**مائیں بچوں کی تربیت کا پتہ دیتی ہیں**

اور بچہ خاندان کی حیثیت کا پتہ دیتا ہے...


ایک استانی کہتی ہیں، میں کلاس میں داخل ہوئی اور پیچھے سے دروازہ بند کر لیا میں نے فیصلہ کیا کہ آج اپنا سارا غصہ بچوں پر نکالوں گی،اور یہ عموما ہوتا بھی ہے غصہ کسی کا، اتارا کسی پر جاتا ہے جو کے ہر اعتبار سے غلط ہے، خدا کے لیے ایسا نا کریں اور عند اللہ ماجور ہوں، 


واقعہ کی طرف، 

ٹیچر کہتی ہے جس بچے نے ہوم ورک نہیں کیا تھا، اسے پکڑا اور مارا،

ایک بچے کو میز پر سوئے ہوئے پایا، اس کا بازو پکڑا اور کہا تمہارا ہوم ورک کہاں ہے؟

وہ بچہ ڈر کے پیچھے ہٹ گیا اور لرزتے ہوئے بولا بھول گیا ہوں مجھے معاف کر دیں،


میں نے اسے پکڑا اور اپنے سارے غصے اور وہ دباؤ، جو میرے شوہر کی وجہ سے تھا، اس پر نکال دیا،


پھر میں نے ایک بچے کو کھڑا پایا، وہ میرے قریب آیا، میرا دامن کھینچتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ کیا تاکہ جھک کر اس کی بات سنوں،


میں غصے سے مڑی جھکی اور کہا ہاں بولو کیا ہے؟


وہ مسکرا کر بڑی معصومیت سے کہتا ہے کیا ہم کلاس سے باہر بات کر سکتے ہیں؟ بہت ضروری ہے...


میں نے اسے بے صبری سے دیکھا اور سوچا کہ ضرور کوئی معمولی بات ہوگی، مثلاً یہ کہ کسی ساتھی نے اس کا پین چوری کر لیا ہوگا،

لیکن جب میں نے اس کی بات سنی تو میں اس کی ذہانت سے حیرت زدہ رہ گئی، اس کے پاس بے شمار تربیتی معلومات تھیں،


وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا دیکھیں، ٹیچر آپ بہت اچھی ہیں، اور ہم سب آپ سے محبت کرتے ہیں، لیکن میرا وہ ساتھی، جسے آپ نے آخر میں مارا، وہ یتیم ہے اور اس کی ماں اسے ہمیشہ مارتی ہے جب وہ کوئی غلطی کرتا ہے،

وہ اسے غلط طریقے سے تربیت دیتی ہے، اسی لیے وہ اکثر چیزیں بھول جاتا ہے اور ہر چیز سے ڈرتا ہے، یہاں تک کہ وہ ہمارے ساتھ کھیلنے سے بھی ڈرتا ہے، کیونکہ اسے ڈر ہوتا ہے کہ ہم اسے ماریں گے،

میں اس کا دوست ہوں اور ہمیشہ اس کے ساتھ رہتا ہوں اس نے مجھے بتایا کہ اسے مار کھانا بالکل پسند نہیں، اگر آپ اس کا جسم دیکھیں تو آپ کو اس پر مار کے نشانات ملیں گے، جو اس کی ماں نے کیے ہیں...


پھر اس بچے نے کہا

کیا آپ ہماری ماں اور مربی بن سکتی ہیں؟ اور عرض کی براہِ کرم، جب آپ کلاس میں آئیں تو اپنا غصہ اور پریشانی باہر چھوڑ کر آئیں، کیونکہ ہم آپ سے محبت کرتے ہیں اور آپ سے بہت کچھ سیکھتے ہیں،اور ممکن ہے آپ کے اس غصے کو بھی سیکھ لیں، 


میں حیرانی سے اسے دیکھتی ہوں اور کہتی ہوں تم اتنے بڑے لوگوں سے کیسے بات کر لیتے ہو؟


تو وہ جواب دیتا ہے میری ماں نے ہمیشہ مجھے اچھا گمان کرنا سکھایا ہے، اور میری تربیت کے لیے وہ ہمیشہ قرآن و حدیث کا سہارا لیتی ہیں پھر اس نے حدیث بیان کی جو یہ ہے حدیث پاک میں آتا ہے: ظن المؤمنين خیرا، یعنی مومنوں کے بارے میں اچھا گمان کرو، 


تمہیں نہیں معلوم کہ سامنے والے کس حالت میں ہیں، اس لیے اپنا غصہ اور پریشانی ایک طرف رکھو اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ، اور یہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیا ہوا دین بھی ہے اللہ کے نبی نے ہمیشہ دوسرے کے ساتھ نرمی سے پیش آنے کی بات کی ہے،


اور اگر میں یہ کہ دوں تو بجا ہوگا کہ یہ اللہ کا بھی حکم ہے،،،کیونکہ جب اللہ تعالٰی نے اپنے معزز نبی حضرت موسی علیہ السلام کو فرعون کے پاس تبلیغ کو بھیجا تو کہا اے موسی فرعون سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، تو گویا معلوم ہوا کے قرآن و حدیث ہمیں نرمی کا حکم دیتے ہیں...


اور مزید بچہ کہتا ہے کہ میری ماں نے بتایا بیٹا دنیا میں بہت سی تکلیف دہ چیزیں ہیں اور یاد رکھنا بیٹا تم کبھی کسی کی اذیت کا سبب نا بننا،

انہوں نے یہ بھی کہا

اگر تم کسی کو پریشان دیکھو، تو اس سے معافی مانگو، خواہ تم اس کی تکلیف کے ذمہ دار نہ ہو،


ٹیچر کہتی ہے پھر وہ مجھے گلے لگاتا ہے اور کہتا ہے،

یقیناً آپ کسی وجہ سے ناراض ہیں، اسی لیے آج ہمیں مارا،

ٹیچر، میں آپ سے معذرت خواہ ہوں، براہِ کرم ناراض نہ ہوں، کیونکہ آپ بہت اچھی ہیں،


میں حیرانی کے عالم میں کھڑی تھی، اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میں بچی ہوں اور وہ میرا استاد اور مربی ہے،

پھر میں نے اپنے آپ سے سوال کیا،

کیا آج بھی ایسی تربیت ہوتی ہے؟

اور کیا ایسی مائیں موجود ہیں جو اپنے بچوں کی اس قدر عمدہ تربیت کرتی ہیں؟


میں نے اس بچے سے کہا ٹھیک ہے، میں اسے کیسے مناؤں؟


تو وہ بولا کہ وہ چاکلیٹ پسند کرتا ہے، اگر وہ آپ کو معاف کر دے تو اپنے رب سے استغفار کریں اور سبحان اللہ وبحمدہ کہیں تاکہ جنت میں آپ کے لیے ایک درخت لگ جائے، میں حیرت میں تھی خدا آج کیا ہو گیا ہے،

 میں اسکی باتوں سے لطف اندوز ہونے لگی اور مزید سوالات کرکے ذہانت کو چھاننے لگی اور میں نے سوال کیا جیسے دنیا میں درخت ہیں کیا ویسے ہی درخت ہوں گے جنت میں؟

وہ بولا میری عزیز ٹیچر، جنت کے درخت دنیا کے درختوں جیسے نہیں ہوتے،میری ماں نے بتایا کہ جنت کے درخت کی پھل بہت نرم، بڑے، اور شہد سے بھی زیادہ میٹھے ہوتے ہیں، اور ان میں کوئی بیج نہیں ہوتا....


میں نے پوچھا انس، کیا میں تمہاری ماں کو کوئی تحفہ دے سکتی ہوں؟

وہ بولا ہاں، مگر وہ ہمیشہ کہتی ہیں کہ انس میرا تحفہ ہے،


میں نے کہا واقعی، تم ایک بہت بڑا تحفہ ہو، اور بہت پیارے بچے ہو،

انس نے کہا چلیں، آئیں احمد کو منائیں میرے پاس پانچ روپے ہیں، اس سے چاکلیٹ خرید لیں اور احمد کو دیں، اور کہہ دیں کہ آپ نے اسے اس کے لیے خریدا ہے،


ٹیچر نے انس سے کہا تمہاری ماں واقعی ایک عظیم خاتون ہیں، وہ جنت کی حقدار ہیں،


وقت گزرتا گیا

مس ریحام، آپ کیسی ہیں؟

میں نے مڑ کر دیکھا تو انس تھا، اب ایک جوان لڑکا، عینک پہنے کھڑا تھا اور اس کی ماں اس کے ساتھ تھی، جن کا چہرہ پر نور تھا


بعد میں انس کی ماں میرے لیے ایک تحفہ لے کر آئیں اور کہا

آپ انس کی استاد تھیں، یہ تحفہ میری طرف سے قبول کریں،

آپ نے جو اچھائی انس کو سکھائی، یقیناً اس میں آپ کا بھی حصہ ہے،


میں نے حیرانی سے کہا کیسے؟


وہ بولیں:

الحمدللہ، میرا بیٹا اب ڈینٹل کالج میں لیکچرر ہے


میری آنکھوں میں آنسو تھے۔ میں نے کہا،

آپ کا شکریہ، یہ ہدیے تو آپ جیسے لوگوں کے لیے ہیں،

آپ سمجھتی ہیں کہ آپ نے صرف انس کی تربیت کی؟

حقیقت میں، آپ کی تربیت نے مجھے بھی سدھار دیا،

آپ کے بیٹے نے مجھے سالوں پہلے ایک سبق دیا، جس نے میری زندگی بدل دی،اسی کے باعث میں نے اپنے بچوں کی اچھی تربیت کی، اور میرا ازدواجی رشتہ بھی بہتر ہو گیا،


معلوم ہوا بہترین کارسازی کے لیے ایک بہترین مربی کی ضرورت ہے اور بچوں کے لیے ماں سے بہتر کوئی مربی نہیں، 

اور نیک بیوی معاشرے کی جنت بنانے کے لیے ایک مضبوط بنیاد ہے،

اور گھریلو عورت کے کردار کو معمولی نہ سمجھیں، کیونکہ وہ ایک پوری نسل کی مربی ہوتی ہے،


اگر آپ نے کہانی پڑھ لی ہے تو صرف پڑھ کر نہ جائیں، اپنی پسند کا اظہار کریں اور

لا إله إلا الله محمد رسول الله

کا ذکر کریں، کیونکہ یہ ساتوں آسمانوں اور زمین سے زیادہ وزنی ہے،


یاد رکھیں، جو کچھ آپ خرچ کریں یا شیئر کریں، اس کا اثر آپ کی زندگی میں برکت، صحت، رزق میں اضافہ، اور دل کی خوشی کی صورت میں ظاہر ہوگا....


اللہ کریم ہماری ماؤں کو ان ماؤں کا صدقہ عطا فرمائے اور بہترین تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین بجاہ النبی الکریم صلی علیہ وسلم، 


          ✍️ متعلم الجامعۃ الاشرفیہ ✍️