پتنگ بازی اور تشبہ بالکفار علمی جائزہ

خامہ بکف محمد پالن پوری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برِّصغیر میں پتنگ بازی کو عموماً ایک موسمی یا ثقافتی سرگرمی کہہ کر پیش کیا جاتا ہے حالانکہ اس کے پس منظر میں ایک گہرا مذہبی اور اعتقادی تناظر کارفرما ہے بالخصوص بسنت اور مکر سنکرانتی کے ساتھ اس کی وابستگی اتفاقی نہیں بلکہ ہندو مذہبی فکر، اساطیری تصورات اور شعائری علامات سے جڑی ہوئی ہے۔ اسی لیے اہلِ تحقیق نے اس مسئلے کو محض کھیل کے زاویے سے نہیں بلکہ مذہبی شعائر کے تناظر میں سمجھا ہے۔۔۔۔۔
ہندو تاریخی و مذہبی مصادر میں بسنت اور پتنگ بازی کو سورج، موسمِ بہار اور ماورائی طاقتوں کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ بعض ہندو مؤرخین نے اپنی تصانیف میں اس امر کا ذکر کیا ہے کہ بسنت کے موقع پر پتنگ بازی کو ایک مذہبی علامت کے طور پر فروغ دیا گیا اور اس کی بنیاد ایک ایسے شخص سے جوڑی گئی جس نے نعوذ باللہ امی عائشہ اور فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہما کی شان میں گستاخی کی تھی اس واقعے کو بعض ہندو مؤرخین نے اپنی کتب میں تاریخی واقعے کے طور پر درج کیا ہے جس کے بعد اس دن کو جشن کی صورت دے دی گئی اگرچہ یہ روایت مسلمانوں کے ہاں معروف نہیں مگر اس کا ذکر ہندو مصادر میں موجود ہونا اس بات کے لیے کافی ہے کہ اس تہوار کو محض غیر مذہبی تفریح قرار دینا علمی دیانت کے خلاف ہے۔
مزید برآں ہندو مذہبی کتب اور روایات میں پتنگ کو ایک علامتی وسیلہ سمجھا گیا ہے۔ ان مصادر کے مطابق پتنگ پر آنکھیں، چہرے یا مخصوص اشکال بنانا آسمان سے نازل ہونے والی بلاؤں، آفات اور نحوست کو دور کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ تصور دراصل غیر توحیدی فکر کا مظہر ہے جہاں کائناتی اثرات، بلائیں اور خیر و شر براہِ راست اشیاء اور علامتوں سے وابستہ کر دی جاتی ہیں۔ اسلام اس طرزِ فکر کو صریح شرک اور وہمی عقائد کے زمرے میں رکھتا ہے کیونکہ نفع و نقصان، حفاظت اور مصیبت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی شیئ سے جوڑنا عقیدۂ توحید کے منافی ہے۔۔۔
یہاں سے واضح ہوتا ہے کہ بسنت اور اس سے وابستہ پتنگ بازی محض موسمی خوشی نہیں بلکہ ایک مذہبی جشن ہے جس کی جڑیں ہندو مذہبی تصورات، اساطیری عقائد اور غیر اسلامی فلسفۂ کائنات میں پیوست ہیں اسی لیے فقہ اسلامی کے اصول کے مطابق ایسے اعمال میں شرکت جو کسی غیر مذہب کے شعائر بن چکے ہوں وہ ان شعائر کی تعظیم اور تائید کے درجے میں داخل ہو جاتی ہے خواہ شریک ہونے والا شخص اس عقیدے کا قائل نہ بھی ہو۔۔۔۔
اسلامی منہج اس مقام پر نہایت واضح ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے مذہبی تہواروں سے نہ صرف اجتناب فرمایا بلکہ امت کو اس سے الگ شناخت عطا کی اور یہی وجہ ہے کہ فقہائے اسلام نے صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ کسی ایسے عمل میں شرکت جسے کوئی قوم اپنے مذہبی دن یا مذہبی علامت کے طور پر اختیار کر چکی ہو تشبہ کے دائرے میں آتا ہے اور تشبہ فکری ہم آہنگی کی علامت ہوتا ہے۔۔۔
اس کے ساتھ ساتھ پتنگ بازی کے عملی نقصانات بھی اسلامی نظر میں نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ کیمیائی مانجھے اور تیز ڈور کے سبب انسانی جانوں کا ضیاع، بچوں اور راہ گیروں کے شدید زخمی ہونے کے واقعات، پرندوں کی ہلاکت، بجلی کی تاروں اور املاک کا نقصان اب محض احتمالات نہیں بلکہ روزمرہ کا مشاہدہ بن چکے ہیں۔ فقہ اسلامی کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ لا ضرر ولا ضرار یعنی نہ خود نقصان اٹھایا جائے اور نہ دوسروں کو نقصان پہنچایا جائے۔ چنانچہ وہ مباح عمل بھی ممنوع ہو جاتا ہے جو غالب طور پر ضرر کا سبب بنے۔ یہاں پتنگ بازی دوہری قباحت کی حامل بن جاتی ہے۔ ایک طرف مذہبی تشبہ اور غیر اسلامی شعائر سے وابستگی اور دوسری طرف جانی و مالی فساد۔
اصل خطرہ اس پورے معاملے میں پتنگ یا بسنت نہیں بلکہ وہ فکری رویہ ہے جو غیر اسلامی مذہبی شعائر کو ثقافت کا نام دے کر بے ضرر ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے یہی رویہ آگے چل کر عقیدے اور رسم کے درمیان لکیر مٹا دیتا ہے حالانکہ اسلام اپنی شناخت میں نہ مبہم ہے نہ لچکدار۔ وہ صاف طور پر یہ اعلان کرتا ہے کہ عبادت، تہوار اور مذہبی خوشی کے دائرے متعین ہیں اور ان دائروں کو عبور کرنا ایمان کی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے۔۔۔
لہٰذا علمی دیانت، دینی غیرت اور فکری ذمہ داری کا تقاضا یہ ہے کہ بسنت اور اس سے جڑی پتنگ بازی کو محض موسمی کھیل کہہ کر قبول نہ کیا جائے بلکہ اس کے پس منظر، مذہبی اساس اور عملی نقصانات کو سامنے رکھ کر واضح مؤقف اختیار کیا جائے کیونکہ دین خاموش سمجھوتوں سے نہیں بلکہ اصولی وضاحت سے محفوظ رہتا ہے اور جو قوم اپنے اصولوں پر پہرہ چھوڑ دے وہ آہستہ آہستہ اپنی شناخت بھی کھو بیٹھتی ہے۔۔۔۔۔