الفاظ چند، مگر خواب پوری زندگی کے
✍️ مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی
دعا نہیں، ایک مکمل زندگی کا نقشہ ہے
اے پروردگار! مجھے علم اور دانِش عطا فرما،
اور نیکوکاروں میں شامل فرما،
اور بعد والے لوگوں میں میرا ذکرِ نیک باقی رکھیو،
اور مجھے نعمتوں کی بہشت کے وارثوں میں شامل فرما۔
یہ محض چند الفاظ نہیں، یہ ایک انسان کی پوری زندگی کا خلاصہ ہیں۔ یہ دعا اس دل کی آواز ہے جو دنیا کی ہنگامہ خیزی میں کھو جانے کے بجائے اپنی اصل پہچان کو تلاش کرنا چاہتا ہے۔ جب انسان یہ الفاظ پڑھتا ہے تو گویا وہ اپنے رب کے سامنے کھڑا ہو کر یہ اقرار کرتا ہے کہ اے اللہ! مجھے صرف جینا نہیں، صحیح طریقے سے جینا سکھا دے۔
“مجھے علم اور دانِش عطا فرما”
یہ جملہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ علم صرف کتابوں میں محفوظ معلومات کا نام نہیں، بلکہ دانِش وہ روشنی ہے جو علم کو عمل کا راستہ دکھاتی ہے۔ بہت سے لوگ جانتے ہیں، مگر سمجھتے نہیں؛ بہت سے پڑھتے ہیں، مگر بدلتے نہیں۔ اس دعا میں انسان یہ مانگ رہا ہے کہ اے اللہ! مجھے ایسا علم دے جو میرے غرور میں اضافہ نہ کرے بلکہ میری عاجزی بڑھائے، جو مجھے دوسروں سے بلند نہ کرے بلکہ دوسروں کے لیے مفید بنا دے۔
“اور نیکوکاروں میں شامل فرما”
یہاں انسان اپنی تنہائی قبول کرتا ہے۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ مجھے سب سے آگے کر دے، بلکہ کہتا ہے کہ مجھے اچھے لوگوں کی صف میں جگہ دے دے۔ کیونکہ اصل کامیابی اکیلے نیک بن جانا نہیں، بلکہ نیکی کے قافلے کا حصہ بن جانا ہے۔ نیکوکاروں کی صحبت انسان کے دل کو سنوارتی ہے، اس کے ارادوں کو مضبوط کرتی ہے اور اس کے قدموں کو سیدھا رکھتی ہے۔
“اور بعد والے لوگوں میں میرا ذکرِ نیک باقی رکھیو”
یہ دنیا میں نام کمانے کی خواہش نہیں، بلکہ اثر چھوڑنے کی دعا ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ اس کے جانے کے بعد بھی اس کی خیر باقی رہے، اس کے لفظ لوگوں کے لیے دعا بن جائیں، اس کا عمل کسی کے لیے راستہ بن جائے۔ یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ اصل وراثت دولت نہیں، بلکہ کردار ہے۔ وہ کردار جو آنے والی نسلوں کے لیے امید کی کرن بن جائے۔
“اور مجھے نعمتوں کی بہشت کے وارثوں میں شامل فرما”
آخر میں انسان اپنی اصل منزل کا اعتراف کرتا ہے۔ وہ مانتا ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے، اصل ٹھکانہ وہ ہے جہاں نہ خوف ہوگا نہ غم۔ یہ دعا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا کی کامیابیاں اگر آخرت سے خالی ہوں تو ادھوری ہیں، اور دنیا کی ناکامیاں اگر اللہ کی رضا سے جڑی ہوں تو وہی اصل کامیابی ہیں۔
یہ دعا دراصل ہر اس انسان کی کہانی ہے جو بہتر بننا چاہتا ہے، جو اپنے رب سے جڑا رہنا چاہتا ہے، جو چاہتا ہے کہ اس کی زندگی بامقصد ہو اور اس کا انجام کامیاب۔ جب ایک عام آدمی یہ الفاظ دل سے پڑھتا ہے تو وہ خود کو اس میں پاتا ہے، اپنی کمزوریاں، اپنی امیدیں اور اپنی دعائیں سب اسی ایک دعا میں سمٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔
یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان ہونے کا حق صرف سانس لینا نہیں، بلکہ علم، نیکی، اچھے اثر اور آخرت کی تیاری کے ساتھ جینا ہے۔ اور جو شخص اس دعا کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لے، اس کا ہر دن عبادت بن جاتا ہے، اور اس کی خاموشی بھی اللہ کے حضور قبولیت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔