اللہ تعالی نے آقاۓ نامدار مدنئ تاجدار محبوبِ کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں پر یہ بھی احسان فرمایا ہے کہ ہم آقائے نامدار حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی جتنی بھی تعریف کر سکتے ہیں، جس قدر بھی مدح سرائی کر سکتے ہیں، جتنے بھی آپ کے محاسن بیان کر سکتے ہیں، جتنی بھی آپ کی خوبیاں بیان میں لا سکتے ہیں، اتنی ہی کم ہیں، اس میں مبالغہ کا ذرا بھی تصور نہیں، ہمارے پاس جتنے الفاظ ہیں، جتنی تعبیرات ہیں، جتنے تخیلات ہیں، جتنے تصورات ہیں، غرض جتنے بھی تعریفی اور مدحیہ جُمَل وکلمات ہیں، رب العزت والجلال نے مدنئ تاجدار حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰه علیه وسلم کا مرتبہ ان سب سے بڑھا کر رکھا ہے، یہ میرے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی امتیازی شان ہے، ہم تعریف اور مدح سرائی کا جو جملہ بھی بول سکتے ہیں جو بات بھی کہ سکتے ہیں جو لفظ بھی لکھ سکتے ہیں ، ہم بولیں، لکھیں، کہیں، مگر میرے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰه علیه وسلم اس سے کروڑہا درجہ افضل و اعلیٰ ہیں۔
آقائے نامدار حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰه علیه وسلم سے پیار کرنا ہمارے ایمان کی علامت ہے، آپ سے غیر معمولی محبت کرنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے، اولاد و والدین سے زیادہ آپ کو محبوب رکھنا ایمانِ کامل کی نشانی ہے، آپ کی اتباع و پیروی میں ہی ہماری ترقی کا راز مضمر ہے، آپ کی عزت وعصمت پر جان نچھاور کرنا ہماری ضرورت ہے، کائنات کا وجود آپ کے صدقے ہے، اہلِ دنیا نے انسانیت کے اصول آپ سے سیکھے ہیں، زمین وآسمان نے آپ سے افضل شخص کبھی نہیں دیکھا، مناظرۂ ارض وسماء میں زمین کی جیت آپ سے اتصال کی بناء پر ہے، مولانا احمد رضا صاحب کے شعر میں معمولی ترمیم کے ساتھ۔
خم ہوگئی پشتِ فلک اس طعنِ زمیں سے
سن مجھ پے محمد ہے وہ رتبہ ہے ہمارا
عورت کو عَوْرت (ستر) بنانے میں آپ کا کردار ہے، اپنوں نے آپ پر جان لٹائی ہیں، غیر بھی آپ پر قربان ہوۓ ہیں، اس جہانِ رنگ و بو کی نشونما آپ ہی کے طفیل ہے، چودھویں رات کا چاند آپ کے ساتھ کوئی مساوات نہیں رکھتا، اماں عائشہ صدیقہ (رضی اللہ تعالی عنہا) آپ کے حسن سے تاریکی میں سوئی تلاش کر لیتی تھی، ہر اول نظر دیکھنے والا آپ کے روۓ مبارک پر فریفتہ ہو جاتا، امی جان(رضی اللہ تعالی عنہا) آپ کے اخلاقِ حسنہ کو "صار خُلُقُهٗ القرآن" سے تعبیر کرتی ہیں،
آپ کے اخلاق میں قرآن ہے رطب اللساں
سرمگیں آنکھیں لۓ تھا خوب روۓ مصطفیٰ
آپ خدا کے لاڈلے ہیں، آپ سبھی انبیاء کے دُلارے ہیں، باری تعالیٰ مزمل ومدثر جیسے القابات کے ساتھ آپ سے اظہارِ محبت کرتا ہے، آپ نبی الأنبیاء ہیں، آپ خاتم النبیین ہیں، آپ رحمۃ للعالمین ہیں، آپ شفیع للمذنبین ہیں، آپ صادق المصدوق ہیں، آپ جوامع الکلم ہیں، آپ خلاصۂ کائنات ہیں، آپ پر ہر وصف کی انتہاء ہے، آپ صاحبِ معراج ہیں، مقامِ محمود آپ ہی کا مرتبہ ہے، آپ کا مقام سب سے نمایاں ہے، خدا کے بعد آپ ہی کا رتبہ ہے۔
لایمکن الثناء کما کان حقہ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
تحریر: عبد اللہ یوسف
٢/ربیع الثانی ١٤٤٧ھ۔
بہ روز جمعرات