تبصرہ برکتاب "مسئلہ غلامی اور اسلام"
صفحات:56
مصنف: مفتی شمائل احمد عبدللہ ندوی دامت برکاتہم العالیہ
✍🏻آج عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ اور مغالطہ پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں اسلام اور اس کے تعلیمات پر سطحی قسم کے اعتراض کرکے عوام الناس بطورِ خاص مسلمانوں کو اسلام سے بدظن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے -
اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے اکثر لوگ جو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں وہ اس سے اپنا رشتہ ناطہ توڑ چکے ہیں اور مذہب بیزار ہیں ،عقل اورمرضی پر چلنے میں تسکین محسوس کرتے ہیں -
چند لوگ ہیں جو اپنے مذہب کے کچھ امور کے پابند ہیں ،یہود ونصاریٰ میں کچھ لوگ ،اصنام پرست میں کچھ رسم ورواج باقی ہے جس پر وہ عمل پیرا ہیں واحد مسلمان ہیں جو اپنے مذہب کے مکمل تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہی یہ بات اہل مغرب کو کھٹکتی ہے اور یہ بات بھلا کیسے ہضم ہوسکتی ہے-
یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی جگہ چند لوگ ہوں اور ان میں بیشتر ننگے ہوں اور کچھ لوگ ملبوس ومستور الجسم ، بجاۓ اس کے کہ ننگے لوگ ملبوس وباحیا شخص کو دیکھ کر لباس پہنتے وہ اس کی مخالفت کرنے لگتے ہیں تاکہ یہ بھی ننگاہوجاۓ، ٹھیک اسی طرح مذہب بیزار لوگ یہ چاہتے ہیں مسلمان بھی ہمارے ہم خیال ہو جائیں اور اسلام کے تعلیمات کو ترک کردیں -
اسی لیےاہل مغرب نے مسلمانوں کے خلاف منظم سازش کے ساتھ اسلام پر سطحی اعتراض کرکے اس کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے اور مسلمانوں پر ظلم وستم کرنا شروع کردیاہے وہیں سے یہ باد سموم پھیلا حتی کہ ملک ہندوستان میں بھی آگیا متشدد اور فرقہ پرست تنظیم بھی اس کے ہمنوائی میں اس کے پیرو کار بن گیے اور غلط فہمیاں عام کردی گئیں قرآن پر احکام اسلام پر اعتراض اسی قبیل سے ہےجو مقتدر جماعت کے ہمنوا اسلام اور مسلمان کےنام پردھبہ، منافق، زندیق جاہل و تملق باز قسم کےلوگوں کی جانب سے کی جاتی ہے ، ہمارے بہت سے نوجوان طبقہ اس سے متأثر ہے-
خواہر وبرادر طبقہ جس کامطمح نظر علماء ہوناچاہیے اور ان سے اپنے مسائل دینیہ حل کرنا چاہیے ,شوشل میڈیا کے ذریعے غلط فہمی کا شکار ہوکر اور مرتد وملحد ہونے پر آمادہ ہیں -
لیکن خداوند قدوس حکیم ذات ہے اپنے دین کے تحفظ وبقا کے لیے ضرورت کے لحاظ سے ایسے افراد پیدا کرتاہے جو اسلام کے خلاف اٹھنے والی آواز کا دندان شکن جواب دے-
الحمدللہ انہی افراد میں ایک فردحضرت مولانا مفتی "شمائل احمد عبدللہ ندوی" صاحب ہیں جو شوشل میڈیا میں اسی قسم کی خدمت انجام دے رہے ہیں، نواجوان طبقہ میں بہت معروف و مقبول ہیں اور ان سے دینی امور میں رہنمائی لیتے ہیں حضرت مفتی صاحب مستشرقین اور اہل مغرب کے سوالات کے جوابات کا وہ فن و ہنر رکھتے ہیں -
اس سلسلے میں ان کاکافی گہرا مطالعہ ہے اور وہ حضرت مولانا مفتی یاسر ندیم الواجدی صاحب دامت برکاتہم العالیہ سے اس سلسلے میں مربوط ہیں،ان کی رہنمائی میں یہ خدمت انجام دے رہےہیں
اسی سلسلۃ الذہب کی ایک کڑی سلسلۃ رد الشبہات ہےجس میں اسلام پر اعتراضات کا جواب دیا ہے-
اسی قبیل سے پہلا رسالہ "مسئلہ غلامی اور اسلام "ہے الحمدللہ اس رسالہ کے مطالعہ کا شرف حاصل ہوا اور پڑھ کر قلبی مسرت بھی ہوئی ،یہ رسالہ بہت جامع وپرمغز ہے اور مختصر بھی-
اس رسالے میں اہل مغرب کے جہاں اعتراض کا جواب دیا ہے وہیں اہل مغرب ومستشرقین پر تنقید بھی کیا ہے اور اہل مغرب کو آئینہ بھی دکھایاہے کہ تم اسلام اورمسلمانوں پر اعتراض کرتے ہو جبکہ تم خود اس کےبدترین طریقے سے کرنے کی مرتکب ہو ،پہلے اپنے گریبان میں جھانکو اس کے بعد اسلام پر اعتراض کرنا بہرحال یہ کتاب بہت مفید کتاب ہے -
اگر یہ سلسلہ اسی طرح جار رہا تو انشاءاللہ نوجوان طبقہ اس سے بہت مستفید ہوگا اور راہ راست پر واپس آۓ گا
اس کا دیگر زبانوں میں ترجمہ بھی حضرت نے کروایا ہے
اللہ تعالیٰ حضرت مفتی صاحب کے مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور ان کے فیض کو جاری وساری رکھے آمین
✍🏻رشحات قلم 📚
گل رضاراہی ارریاوی
متعلم:عربی ہفتم
جامعہ اسلامیہ عربیہ جامع مسجد امروہہ