🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ

انسان روزانہ نہ جانے کتنے سوالوں کا سامنا کرتا ہے
لوگ کیا کہیں گے؟
کل کیا ہوگا؟
میں کامیاب کب ہوں گا؟
مجھے کیا حاصل کرنا ہے؟

لیکن ان سب ہنگامہ خیز سوالوں کے شور میں ایک سوال ایسا ہے جو ہمیشہ خاموش رہ جاتا ہے…
ایک ایسا سوال جسے ہم جان بوجھ کر خود سے نہیں پوچھتے
کیونکہ اس کا جواب ہمیں آئینہ دکھا دیتا ہے۔
وہ سوال ہے:
میں جو ہوں، کیا واقعی وہی ہوں جو بننا چاہیے تھا؟”

خود سے فرار کی عادت
ہم دوسروں کی غلطیوں پر انگلی اٹھانے میں بڑے دلیر ہیں،
لیکن جب بات اپنی کمزوریوں کی ہو تو نظریں چرا لیتے ہیں۔

ہم خود کو مصروف رکھ کر، شور میں گم ہو کر، اور بہانوں کی چادر اوڑھ کر
اپنے ضمیر کی آواز دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہم کہتے ہیں:
وقت نہیں، حالات ٹھیک نہیں، لوگ ساتھ نہیں دیتے…
مگر سچ یہ ہے کہ
ہم خود کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔

 اپنی ذات سے دنیا کی سب سے مشکل ملاقات کسی دشمن سے نہیں،کسی اجنبی سے نہیں،
بلکہ اپنی ہی ذات سے ہوتی ہے۔

وہ لمحہ جب انسان تنہائی میں بیٹھ کر خود سے پوچھے
میں کہاں غلط ہو رہی ہوں؟
میں نے کس کو دکھ پہنچایا؟
میں نے کون سا حق دبایا؟
میں نے کون سا وعدہ توڑا؟

یہ سوال انسان کے غرور کو توڑ دیتا ہے
مگر اسی ٹوٹنے میں سنورنے کا راستہ بھی چھپا ہوتا ہے۔

ہم سوال سے کیوں ڈرتے ہیں؟
کیونکہ سوال ہمیں بدلنے پر مجبور کرتا ہے۔
اور انسان تبدیلی سے ڈرتا ہے۔
وہ اپنی پرانی عادتوں، اپنی سہولتوں اور اپنے بنائے ہوئے جھوٹے سکون کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔

ہم جانتے ہیں کہ اگر ہم نے خود سے سچ پوچھ لیا تو ہمیں خود کو سچ میں بدلنا پڑے گا
اور یہی سب سے کٹھن مرحلہ ہے۔

ایک سوال، پوری زندگی کا رخ
ذرا سوچیے…
اگر آج آپ خود سے یہ ایک سوال پوچھ لیں
اگر آج میری زندگی ختم ہو جائے تو کیا میں مطمئن ہوں؟”
تو شاید آپ کی ترجیحات بدل جائیں۔
آپ کی دعائیں بدل جائیں۔
آپ کا رویہ بدل جائے۔
آپ کا لہجہ بدل جائے۔

کیونکہ انسان جب اپنے انجام کو یاد رکھتا ہے تو اس کا آج سنورنے لگتا ہے۔
اصل کامیابی کا معیار کامیابی صرف دولت کا نام نہیں،
نہ ہی شہرت کا،نہ ہی لوگوں کی تعریفوں کا۔
اصل کامیابی یہ ہے کہ آپ کا دل مطمئن ہو،
آپ کا ضمیر گواہی دے،اور آپ کا رب آپ سے راضی ہو۔

لیکن یہ تب ہی ممکن ہے
جب ہم روزانہ خود سے وہ سوال پوچھیں جس سے ہم ہمیشہ بھاگتے رہے ہیں۔
آج خود سے وعدہ کیجیے آج ایک لمحہ نکالیے۔

خاموشی سے بیٹھئے۔اور خود سے ایمانداری کے ساتھ پوچھئے
“میں جو زندگی جی رہی ہوں،
کیا یہی وہ زندگی ہے جس کے لیے میں پیدا کی گئ تھی؟”
اگر جواب ہاں میں ہے تو شکر ادا کیجیے۔

اور اگر جواب نہیں میں ہے تو مایوس نہ ہوں۔
کیونکہ سوال پوچھ لینا ہی اصلاح کی پہلی سیڑھی ہے۔


یاد رکھیے،
جو انسان خود سے سوال نہیں کرتا
وہ زندگی سے کبھی صحیح جواب بھی نہیں پاتا۔
اور جو خود سے سچ پوچھنے کی ہمت کر لیتا ہے
وہی دراصل اپنی تقدیر کا رخ موڑ لیتا ہے۔
تو آج وہ سوال ضرور پوچھیے
جو آپ برسوں سے خود سے نہیں پوچھتے تھے
کیونکہ
شاید یہی سوال
آپ کی زندگی کا سب سے بڑا موڑ بن جائے۔