🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ
کبھی ہم نے سوچا ہے
کہ ہم ہنستے ہنستے کتنی بار اندر سے ٹوٹ چکے ہیں؟
کتنی مسکراہٹوں کے پیچھے کتنے آنسو چھپے ہوتے ہیں؟
اور کتنے مضبوط دکھنے والے لوگ دراصل سب سے زیادہ ٹوٹے ہوتے ہیں…!
آج میں آپ کو کسی اور کی نہیں، ہم سب کی کہانی سنانا چاہتی ہوں
وہ دل
جو ہر ایک کا بوجھ اٹھاتا ہے
مگر جب خود تھک جائے
تو اس کے لیے کوئی کندھا نہیں ہوتا۔
وہ آنکھیں
جو دوسروں کے دکھ دیکھ کر نم ہو جاتی ہیں
مگر اپنے درد پر رونا بھی سیکھ نہیں پاتیں۔
ہم دوسروں کو سہارا دیتے دیتے خود سہارا مانگنا بھول جاتے ہیں
اور پھر ایک دن خاموشی سے ٹوٹ جاتے ہیں
کسی شور کے بغیر،
کسی شکوے کے بغیر
ہمیں رلانے والے اکثر دشمن نہیں ہوتے ہمیں سب سے زیادہ رلانے والے
وہ ہوتے ہیں جن سے ہم سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔
وہ ایک جملہ…جو مزاق میں کہا گیا ہو
مگر دل میں خنجر بن کر اتر جائے۔
وہ ایک لاپرواہی…جو سامنے والے کو کچھ نہ لگے
مگر ہمارے اندر سب کچھ توڑ دے۔
اور سب سے زیادہ رلانے والی بات کیا ہے؟
یہ احساس کہ ہم نے سب کے لیے وقت نکالا
مگر ہمارے لیے کسی کے پاس وقت نہ تھا
ہم نے سب کو معاف کیا مگر جب ہم ٹوٹے تو ہمیں ہی قصوروار ٹھہرایا گیا۔
آج بہت سے لوگ ہنس رہے ہیں
لیکن ان کے دلوں میں قبریں بنی ہوئی ہیں
امیدوں کی قبریں
اعتماد کی قبریں
اور سب سے بڑھ کر
اپنی ہی ذات کی قبریں
اگر آج آپ کے دل میں بھی کوئی ایسا درد ہے
جو آپ نے کسی سے نہیں کہا
تو یاد رکھئے
اللہ نے وہ درد سنا ہےجو آپ کی زبان نہ کہہ سکی
اور وہ آنسو دیکھے ہیں جو آپ کی آنکھ نہ بہا سکی۔
کبھی کبھی انسان کا سب سے بڑا امتحان یہ نہیں ہوتا کہ وہ کتنا سہہ سکتا ہے
بلکہ یہ ہوتا ہے کہ
وہ ٹوٹ کر بھی کتنا خاموش رہ سکتا ہے
اور آخر میں بس اتنا کہنا چاہوں گی:
اگر آپ کے پاس اختیار ہے
تو کسی کے لیے آسانی بنیں کیونکہ آپ نہیں جانتے
آپ کا ایک نرم لہجہ
کسی کو خودکشی سے روک سکتا ہے
اور آپ کا ایک سخت جملہ کسی زندہ دل کو مردہ بنا سکتا ہے۔