انسان ہونا کافی نہیں، انسانیت زندہ رکھنا لازم ہے
✍️ مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی
انسان ہونا عطیۂ قدرت ہے، انسانیت کو زندہ رکھنا ہمارا امتحان
انسان ہونا ہمارا انتخاب نہیں، یہ قدرت کی عطا ہے؛ مگر اپنے اندر انسانیت کو زندہ رکھنا، یہ وہ انتخاب ہے جو ہمیں روز کرنا پڑتا ہے۔ دنیا میں آنا ہمارے اختیار میں نہیں، مگر دنیا میں کیسے جینا ہے—یہ مکمل طور پر ہمارے فیصلوں پر منحصر ہے۔
آج کا معاشرہ تیز رفتار ہے۔ یہاں کامیابی کے پیمانے بدلے جا چکے ہیں: عہدہ، دولت، شہرت اور طاقت۔ ان سب کے بیچ کہیں نہ کہیں انسانیت خاموش ہو جاتی ہے۔ ہم مصروف ہیں، مگر حساس نہیں؛ باخبر ہیں، مگر باہمی درد سے ناواقف؛ زبان رکھتے ہیں، مگر دل کی بات سننے کا وقت نہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں انسان ہونے اور انسانیت رکھنے کے درمیان فاصلہ نمایاں ہو جاتا ہے۔
انسانی نفسیات ہمیں بتاتی ہے کہ ہر شخص اندر سے سنا جانا چاہتا ہے، سمجھا جانا چاہتا ہے، اور قبول کیا جانا چاہتا ہے۔ ایک مسکراہٹ، ایک نرم جملہ، ایک لمحے کی توجہ۔یہ سب معمولی دکھائی دیتے ہیں، مگر دلوں پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ اکثر اوقات لوگ ہمارے حل نہیں، ہماری ہم دردی چاہتے ہیں۔ معاشرے کی سختیوں میں پِسے انسان کے لیے سب سے بڑی دوا یہ احساس ہے کہ وہ اکیلا نہیں۔
کامن سینس یہی کہتی ہے کہ جس معاشرے میں اعتماد ٹوٹ جائے، وہاں قوانین بھی بے اثر ہو جاتے ہیں۔ اور اعتماد صرف انسانیت سے جنم لیتا ہے: وعدہ نبھانے سے، انصاف کرنے سے، کمزور کا ساتھ دینے سے، اختلاف کے باوجود احترام قائم رکھنے سے۔ جب ہم اپنی سہولت کو اخلاق پر ترجیح دیتے ہیں تو شاید وقتی فائدہ حاصل ہو جائے، مگر اجتماعی نقصان یقینی ہو جاتا ہے۔
حالات چاہے جیسے بھی ہوں، انسانیت کا دامن تھامنا ممکن ہے۔ غصے کے جواب میں نرمی، نفرت کے مقابلے میں فہم، اور خودغرضی کے سامنے ایثاریہ سب آسان نہیں، مگر یہی اصل انسانیت ہے۔ نفسیاتی طور پر بھی یہی رویے ہمیں اندر سے مضبوط بناتے ہیں؛ کیونکہ جو انسان دوسروں کے لیے
آسانی بنتا ہے، وہ خود اپنے لیے بھی سکون پیدا کرتا ہے۔
آخر میں سوال یہ نہیں کہ ہم کتنے کامیاب ہیں، سوال یہ ہے کہ ہماری کامیابی کے ساتھ کتنے دل محفوظ رہے؟ ہم نے کتنے بوجھ ہلکے کیے؟ کتنی امیدیں جگائیں؟ انسان ہونا تو ہمیں مل گیا، اب انسانیت کو بچانا ہماری ذمہ داری ہے۔اور یہی ذمہ داری ہمیں واقعی انسان بناتی ہے۔
کیونکہ دنیا کو مزید ذہین لوگوں کی نہیں، مزید مہربان انسانوں کی ضرورت ہے۔