❗احساس وہ کیفیت ہے جو بغیر کسی اعلان کے دل میں اترتی ہے۔ خوشی ہو یا غم، محبت ہو یا خوف—احساس پہلے دل میں پیدا ہوتا ہے، لفظ بعد میں تلاش کیے جاتے ہیں۔ کئی مرتبہ احساس اتنا شدید ہوتا ہے کہ انسان خاموش ہو جاتا ہے، کیونکہ دل کی گہرائی میں اٹھنے والی لہر کو لفظوں کا کنارا میسر نہیں آتا۔ آنسو، خاموشی، مسکراہٹ یا ایک گہری سانس—یہ سب احساس کے وہ ترجمے ہیں جو الفاظ کے بغیر بھی بہت کچھ کہہ جاتے ہیں۔
الفاظ انسان کا سب سے بڑا ہتھیار بھی ہے اور سب سے بڑی کمزوری بھی۔ یہ احساس کو واضح بھی کرتا ہے اور کبھی کبھی مسخ بھی۔ ہر احساس کے لیے موزوں لفظ مل جانا آسان نہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جو محسوس کیا جاتا ہے، وہ کہا نہیں جا سکتا؛ اور جو کہا جاتا ہے، وہ پورا محسوس نہیں ہوتا۔الفاظ معنی کی سرحدوں میں قید ہوتا ہے، جبکہ احساس سرحدوں سے آزاد ہوتا ہے۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان بہت کچھ کہنا چاہتا ہے، مگر الفاظ ساتھ نہیں دیتے۔ کبھی الفاظ بہت ہوتے ہیں مگر احساس کھوکھلا ہوتا ہے۔ یہی تضاد تعلقات میں غلط فہمیوں کو جنم دیتا ہےـــــــــ
ایک شخص کا احساس سچا ہوتا ہے، مگر اس کے الفاظ سخت؛ دوسرے کے الفاظ نرم ہوتے ہیں، مگر احساس کمزور۔
اس فرق کو اگر نہ سمجھا جائے تو دل ٹوٹتے ہیں اور فاصلے بڑھتے ہیں۔
‼️لہٰذا سمجھ داری اسی میں ہے کہ ہم الفاظ بولتے وقت احساس کی حرمت کا خیال رکھیں، اور احساس کو پرکھتے وقت الفاظ کی کمزوری کو سمجھیں۔ جب دل اور زبان کے درمیان یہ توازن قائم ہو جائے تو انسان نہ صرف بہتر بولتا
ہے بلکہ بہتر سمجھنے بھی لگتا ہے۔
خاموش دل کی صدائیں بھی، سن لیتا ہے جو کوئی،
لفظوں کی بھیڑ میں اکثر، سچائی کھو سی جاتی ہے!
✍️از: صغریٰ انجم حنفی
-------------------------------------------
13/1/2026🗓️