضرت مولانا ابو صابر عبداللہ صاحب ہیں جو جامعہ شرعیہ، مالی باغ، ڈھاکہ بنگلہ دیش کے استاذ حدیث ہیں، حضرتِ شارح یقینا قابل داد ہیں جنہوں نے بڑی کدو کاوش اور سعی کرکے اچھوتے طرز کی شرح لکھی!
سب سے پہلے حدیث لکھ کر ترجمہ فرمایا اور تحفۃ الاحوذی کے طرز پر عربی میں لغات حل کئے، لغت کے ساتھ ہی شارح نے معنی حدیث بھی مختصرا لکھ دئے، پھر شرح حدیث کا عنوان قائم فرمایا اور ہر جہت سے حدیث کی شرح فرمائی
*اس شرح کی خصوصیات خود شارح لکھتے ہیں:*
ہر کتاب اورابواب کےشروع میں ایک مختصر اور مفید مقدمہ پیش کیا گیا
۲-ابواب و احادیث پر نمبر ڈالا گیا
۳-یر حدیث کا مطلب خیز سلیس ترجمہ کیا گیا
۴-معتبر شروح و حواشی سے الفاظ کی تحقیق پیش کی گئی
۵-شرح الحدیث، فقہ الحدیث، اور حکم الحدیث پر کلا کیا گیا
۶-معاشرتی اور اخلاقی مسائل پر گفتگو کی گئی
۷-موقع بہ موقع جدید پیش آمدہ مسائل پر بھی گفتگو کی گئی
۸-معترضین اور جدت پسندوں کے شکوک و شبہات کا تشفی بخش جواب دیا گیا
۹- ترمذی کی جن احادیث کی تضعیف کی گئی ان پر کلام کیا گیا
۱۰-صحاح ستہ کی احادیث کی تخریج کی گئی
*نیز یہ شرح اردو میں کی گئی تاکہ افادہ و استفادہ عام ہو لیکن تحقیق الفاظ، تخریج حدیث اور درجۃ الحدیث کا بیان عربی میں ہے تاکہ خواص کےلئے بھی دلچسپی کا باعث بنے*(انتہی کلامہ مع تغییر یسیر)
*یہ بیان صرف ادعا نہیں بلکہ حقیقت بھی ہے چنانچہ*
علامات قیامت کا بیان آیا تو علامات کی اقسام لکھی، علامات قریبہ اور بعیدہ کی وضاحتیں لکھیں، تربیب زمانی کے مطابق علامات کی فہرست لکھی ، اور مفصل مفید بحث کرکے شرح حدیث کا آغاز فرمایا، جہاں اقوال مختلف تھے وہاں دیگر اقوال لکھ کر قول راجح کی ترجیح فرمائی اور بڑی محنت کے ساتھ وفی الباب کی احادیث کی تخریج فرمائی کہ اس حدیث کو فلاں مصنف نے فلاں باب میں رقم کیا ہے! ہاں یہ کام صاحب تحفۃ الاحوذی نے بھی کیا ہے لیکن حضرت شارح نے مزید محنت کرکے قدرے تفصیل کے ساتھ تخریج کا کام انجام دیا ہے-
نیز ان تمام مباحث کےلئے اکابر محدثین کی معتمد کتابوں کو معیار بنایا ہے،
کہیں فتح الملہم کا ذکر ہوتا ہے کہیں تحفۃ الاحوذی کا، کہیں المسک الشذی کا کہیں الکوکب الدری کا، کہیں اوجز کا حوالہ آتا تو کہیں بذل الجہود، کسی مقام پر ملا علی قاری نظر آتے ہیں تو کسی جگہ علامہ طیبی کے اقوال ملتے ہیں، کہیں قاضی عیاض مالکی ہیں تو کہیں علامہ نووی کے نودرات بکھرے پڑے ہیں اور بھی بہت سی معتبر کتب شارح کے پیش نظر ہیں
خدا نہیں جزاء خیر عطاء فرمائے اور ہم طالبین حدیث کو اس کتاب کی قدردانی کی توفیق عطاء کرے۔۔
واضح ہو کہ یہ شرح تین جلدوں میں ہے جو دیوبند کے مشہور مکتبوں میں دستیاب ہے جس کی قیمت تقریبا 400- 450 کے درمیان ہے....!