میں نے اپنی کاروباری زندگی سے بہت کچھ سیکھا ہے اور مشاہدہ کیا کہ کاروبار کیوں فیل ہوجاتے ہیں ۔
👈🏻1:- زیادہ تر کاروبار اس لیئے ختم ہوجاتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کس چیز کا کاروبار کرنا ہے ہم اپنے اردگرد لوگوں کو دیکھتے ہیں اور ان جیسا کام شروع کردیتے ہیں ان کے پاس تجربہ ہوتا ہے اور ہم فریشر ہوتے ہیں آخرکار فیل ہوجاتے ہیں ۔
اگر کاروبار شروع کرنا ہے تو چند ماہ کسی کے پاس ملازم رہ کر گزاریں اور دیکھیں کہ مالک کیسے ڈیل کرتا ہے اور اس کا رویہ کیا ہے ۔۔۔۔۔ جب تک تجربہ نہ ہوگا آپ مہنگی چیزیں خریدیں گے اور اپنا پرافٹ تو پرچیزنگ میں دے بیٹھے گے جس کی خرید جتنی سستی ہوگی وہ اتنا کمائے گا ۔
👈🏻2:- جب ہم کاروبار کرتے ہیں تو جگہ ، پروڈکٹ ، قیمت اور پرموشن کا تعین غلط کرتے ہیں ۔۔۔۔ مطلب ہم دوکان وہاں لے لیتے ہیں جہاں پہ لوگوں کی استطاعت خریدنے کی کم ہوتی ہے یا پہلے دن ہی ہم یہی سوچ لیتے ہیں کہ یہ چیز بیچیں گے تو اتنا پروفٹ آئے گا یا ہم اپنے بجٹ سے زیادہ اشتہار بازی میں خرچ کر دیتے جس کی وجہ سے انکم کم اور خرچے زیادہ ہوتے ہیں اور کاروبار فیل ہوجاتا ہے ۔
اس کا حل یہ ہے کہ جہاں جس چیز کی ضرورت ہے وہاں وہ چیز مہیا کریں ۔۔۔شروع شروع میں کسٹمر ڈیلنگ ، اشتہار بازی یعنی پرموشن ، پروڈکٹ میں مناسب نفع یعنی مناسب قیمت اور کم کرایہ پہ دوکان کا انتخاب ہی آپ کو کاروبار میں جتوا سکتا ہے ۔
👈🏻3:- جب کاروبار شروع کیا جاتا ہے تو ہم پہلے دن سے ہی گھر میں کاروبار کی سیل سے خرچہ کرنے لگ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ جس کی وجہ سے جو انوسٹمنٹ ہوتی ہے وہ ہم گھر ہی دے دیتے ہیں اور دو تین ماہ میں کاروبار فیل ہوجاتا ہے ۔
اس کا حل کم سے کم پورے ایک سال کا خرچہ آپ کے پاس الگ سے ہونا چاہیئے جس میں سے گھر کو سپورٹ کیا جائے تاکہ جو کاروبار سے کمایا ہوا پیسہ کاروبار میں ہی ڈالا جائے ۔۔۔۔ ایک سال میں آپ ہو سمجھ آجائے گا کہ کتنا آپ ایک ماہ میں کما رہے ہیں ۔
👈🏻4:- ہم سوچتے ہیں کہ ہم جو ملازم رکھیں گے وہ ہمیں کما کر کھلائے گا جس کی وجہ سے ہم مکمل اعتماد ملازم پہ کرتے ہیں جو کہ ہمیں Loss کی طرف لے جاتا ہے
اس کا حل یہی ہے کہ شروع میں سب کچھ آپ کو ہی ہونا چاہیئے ملازم ، منیجر اور صفائی کرنے والا ۔
جب تک آپ اپنی میں کو نہیں ماریں گے تب تک آپ کما نہیں سکیں گے ۔
👈🏻5:- شروع شروع میں ہمارے پاس کسٹمر آتا ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارا پکا گاہک ہے اور کسٹمر یہی کہتا ہے کہ گاہک بناؤ ۔۔۔۔۔ پھر دو تین دفعہ وہ نقد لے کر جاتا ہے اور کچھ دن کے بعد ادھار طلب کرتا ہے ۔۔۔۔۔ ہم ادھار لے بیٹھتے ہیں اور آہستہ آہستہ دوکان خالی ہوجاتی ہے
نہ وہ کسٹمر دوبارہ نظر آتا اور نہ ہی دوکان چلتی ہے ۔
اس کا حل یہی ہے کہ ٹھگوں سے ہوشیار رہیں اپنا مناسب ریٹ رکھیں ۔۔۔۔ کوالٹی پرووائیڈ کریں ۔۔۔۔ ادھار اگر کرنا ہے تو اپنا نفع ادھار کریں اپنی انوسٹمنٹ نہیں ۔
جو لوگ ادھار کر رہے ہیں ان کو پیچھے سے ادھار ملتا ہے اور وہ اپنے پکے گھروں کو ادھار دیتے ہیں ان کی دیکھا دیکھی اپنا کام خراب نہ کریں ان کو پچاس پچاس سال لگ گئے ہیں ۔
لکھنے کو بہت کچھ ہے لیکن آپ بور ہوجائیں گے آخری بات جو میں حارث حیات ھادی آپ کو کہنا چاہوں گا کہ کاروبار میں چند چیزیں پکڑ کر رکھیں پہلا ایمانداری جو شخص ایماندار ہوگا اس کا ساتھی رب کریم ہے ۔ دوسرا وقت کی پابندی کاروبار وقت مانگتا ہے جو انسان کاروبار کو وقت دینا جانتا ہوں وہ ہمیشہ کامیاب رہتا ہے تیسرا اللہ پاک کی شراکت اگر کاروبار کو کامیاب کرنا چاہتے ہو تو اپنے نفع سے ان لوگوں کی ضرور مدد کریں جو انتہائی مجبور ہیں یقین مانیں اللہ پاک آپ کو وہاں وہاں سے دے گا جہاں سے انسان سوچ نہیں سکتا۔۔۔۔