🚆سفر سلطان پور ولکھنؤ
✍🏻 خامہ کش : گل رضاراہی ارریاوی
زمیں پہ ہوں زمیں کی بات کرتا ہوں
مجھ سے نہ پوچھ اہل فلک کی سرگزشت
ارمغان دل :
بہت کم ایسا ہوتاہے کہ جہاں سے آپ نے تعلیمی سفرکا آغاز کیا ہو اور وہاں سےعلیحدگی کےدہائی گزر گیے ہوں آپ وہاں دوبارہ جائیں ،وہاں کی فضا سے لطف اندوز ہوں، چونکہ مرور ایام کے ساتھ بے شمار مصروفیتیں دامن زیست کا سہیم وشریک ہوجاتی ہے کہ انسان جس کی پہیلی میں الجھ کر رہ جاتاہے ایک پہیلی سے نکلتاہے تو مصروفیت کی دوسری پہیلی پھر سامنے آجاتی ہے،
ایسے میں اگر دوبارہ اپنے سابقہ میخانۂ علم و فن کی طرف رحلت ہو ،وہاں کی جام و سبو در و دیوار ،رہائش وتعلیم گاہ ،اساتذہ واحباب کی دوبارہ زیارت ،گفت وشنید، ہنسی مذاق، چلت پھرت ہو، پھر کچھ سیکھنے پڑھنے اور استفادے کا موقع مل جاۓ تو یہ بس فضل رحمانی اور عطاء الہٰی ہے جو کسی کسی کو ملتا ہے
"ذالک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء "
یہی فضل و عطا بارگاہِ ایزدی کی جانب سے اس راقم عاصی کو میسر ہوا -
وجہ سفر:
واقعہ کچھ یہ ہے کہ میرے ابتدائی زمانے کے ساتھی جو اب مفتی ہونے کو ہیں ابوذر قاسمی تعطیل ششماہی میں اپنے ابتدائی تعلیم گاہ" مدرسہ عربیہ فیض العلوم راجہ پور گوشائیں گنج سلطان پور" میں سیاحت کے لیے گیےہوۓ تھے اپنے اساتذہ ملنے ( زہے نصیب یہ موقع مجھے میسر نہیں ہوا) تبھی استاذ محترم حضرت مولانا مفتی حفظ الرحمن صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے ان کو یہ مژدۂ روح پرور سنایا کہ اگلے ڈیڑھ ماہ بعد مدرسہ ھذا میں طلبہ کی دستاربندی ہے جس میں آپ کانام بھی شامل ہے آپ کو شرکت کرنا ہے انہوں نے حامی بھردی ،وہ یہ خوشخبری لے آۓ مجھے بھی خوش خبری سنایا تو میں بھی بہت خوش ہوا اور شرکت کا اشتہاء پیدا ہوا، انتظار میں یہ وقت کیسے گزر گیا پتا ہی نہیں چلا ،
سفر کی تیاری:
خیر وہ وقت آگیا تھا جب ہم اس پر مسرت خواہش کو عملی جامہ پہنائیں اور اپنا رخت سفر باندھیں ، مجھے تو بے حد خوشی تھی ہم دوبارہ اپنے سابقہ مقامات کی سیاحت کریں گے اور وہاں کی در دیوار دیکھ کر چشم نم بھی ہوں گےکہ وہ زمانہ کیاہی خوش گوار تھاجو ہم نےضائع کردیا اور سکون بھی حاصل کریں گے کہ کچھ نہ کچھ ہم نے یہاں اپنی زندگی کو شعور دیاہے ،
میں دو دن پہلے خوشی کی مارے درخواست لکھ ڈالی پر جب رخصت لینے کا وقت آیا اور میں نے دفتر کی طرف رخ کیا تو مولانا فیضان صاحب نے بتایا کہ ناظم تعلیمات صاحب نہیں ہے لہذا میں چھٹی نہیں دے سکتا آپ فون پہ ناظم تعلیمات صاحب سے بات کرلیں ،میں کمرہ میں جاکر ناظم تعلیمات سے رابطہ کیا پر راقم عاصی نے جلدی کے چکر میں اپنی بات صحیح سے پیش نہ کرسکا ناظم صاحب نے کہا کہ میرے ورود کے بعد چھٹی لینا یہ کہہ رابطہ منقطع کردیا ،میں نے ناظم تعلیمات صاحب کو مزید زحمت دینے کی کوشش نہیں کی ،اپنے ساری تفصیلات درخواست میں لکھ کر فیضان بھائی کے سامنے پیش کردیا جلدی کی عذر بھی بیان کردی انہوں نے قبول کرلیا اور کہا کہ ان شاءاللہ آپ کا کام ہوجاۓ گا
میں مطمئن ہوا پر ابھی دیگر امور جو مدرسہ میں مجھ سے متعلق تھے ان کو کسی کے سپرد کرنا ضروری تھا میں نے احباب کی جستجو شروع کردی جمعرات میں ھدایہ رابع کی عبارت کے لیے رفیق درس مولوی عبداللہ مدھوبنی کے سپرد کی ،رخصت انجمن کےلیے مولوی سہیل لکھیم پوری کو منتخب کیا اور سورہ بقرہ پڑھنے کےلیے رفیق حجرہ مولوی ابوالبشر کا انتخاب کیا،احباب نے اس ذمہ داری بحسن وخوبی قبول کیا ،تومیں نے
تیاری شروع کردی مغرب کے بعد نکلنا تھا اچانک ایک استاذ محترم کا فون انہوں نے کچھ کام سپرد کیے راقم عاصی نے اس کام کو بعجلت انجام دیا پھر وہاں سے آتے ہی بیگ لیا اور نکل پڑا راستہ میں ناظم تعلیمات صاحب سے ملاقات ہوئی اور عذر بتا کر نکل گیا ،انہوں نے اجازت دے دی تو رکشے سے
اسٹیشن پہونچا ٹکٹ لینے کے بعد تھوڑا انتظار کرنا پڑا اس وقفے کو( "انسانی دنیا میں مسلمانوں کے عروج وزوال کا اثر ")کتاب کی نذر کردی
گاڑی آنے کے مراد آباد کے لیے روانہ ہو گیے
مراد آباد پہونچا تو پیٹ بھی اشیاء خوردونوش کا متقاضی تھی ہم اسٹیشن سے باہر نکلے ادھر ادھر نظر دوڑائی کچھ مناسب چیزیں نہ ملی تو بہت راقم بہت دور نکل گیا تاکہ کچھ مل جاۓ پر ملا پھل ملا تو وہ داغ والے اور گرانی بھی تھی بہر حال دوکان سے کچھ بسکٹ نمکین وغیرہ لےکر آیا اور پیٹ کو سکون دیا،پھرورق گردانی شروع کردی بعدمیں خیال آیا کہ مراد آباد میں ہوں ،رفیق مکرم مولوی عادل سے ( جوکہ معروف قلمکار ،مضبوط مقالہ نگار ،اخبارنویس اوربہترین خطیب ہیں ) بات کرلوں ،حال واحوال دریافت کرلوں تو معلوم ہوا کہ وہ خود اسٹیشن آرہے ہیں گھر جانے کے لیے، زیارت وملاقات کے 6/7ماہ ہوگیے تھے،
خیر اللہ تعالیٰ نے مجھے ملاقات کا شرف بخشا قلت وقت کے سبب زیادہ دیر گفت وشنید نہیں ہوسکی جو بھی ہوئی بس ہوگئی ،
پھر ہماری گاڑی آگئی اور ہم سلطان پور کےلیے بیٹھ گیے ساری رات بیدار رہا کچھ پڑھنا ہوا کچھ غیر مسلم بھائی سے جو اسلام اور قرآن کے بارے میں غلط فہمی کےشکار تھے الحمدللہ ہم نے اپنے حد تک ان کی غلط فہمی کا ازالہ کیا اور ان کے سوال کا جواب دیا اور لوگ تھے سب سے بات چیت رہی -
سلطان پور آمداور میری تنقید:
ہنستے کھیلتے ہم صبح کے پانچ بجے سلطان پور فروکش ہوۓ ،اترتے ہی میں حکومتی کارندوں پر نالاں ہواکیوں کہ کمبخت نے اردو کا جنازہ نکال دیا تھا جب کہ اردو زبان روزمرہ کی زبان ہے اس سے راہ فرار محض "خیال است ومحال است "ہے ،اس نے"سلطان پور" کو" سولتانپور" لکھا ،پتا نہیں تھا تو کسی اردو داں طبقہ سے اصلاح کرالیتا،خیر اب کیاکرسکتے ہیں ،یہاں تو" جس کی لاٹھی اس کی بھینس "والا معاملہ ہے،ہم اسٹیشن سے باہر نکلے، اپنے مدرسے کے لیے براہ راست کوئی گاڑی نہیں تھی اور کرایہ بھی اپنی مرضی کا گویا سب موقع پہ چوکا لگانے والے ہیں ،ادھر ادھر نظر دوڑائی کہ ہم خیال رکشے والا مل جائے ،پر ملا نہیں خیر طوعا وکرہا اسی کی بات پر رضا بالقضاء ہونا پڑا اور ہم چل دیے،بس اتنا کرم کیا کہ اس نے ایسی جگہ چھوڑدی جہاں سے منزل پر پہونچنے کے لیے اگلی گاڑی بسہولت مل سکے ،اترتے ہی اگلی گاڑی گاڑی مل گئی اور ہم صبح ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں، بھینی بھینی شبنم کے پرلطف بہاروں کے ساتھ گوشائیں گنج میں فروکش ہوۓ ،مدرسہ پہونچے تمام طلبہ نے ہمارا استقبال کیا سلام ومصافحہ کیا ہم نے سامان رکھا اپنے پرانے اساتذہ سے ملاقات کی ،پھر تھوڑا آرام کے بعد ہم باہر فضا میں ٹہلنے کےلیے چل پڑے -
ایک مزار (جومحبت علی شاہ کے نام سے مشہور ہے)پر جاناہوا دیکھاکہ بدعت کی وہی پرانی روش جاری ہے،خرافات کی وہی لاعلاج مریض پڑے ہیں ،صبح صبح عورت کی الحاح وزاری رونا دھونا ، شور وہنگامہ کررہی ہے ،مجھے تو بہت غصہ آرہاتھا کہ یہ لوگ کھلے عام بدعت پھیلا رہے ہیں پر میں خاموش رہا تاکہ امن کی فضا خراب نہ ہو،میں نے کچھ آیتیں پڑھ کر ایصال ثواب کیا اور اطراف مزار کا چکر لگایا تو مزار کے مدرس سے دلچسپ بات چیت ہوئی ،ان کی باتوں میں کئی تضادات پاۓ جارہے پر میں سنتا رہا جو بات مناسب لگی احسن طریقے سے کہہ دیا
جلسہ کی تیاری:
پھر وہاں سے واپسی کے بعد صدر مدرسہ اور استاذ محترم قاری ولی اللہ صاحب کے حکم پر جلسہ کے اعلانات کےلیے ٹیمپو کے ذریعے گاؤں کی طرف نکل پڑا ،مفتی ابوذر قاسمی اور قاری صاحب دونوں مسلسل اعلان کرتے رہے اور میں محو خواب ہوتارہا، وقفے وقفے سے بیدار بھی ہوتارہا، الحمدللہ بہت سے گاؤں، کھیت کھلیان ،نہر، چشمے ،ہرے بھرے باغات اور اس طرح کے دلکش نظاروں سے لطف اندوز ہوتا رہا پانچ گھنٹے مسلسل گھومنے کے بعد مدرسہ واپسی ہوئی ،باہر کھانے کی دعوت تھی ،گاڑی کے تھپیڑے کھانے کے بعد بھلاکھانا کھایا جاسکتاہے ،بات کا مان رہ جاۓ بس کچھ کھالیا تاکہ لگے کہ کھانا کھالیا پھر ہم سب جلسہ کی تیاری میں مصروف ہوگیے، اسٹیج سجے ،کرسیاں لگی، رونقیں بڑھیں، مغرب بعد تلاوت حمدو نعت کی گونج شروع ہوگئی، چھوٹے چھوٹے معصوم طلبہ نے بھی پروگرام پیش کیا ،مفتی ابوذر نے قرآن اور حفاظ قرآن کی اہمیت پر زور دار خطاب کیا ،راقم عاصی کو چونکہ اسٹیج اور اس کی رعنائیوں سے کنارہ کشی پسند ہے تو وہ پیچھے بیٹھ گیا اور پروگرام سماعت کرتارہا ،آخری خطاب شیخ طریقت حضرت اقدس مفتی محمد احمد اللہ صاحب پھولپوری دامت برکاتہم (ناظم اعلیٰ وشیخ الحدیث مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم سراۓ میر اعظم گڑھ) کا تھا ،اس سے پہلے طلبہ کی دستاربندی ہوئی ،پھر خطاب ہوا،حضرت نےبہت جامع خطاب فرمایا ضرورت کی تمام باتیں ذکر فرماکر امت کی رہنمائی پھر بیعت کراکر دعا کرائی اس طرح یہ پروگرام بحسن وخوبی اختتام پذیر ہوا-
عشاء کی نماز کے بعد کھانے کا نظم تھا سب نے کھانا کھالیا ہم نے بھی بعد میں کھانا کھایا اگلے دن جمعہ کو برتن وغیرہ اور دیگر کام کو ختم کیا، ساتھ ساتھ حافظ تابش صاحب جو کہ پہلے ہمارے ساتھی ہواکرتے ، اب وہ وہاں کے استاذ ہیں ،ان سے ظریفانہ اور بے تکلفانہ گفتگو ہوتی رہی، ان سب سے فراغت کےبعد کھیت کھلیان، باغات ،چشمے، تالاب وغیرہ سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہونچائی اور دس سال پرانی وابستہ یادیں تازہ ہوگئی وہ پرانے تعلیمی سال بالکل نظروں کے سامنے آگیا جو ہم نےکھیل کود، ہنسی مذاق ،گھومنے پھرنےاور مستی میں گزار دی ،
پھر جمعہ کی تیاری کی جمعہ ادا کیا استاذ محترم صدر مدرسہ نے جمعہ میں جامع خطاب فرمایا بہت قیمتی باتیں سامنے آرہی تھی پر سکون ماحول تھا سکینت کا نزول ہورہاتھا اور تھکن تھی جس کی وجہ سے بار بار ہماری آنکھیں نیند کے خمار کی وجہ سے بند ہورہی اور ایک دو مرتبہ راقم گرنے کو بھی ہوگیا تھا -
مدرسہ سے واپسی :
خیر جمعہ کے بعد کھانا کھایا اور تیاری کرکے عصر بعد لکھنؤ کی طرف روانہ ہوا تابش بھائی اور جامعہ کو علیک وسلیک اور الوداع کہا
صدر مدرسہ باہر تھے ان سے راستے میں ملاقات ہوئی پھر وہاں سے نکل پڑے
الوداع اے جامعہ
سفر لکھنؤ:
لکھنؤ اترپردیش کی دارالحکومت ہے یہ شہر اپنی تہذیب وثقافت ،زبان وادب ،اہل علم عمل ، حکام وامراء ،نوابوں کا گڑھ اور قدیم تاریخی عمارتوں کی رو سے دیگر ریاستوں میں بھی ممتاز مقام رکھتاہے-
بہت دنوں سے دل میں یہ خواہش تھی کہ لکھنؤ ہم جائیں دارالعلوم ندوۃ العلماء کی سیر کریں وہاں کی مشہور جگہ کا نظارہ کریں پر اسباب اور مواقع اس بات کی اجازت سے قاصر تھے -
وہاں کی سیاحت کایہ موقع اچھا تھا ہم نے شروع میں ہی عزم مصمم کرلیا تھا کہ دارالعلوم ندوۃ العلماء ضرور جائیں گے ، بصد شکراللہ تعالیٰ کااس نے ہمیں یہ موقع عنایت فرمایا اور ہم لکھنؤ کی طرف کوچ کرگیے گاڑی میں تاخیر تھی ہم نے کتابیں پڑھنا شروع کردیا اور کچھ صفحات وہاں پڑھ لیے ،گاڑی آئی تو ہم بیٹھ گیے وہاں ہجوم بہت زیادہ تھا ،کھچاکھچ لوگ تھے ،گویاڈھنگ سے بیٹھنا بھی دشوار تھا پر میں جگہ نکال ہی لیتا ہوں میں کسی طرح بیٹھ گیا اور مطالعہ شروع کردیا بقدر استطاعت مطالعہ کیا پھر کتاب بند کردی خیر اسی طرح کش مکش میں ہم بارہ بجے لکھنؤ پہونچ گیے-
اسٹیشن سے نکلے ,،باہر چند دلالی رکشے والے جو دارالعلوم ندوۃ العلماء لےجانے کا ڈیرھ سو روپے طلب کرنے لگے جب کہ وہاں کاکرایہ بیس روپے ہے ،میں نے جانے سے منع کردیا ، وہاں سے نکلا ارادہ بنا کہ رات کافی لمبی ہوگئی ہے جانا مناسب نہیں تو ہم نے اک مسجد میں قیام کاارادہ کیا تو ایک صاحب خیرکی رہنمائی میں مسجد تک گیا وہاں عام طور پر مسافروں کا بطورِ خاص علماء کا قیام رہتاہے گیا تو مسجد بند تھی اور تالا لگا ہوا تو مجبوراً ندوہ کا ارادہ ہوا 80روپے کرایہ دے کر خواب کہنہ کی تعبیر میرے سامنے تھی ہم اس کے گیٹ پر پہونچ گیے -
دارالعلوم ندوۃ العلماء کی پرکیف نظارہ :
میری خوشی کی انتہا نہ تھی ،گیٹ کھلا تھا،حاجب در کی خشمگیں نگاہیں ہمیں غور سے دیکھ رہی تھی پر اجنبیت تھی شناخت نہ ہوئی اور میں اندر چلاگیا،چونکہ میرے متعلق میں ایک طالب علم مولانا عنایت صاحب ندوی وہیں زیر تعلیم تھے ان کی رہنمائی ہمیں حاصل تھی ، وہاں ہم سیدھے پہونچنے والے تھے، میزبان محترم نے اپنے ساتھی کو بھیج دیا اور ان کے ساتھ متعینہ قیام گاہ شبلی شرقی میں گیا سرخ رنگ اور لمبی چوڑی اور خوبصورت عمارت تھی دیکھ کر قلبی سرور ہوا کمرہ میں داخل ہوا طلبہ نے حسن اخلاق کا مظاہرہ کرتے اپنائیت کا اظہار کیا اپنی طرف سے ممکنہ حد تک سہولتیں فراہم کیں ،شاندار سونے کےلیے بیڈ کا انتظام اور پڑھنے کےلیے ٹیبل وغیرہ سب کچھ عمدہ اور بہتر تھا ،وقت کافی ہوچکاتھا رات لمبی ہوگئی ، تھکن بھی بہت زیادہ تھی مسلسل شب بیداری کی وجہ سے آنکھیں بھی بستر استراحت کا متقاضی تھی ہم تقاضۂ بشریت سے فارغ ہونے کے بعد سوگیے-
صبح اولے مرحلہ پہ اٹھ کر وضو وغیرہ سےفارغ ہوا اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کی نہایت ہی بلند وبالا شاندار پرکشش،جاذب نظر ، لمبی چوڑ مسجد (جو آنکھوں کو خیرہ کردے )میں قاری خوش الحان بہترین تلاوت کے ساتھ امام کے اقتدا میں شامل ہوا بہت خوش نما منظر تھا اور دل نہایت مطمئن بھی کیوں کہ میرا برسوں پراناخواب شرمندۂ تعبیر ہوچکاتھا ،اس وقت شبنم کی تیزی کے باجود نماز وغیرہ سے فراغت کےبعد شبنمی موسم میں پارک وغیرہ دیکھنے نکل گیا تھا تھوڑی دیر بعد پھر کمرہ کی طرف رخ کیا اور وہاں سوگیا آٹھ یا نو بجے آنکھ کھلی تو دیکھا کہ مولانا عنایت صاحب ندوی کا فون آیا ہواتھا فون کیا اور ناشتہ کے بعد وہ ہمیں تمام جگہوں کی زیارت اور تعارف کرانے کے لیے لےگیے چنانچہ رواق شبلی ،رواق حبیب ورواق رحمانی وغیرہ قدیم وجدید تمام عمارتوں کا تعارف کرایا پھر علامہ شبلی نعمانی کتب خانہ لے کر گیے ،کتب خانہ بہت عمدہ تھا نظم ونسق بہترین ،کتب خانہ میں داخل ہوا دیکھا کتب قدیم وجدید کتابوں اور مخطوطات سے لبریز ہے پرسکون فضا ہےخاموشی برقرار رکھنےکےلیے جگہ جگہ ہدایت نامہ رکھاہوا تھا،انٹری کرانے کے بعد میزبان محترم نے نہایت آہستہ آواز میں اصول وضابطے بتاۓ اور بتایا کہ آپ کو کوئی بھی کتاب چاہیے ہو الماری میں مختلف پرچی رکھی ہوئی ہے اسے منتخب کرکے ٹیبل کے پاس آئیں وہاں کے عاملہ کو دےدیں وہ آپ کو آپ کی مطلوبہ کتاب ٹیبل پہ رکھ دیں گے اور آپ کے پڑھ لینے کےبعد خود بہ خود وہ اس کتاب متعینہ جگہ پر رکھ دیں گے ،یہ نظام بہت عمدہ ہے -
راقم عاصی نے دیکھاکہ وہاں کے اساتذہ ومعلمین ،نہایت دلجمعی اور انہماک کے ساتھ مطالعہ میں مستغرق ہیں ،پھر دوسری عمارت میں لے کر گیے وہاں بڑے بڑے اساتذہ طلبہ کو درس دے رہے تھے اور میزبان محترم نےبتایا کہ یہاں اپنے علاقہ کے اساتذہ بھی اپنی خدمات انجام دے رہےہیں جس سے راقم کوقلبی مسرت ہوئی اور فخر بھی ،
کینٹین اور اسی طرح دیگر چیزوں کا معائنہ کرایا جس سے وہاں کے نظم ونسق کا اندازہ ہوا اور دل داد وتحسین کے نغمات سے گونجنے لگے
پھر مطبخ کا نظام دیکھا روٹی نہایت ہی عمدہ سفید نرم تھی اور مشین سے تیار ہورہی تھی صبح کے وقت روٹی چاول دال اور گوشت شام کو بھی وہی بس فرق یہ ہے کہ شام کو گوشت کی جگہ سبزی ملتی ہے کھانا نہایت خوش ذائقہ اور عمدہ ہوتاہے ،دن بھر قیام رہا شام کا وقت آخری وقت تھا، سیر کا اشتیاق ہوا تو راقم اورمفتی ابوذر قاسمی نکل گیے سیاحت نکل گیے،
پیدل ہی گھنٹہ گھر بھول بھلیا اور اس طرح کی دیگر قدیم عمارت دیکھ کر دل کو تسکین پہونچایا پر افسوس کہ لوگوں پرانی عمارتوں کی تاریخ پتا نہیں حتی کہ وہاں پہ بیٹھنے والے حاجب اور نگرانی کرنے واکے کارکنوں کو بھی پتانہیں ستھکڈے اس کو منحوس عمارت کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کیونکہ تعمیر کرانے والے کا انتقال اس عمارت کی تکمیل سے پہلے ہوگیا اس کے بیٹے نے اس کی تکمیل نہیں کی ،اس عمارت کے بابت باہر کے ایک آدمی سے معلوم کیا تواس نے اس کے متعلق مختصرا بتلایا کہ یہ عمارت نواب سراج الدولہ رح نے بنایا ایک قول کے مطابق اپنی بیٹی کےلیے اور ایک قول کے مطابق چاند دیکھنے کے لیے
لیکن یہ خبر بھی زیادہ ٹھیک نہیں ہے
چونکہ تاریخ میں اختلاف راۓ کی کثرت اور اضطراب پایا جاتاہے -
خیر آج اس عمارت میں داخل ہونے کے بیس روپے ٹکٹ ہے گویا ہمارے بڑوں کی چیزوں پر بھی ہمارا حق نہیں ہمیں اپنی چیزوں کو دیکھنے کےلیے ہمیں بھی پیسے دینے پڑرہےہیں اب یہاں کے پھول دور یہاں کے کانٹوں پہ بھی ہمارا حق نہیں،پھر بھی کمبخت لوگ کہتے ہیں کہ مسلمان اپنے ملک کے تئیں وفادار نہیں حیرت ہے ان کی سوچ پر اور ماتم ہے ان کی احمقانہ باتوں پر-
واپسی:
وہاں کی سیر وتفریح سے فراغت کے بعد لکھنؤ کو خیر آباد کہنے کا وقت ہوا چاہ رہا تھا تو ہم وہاں سے جلدی نکلے کچھ دیر میں مدرسہ پہونچ گیے، عشائیہ تناول کیا ،قدرے آرام کے بعد ندوہ کی پرکیف و مست اور خوشگوار ماحول کی فرقت کے لیے تیار ہوۓ،نکلتے وقت آنکھیں نم تھیں مولانا عنایت صاحب بھی ہمیں رخصت کرنے باہر تک نکلے اور نصحیتوں کی چند موتیوں سے ہمارے خالی دامن بھر دیے پھر رکشہ پر سوار ہوا کچھ دیر بعد گاڑی تبدیل کرنی پڑی پھر وہاں سے ٹیمپو پر بیٹھا ڈرائیو گرچہ غیر مسلم تھا مگر نہایت محبت وسعت قلبی اوراعتماد کے ساتھ گفتگو ہوتی رہی حتی کہ ہم اسٹیشن پہونچ گیے،
پھر تھوڑی توقف کے بعد گاڑی آگئی، سوار ہوۓ اور ہم نے نوابوں کے شہر ،ادب کی سر زمین لکھنؤ کو رخصت کرتے ہوۓ الوداع کہا! آنکھیں نم تھی ،دل غم سے نڈھال تھا کہ ہم نے ادب کی تاریخی سرزمین کو الوداع کہا
ٹرین پہ بھیڑ زیادہ نہیں تھی کچھ دیر بعد سیٹ مل گئی ورق گردانی ہوئی پھر دیگر مصروفیات کے بعد صبح غالبا 4:55 پہ ہماری رسائی امروہہ میں ہوئی -
اسٹیشن پہ فروکش ہوۓتو تھوڑی سردی لگ رہی تھی تو آگ کی تپش سے جسم کو حرارت دی پھر سواری نہ ملنے کی وجہ سے ہم پیدل ہی مدرسے کی طرف نکل پڑے اور پندرہ بیس منٹ بعد ہم مدرسہ پہونچ گئے -
راہی !منزل پہ آمد ہوئی سفر تمام ہوا
باتیں روک دواب کہ ختم ترا کلام ہوا
میں اپنے تمام میزبان کا شکر گزار ہوں اور ان کی دراین کی سعادت کےلیے دعا گو بھی-
بحمد اللہ سفر بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا -
میں تیری یادوں کو ہمیشہ سنبھال کر رکھوں گا
اے شہر گر تجھ میں کوئی حسن ہو کوئی بات ہو