قرآن کی فضیلت و اہمیت 

گل رضاراہی ارریاوی ✍🏻

قرآن کریم اللہ رب العزت کا کلام ہے ،اس کی فضیلت واہمیت مسلم ہے،یہ کتاب ہر طرح کی شک وترد سے بالاتر ہے،
 کلام الٰہی جوتمام کتابوں میں افضل کتاب ہے، جس کی دائمی حفاظت کی ذمہ داری خود رب کریم نے لی ہے،
فرمان باری تعالیٰ 
أنا نحن نزلنا الذکر وأنا له لحافظون،
کہ ہم نے اس کو اتاراہے اور ہم ہی اس حفاظت کرنے والے ہیں 
حدیث قدسی ہے
 فضل کلامِ اللہ علی سائر الکلام کفضل اللہ علی خلقہ 

کلام الٰہی کو تمام کلاموں پر ایسے ہی فضیلت حاصل ہے جیسےخود اللہ رب العزت کو تمام مخلوق پر،
یہ فقرہ مشہور ہے ،
کلام الملوک ملوک الکلام کہ بادشاہوں کا کلام کلاموں کا بادشاہ ہے ،
اسی اہمیت کے پیش نظر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو خوب پڑھتے تھے 
قرآن ایسی کتاب ہے جو فصاحت و بلاغت ،انداز بیاں ،طرز تکلم میں باقی تمام کلاموں سے یکتا ویگانہ ہے، اس کا اسلوب نہایت دلکش ہے ،اس کے لہجہ میں گرج بھی ہےسکوں بھی ہے،وعدہ بھی ہے وعید بھی ،جزا بھی ہے سزا بھی ،یہ بشیر بھی ہےنذیر بھی 
یہی وجہ ہےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے اس کے تحفظ و بقا کےلیے قرآن کریم کوزبانی یاد کرنے کا مبارک سلسلہ جاری ہے، بلکہ نزول قرآن کے وقت خود آقا نبی علیہ الصلاۃ والسلام اس کو یاد کرنے میں جلدی کرتے تھے تاکہ کہیں بھول نہ جائیں ،جس کو قرآن کریم نے سورۂ قیامہ کے اندر یوں فرمایا ہے
لاتحرک بہ لسانک لتعجل بہ ،ان علینا جمعہ وقرآنہ،
اے پیغمبر آپ( قبل وحی ختم ہوچکنے کے ) قرآن پراپنی زبان کو نہ ہلایا کیجیے تاکہ آپ اسے جلدی جلدی لیں،(کیونکہ ) ہمارے ذمہ ہے( آپ کےقلب میں) اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا 
(بیان القرآن جلد ٣پارہ ٢٩سورہ قیامہ آیۃ١٦/٧١)
یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن یاد کرنے اوراس کے حفظ کے شوق میں زبان مبارک کو حرکت دیتے تھے تاکہ جلدی سے محفوظ ہوجاۓ،
اور ایک حدیث میں ہے
وعن ابن عباس رضی اللہ عنہما قال،قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أن الذی لیس فی جوفه شیئ میں القرآن کالبیت الخرب (رواہ الترمذی وقال حدیث حسن صحیح)
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں فرمایا! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس کے دل میں قرآن کا کچھ حصہ بھی نہ ہو وہ ویران گھر کی طرح ہے،

قرآن کریم صرف ایک کتاب نہیں بلکہ اصل الاصیل،اس کی کوئی نظیر نہیں ،بے مثال وبے نظیر ہے،لاریب ہے، جس کے سینے میں یہ کلام محفوظ ہے اس کا مقام کل بروز قیامت سب سے اعلی ہوگا،اس کے والدین کو سورج سے زیادہ روشن تاج پہنایا جائے گا،
اس کے پڑھنے والوں کو قرآنی آیت کے بقدر جنت میں مقام ومرتبہ حاصل ہوگا،
یہی وہ لوگ جن کے بارے میں آقا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ ،تم میں بہتر وہ ہے جو قرآن کریم کو سیکھے اور سکھائے ،
قرآن میں بیماروں کےلیے شفاہے ،مطیع وفرمان دار کےلیے جزا ہے،سرکش اور نافرمانوں کے لیے سزاہے،ہدایت کے طلب گاروں کےلیے روشن چراغ ہے،تاریک راتوں کےلیے صبح نو کی امید ہے، 
اگر تم دونوں جہاں کی کامیابی چاہتے ہو توقرآن سے اپنا رشتہ مضبوط کرو،اس کو سیکھو اور سکھاؤ، پڑھو اور پڑھاؤ-
ان شاءاللہ ہمارے لیے یہ نجات کا ذریعہ بنے گی