زمانۂ طالب علمی ایک مسلسل سفر کی مانند ہے۔ اس سفر میں ہر طالب علم کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ وہ اپنے طالب علمی کے دور کو نمایاں کردار اور بہترین اوصاف سے مزین کرے تاکہ ہر شخص اس کی مثال دے اور اسے پسند کرے۔ دراصل یہی ایک طالب علم کا اصل کمال ہے۔

اگر کوئی طالب علم علمی صلاحیتیں تو سیکھ رہا ہو، علم حاصل کر رہا ہو اور علمی زندگی کو سمجھ رہا ہو، لیکن اس پر عمل نہ کرے، تو آٹھ دس سال لگانا ایسے ہی ہے جیسے اپنا قیمتی وقت ضائع کر دینا۔ انسان جب کوئی قیمتی چیز کھو دیتا ہے تو اسے افسوس ضرور ہوتا ہے، لیکن اس افسوس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ زندگی سے ہار مان لے یا کوئی منفی قدم اٹھا لے، بلکہ اسے مزید محنت اور سنجیدگی کے ساتھ اپنی کمی پوری کرنی چاہیے۔

طالب علم کی شان اور اس کے مقام و مرتبہ کو قرآن و احادیث میں بھرپور انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ ۗ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ

(الزمر: 9)

"کیا وہ شخص برابر ہو سکتا ہے جو رات کے اوقات میں سجدے اور قیام کی حالت میں عبادت کرتا ہے، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہے؟ کہہ دیجیے: کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟ یقیناً نصیحت تو وہی قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔"

لہٰذا ہر طالب علم پر لازم ہے کہ وہ علم حاصل کرے، اس پر عمل کرے اور اپنے کردار کو اس قدر بلند کرے کہ وہ دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بن جائے۔

جہاں طالب علم اپنا علمی سفر طے کرتا ہے، وہاں اس کے لیے چند باتوں کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ اپنے علوم میں پختگی پیدا کرنے کے لیے تکرار اور مطالعہ کا سلسلہ مسلسل جاری رکھنا چاہیے اور اس کی پابندی کو انتہائی اہمیت دینی چاہیے۔

مولانا اشرف علی تھانویؒ نے تکرار اور مطالعہ کی اہمیت پر بارہا زور دیا ہے۔

مولانا اشرف علی تھانویؒ کا ہی مشہور قول ہے:

"تکرار علم کی جان ہے۔ بغیر تکرار کے علم دل میں جم نہیں سکتا۔

نیز فرماتے ہیں کہ علم کا حاصل ہونا اور اس کا باقی رہنا دو الگ چیزیں ہیں۔ حاصل کرنے کے لیے محنت اور مطالعہ ضروری ہیں، اور باقی رکھنے کے لیے کثرتِ تکرار اور مزاولت لازم ہیں۔

یعنی صرف سبق پڑھ لینا کافی نہیں، جب تک اس کی بار بار دہرائی اور گہرا مطالعہ نہ کیا جائے، علم پائیدار اور دل میں راسخ نہیں رہتا۔

اللہ عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین۔

✍🏻 از: محمدریحان ضیاءالحق عفي عنہ

خادمِ تدریس، مدرسہ ریاض الجنۃ، دھولیہ (مہاراشٹر)

وخادم القرآن، مجمع عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، لحلقات القرآن الکریم عن بُعد، بالمدینۃ المنورۃ۔