یہ تصویر انسان کو وقت کی حقیقت اور اس کی بے حد اہمیت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ گھڑی، جو ہر لمحہ خاموشی سے آگے بڑھ رہی ہے، اس بات کی علامت ہے کہ وقت نہ کسی کا انتظار کرتا ہے اور نہ ہی دوبارہ لوٹ کر آتا ہے۔ اس پر درج الفاظ “Don’t waste your time” گویا ایک مسلسل نصیحت ہیں جو ہمیں جھنجھوڑ کر یہ احساس دلاتی ہیں کہ زندگی کے لمحے لمحے میں ایک امتحان پوشیدہ ہے۔ انسان عموماً اس غلط فہمی میں مبتلا رہتا ہے کہ ابھی بہت وقت باقی ہے، کل کر لیں گے، پرسوں سوچیں گے، مگر یہی سوچ رفتہ رفتہ اس کی ساری توانائیاں کھا جاتی ہے اور جب آنکھ کھلتی ہے تو بہت سا وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔ وقت کا ضیاع صرف فارغ بیٹھنے کا نام نہیں بلکہ بے مقصد مصروفیات، سستی، غفلت اور غیر ضروری مشاغل میں الجھے رہنا بھی وقت کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔
دانش مند وہی ہے جو وقت کو اپنا دوست بنا لے، کیونکہ وقت اگر صحیح سمت میں استعمال ہو تو یہی انسان کو بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔ طالب علم کے لیے وقت اس کا سب سے بڑا سرمایہ ہے، جس کے ذریعے وہ علم، فہم اور کردار کی تعمیر کر سکتا ہے۔ اسی طرح ہر شعبۂ زندگی میں کامیابی کا راز وقت کی قدر میں پوشیدہ ہے۔ اسلام نے بھی وقت کو غیر معمولی اہمیت دی ہے، قرآن مجید میں مختلف مقامات پر وقت کی قسم کھا کر انسان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان، عمل صالح اور صبر کو اختیار کرتے ہیں۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وقت کا درست استعمال انسان کو نجات اور کامیابی کی راہ دکھاتا ہے۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم ہر دن، ہر گھڑی اور ہر لمحے کو قیمتی سمجھیں، اپنے وقت کا حساب کریں اور اسے بامقصد اعمال، علم کے حصول، خود سازی اور دوسروں کی بھلائی میں صرف کریں۔ جو قومیں وقت کی قدر کرنا سیکھ لیتی ہیں وہ تاریخ میں زندہ رہتی ہیں، اور جو وقت کو ضائع کر دیتی ہیں وہ خود تاریخ کا حصہ بن کر رہ جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وقت کو ضائع کرنا دراصل اپنی زندگی کو ضائع کرنا ہے، اور وقت کی حفاظت کرنا ہی زندگی کو سنوارنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
✍🏻ہانیہ فاطمہ قادری
📚دارالقلم ریسرچ سینٹر 📚