*عورت کی حقیقت اور خود ساختہ فیصلوں سے تجاوز*
کچھ سچائیاں شور نہیں کرتیں، وہ دروازہ کھٹکھٹاتی ہیں، اور کچھ رشتے زبان سے نہیں بلکہ آنکھوں کے آنسوؤں سے پہچانے جاتے ہیں، عورت کی حقیقت کسی فلسفے میں قید نہیں، وہ فیصلوں کی میز پر نہیں بلکہ دل کے کونے میں بیٹھتی ہے، وہ وہ ہستی ہے جو اصول توڑنے سے نہیں گھبراتی مگر رشتے توڑنے سے کانپ جاتی ہے، یہ تحریر عورت کے اسی پہلو کی ترجمان ہے جو نظر انداز ہو جائے تو معاشرہ بے دروازہ ہو جاتا ہے، اور اگر سمجھ لیا جائے تو ہر بند در بھی کھل جاتا ہے، یہ کہانی کسی ایک گھر کی نہیں بلکہ ہر اس دل کی ہے جہاں عورت نے اپنے وجود سے زیادہ رشتوں کو مقدم رکھا۔
ایک میاں بیوی نے آپس میں طے کیا کہ وہ کسی بھی آنے والے کے لیے دروازہ نہیں کھولیں گے،چنانچہ ایک دن شوہر کے والدین آئے اور دروازہ کھٹکھٹانے لگے، میاں بیوی دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور عزم کے ساتھ فیصلہ پر قائم رہے، دروازہ نہ کھولا، یہ وہ لمحہ تھا جہاں اصول، ضد اور خودساختہ فیصلے انسان کو جذبات سے عاری بنا دیتے ہیں، رشتوں کی آواز دروازے پر تھی مگر دل کے دروازے بند تھے، کچھ ہی دیر گزری تھی کہ بیوی کے والدین آئے اور دروازہ بجانے لگے، شوہر نے بیوی کی طرف دیکھا تو آنکھوں میں آنسو تھے، بیوی نے کہا واللہ میرے والدین کو در پر کھڑا دیکھنا مجھ سے برداشت نہیں ہوتا، میں دروازہ ضرور کھولوں گی، یہاں عورت کی وہ فطرت بول پڑی جو محض فیصلوں سے نہیں، احساس سے جیتی ہے، وہ اصول توڑ سکتی ہے مگر رشتہ نہیں، وہ خود کو روک سکتی ہے مگر والدین کی بے بسی نہیں دیکھ سکتی، شوہر خاموش رہا اور یہ بات اپنے دل میں چھپا لی، یوں بیوی نے اپنے والدین کے لیے دروازہ کھول دیا، یہ دروازہ صرف لکڑی کا دروازہ نہیں تھا، یہ رحم، وفا اور رشتوں کی پہچان کا دروازہ تھا جو ایک عورت نے کھولا۔
سال گزرتے گئے اور اللہ نے انہیں چار بیٹوں سے نوازا، پھر پانچویں اولاد کے طور پر ایک بیٹی پیدا ہوئی، باپ اس بیٹی کی پیدائش پر بہت خوش ہوا اور خوشی میں قربانی کی، یہ خوشی عام خوشی نہ تھی، یہ وقت کے ساتھ پختہ ہونے والی سمجھ کی خوشی تھی، لوگوں نے حیرت سے پوچھا بیٹوں کے مقابلے میں تمہاری بیٹی کی پیدائش پر اتنی زیادہ خوشی کیوں؟ باپ نے نہایت سادگی سے جواب دیا *یہی بیٹی ہے جو میرے لیے دروازہ کھولے گی* یہ جملہ محض ایک باپ کا جذبہ نہیں بلکہ ایک پوری حقیقت کا اعتراف تھا، بیٹے طاقت بن سکتے ہیں، سہارا بن سکتے ہیں، مگر بیٹی دروازہ بن کر کھلتی ہے دل کا دروازہ، احساس کا دروازہ، تنہائی کا دروازہ، جو عورت کی حقیقت نہیں سمجھتا، وہ اس کی قدر کو بھی نہیں جانتا، عورت محض تابع نہیں، وہ محافظ ہے، وہ صرف ماننے والی نہیں، سمجھنے والی ہے، وہ صرف گھر میں رہنے والی نہیں، گھر کو جوڑے رکھنے والی ہے۔
مت ٹٹولا کیجئیے میرے لفظوں سے میری ذات 
اپنی ہر تحریر کا عنوان نہیں ہوں میں۔

یہی اس تحریر کی روح ہے کہ ہر عورت اپنی کہانی خود نہیں سناتی، بعض عورتیں خاموشی میں وہ سب کہہ جاتی ہیں جو لفظوں میں نہیں سما سکتا، عورت کو کمزور سمجھنا سب سے بڑی کمزوری ہے، اور بیٹی کو بوجھ سمجھنا انسان کے دل پر سب سے بھاری خود ساختہ بوجھ ہے،یقینا رشتے کی قدر کو جس نوعیت سے ایک عورت سمجھ سکتی ہے اسکو مرد نہیں سمجھ سکتے،تواریخ کے بے انتہا اوراق اس چیز پر شاہد ہیں کہ بیٹی نے خود اپنی زندگی کو داؤ پر لگا کر اپنے رشتوں کی حفاظت کی ہے۔یہ بات بالکل حق ہے کہ جو درد ایک عورت محسوس کرتی ہے، وہ درد مرد بہت کم محسوس کرتے ہیں، عورت کا دل صرف اپنے لیے نہیں دھڑکتا، وہ پورے گھر کے لیے دھڑکتا ہے، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہم آزمائش کی منازل طے کر رہے ہیں اور روزمرہ زندگی میں قدم قدم پر امتحان آتے رہتے ہیں، کبھی صبر کا، کبھی حوصلے کا، اور کبھی برداشت کا۔انہی امتحانوں میں سے ایک سخت امتحان ہمارے گھر پر بھی آیا، ایسا وقت آیا کہ مصیبت نے گویا گھر میں ڈیرہ ڈال لیا، ایک کی طبیعت سنبھلتی تو دوسرا بیمار ہو جاتا،حد یہ ہو گئی، گھر کا کوئی فرد بیماری کی زد سے محفوظ نہ رہ سکا، پچیس سے تیس افراد ایک ہی وقت میں بیماری کی لپیٹ میں آ گئے،جس گھر میں ہر وقت رونق، ہنسی اور زندگی کی حرکت ہوتی تھی، وہاں اچانک ایک خاموش اندھیرا سا چھا گیا، اس گھر کی کیفیت کو لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں، اسے صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو اس مرحلے سے گزرا ہو، وہ مراحل بے حد سخت تھے، مگر ہر حال میں اللہ کا شکر ہے کہ اس نے حوصلہ بھی دیا اور سہارا بھی۔اسی کٹھن وقت میں اپّی کی مصروفیات اور ان کا ایک عظیم کارنامہ یقیناً قابلِ فخر ہے،اور ایک عورت کے احساس کو رونما کرنے والا ہے، یہ بات سب جانتے ہیں کہ عورت کا حقیقی گھر اس کے شوہر کا گھر ہوتا ہے، اور اپّی کی شادی ہو چکی تھی،اور دو بچوں کی پرورش بھی ان کے ذمے تھی، اس کے باوجود جب آزمائش نے دروازہ کھٹکھٹایا تو اپّی نے لمحہ بھر کو یہ نہیں سوچا کہ ان کی ذمے داریاں کہاں ختم ہوتی ہیں اور کہاں شروع، اپّی نے گھر آ کر اپنی تمام ذمے داریوں کو بالائے طاق رکھ دیا، اور یہ کوئی معمولی ذمے داریاں نہ تھیں، وہ ذمے داریاں جن ہاتھوں سے نہ جانے کتنی بچیوں کا مستقبل وابستہ تھا، وہ ایک لڑکیوں کے مدرسے کی صدر تھیں، جہاں کے تمام انتظامی، تعلیمی اور اخلاقی امور ان کے سپرد تھے، ایسے منصب پر فائز ہونا اور پھر سب کچھ چھوڑ کر ایک بیمار، ٹوٹے ہوئے اور آزمائش زدہ گھر کے لیے کھڑا ہو جانا کوئی معمولی کام نہیں،یہی وہ مقام ہے جہاں عورت کی حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے،وہ اپنے منصب، اپنی پہچان اور اپنی سہولت سب کچھ ایک طرف رکھ دیتی ہے، مگر رشتوں کو نہیں چھوڑتی، وہ فیصلہ نہیں دیکھتی، حالت دیکھتی ہے، وہ اصول نہیں ناپتی، درد ناپتی ہے۔ یہی وہ عورت ہے جو دروازہ کھولتی ہے—صرف لکڑی کا نہیں، بلکہ امید کا، حوصلے کا اور زندگی کا دروازہ،جن کی آمد کی برکت سے اللہ نے ہمارے گھر کی آزمائش کو برطرف فرما دیا۔
اللہ کی بارگاہ میں دعا گو ہوں اللہ کریم ہر بہن کے نصیب کو اچھا کرے اور انکو سمجھنے کی توفیق بخشے آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔

                   *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*