میڈیا کے منبر پر دین - عالمِ حق کہاں کھڑا ہے؟
مضمون (69) بسم اللہ الرحمن الرحیم 
علمِ دین ہمیشہ سے انبیاء علیہم السلام کی میراث رہا ہے، مگر ہر دور میں یہ سوال زندہ رہا ہے کہ حق کا علم کون سا ہے اور اس کا حامل کون؟
آج کے عہد میں، جب منبر و محراب، سوشل میڈیا اور عوامی مقبولیت نے علم کو شہرت کے ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے، یہ سوال اور بھی سنگین ہو چکا ہے۔
مزید یہ کہ موجودہ دور کے میڈیا کلچر میں ہم یہ منظر بھی بار بار دیکھتے ہیں کہ اسلامی اور پیچیدہ دینی مسائل کے نام پر نیوز اینکرز ایسے افراد کو.؛ اسلامی اسکالرز؛ بنا کر پیش کر دیتے ہیں جن کی نہ اسلامی علمی بنیاد مضبوط ہوتی ہے اور نہ دینی مزاج پختہ، اگرچہ وہ عصری تعلیم یافتہ اور خطابت میں ماہر ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ افراد بس شہرت، واہ واہی یا ذاتی مفاد کے لیے الٹے سیدھے جوابات دے کر نہ صرف قومِ مسلم کو فکری کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں بلکہ امت کو مزید الجھنوں، اعتراضات اور آزمائشوں کے جال میں دھکیل دیتے ہیں، جبکہ خود محفوظ اور مطمئن رہتے ہیں۔
ایسے پُرفتن ماحول میں حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کا یہ قول محض ایک نصیحت نہیں بلکہ ایک فکری میزان ہے، جو عالمِ حق اور عالمِ دنیا کے درمیان واضح حدِ فاصل کھینچ دیتا ہے۔
یہ مضمون اسی میزان کو قرآنِ مجید کی روشنی میں سمجھنے اور پرکھنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔
عالمِ حق کی بنیاد: رضاۓ الٰہی
حضرت تھانویؒ فرماتے ہیں کہ جو عالم اللہ والوں اور دین کے معاملے میں کسی کو خوش کرنے کے لیے بات بدلے، وہ عالمِ حق نہیں۔(افاضتِ اشرفیہ ؛ملفوظات. حکیم الامت. ص 380.)
یہ اصول براہِ راست قرآن کے اس بنیادی مزاج سے ہم آہنگ ہے:
﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾(الأنعام: 162) کہہ دیجیے: بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ ربّ العالمین کے لیے ہے۔ عالمِ حق کی زندگی، فکر اور موقف کا مرکز صرف اللہ کی رضا ہوتی ہے، نہ کہ عوام کی داد، شہرت یا وقتی مفادات۔ حق کی پہچان اکثریت سے نہیں. حضرت تھانویؒ اس نکتے پر زور دیتے ہیں کہ حق کی کسوٹی لوگوں کی تعداد یا دنیاوی قبولیت نہیں۔ یہی بات قرآن مختلف اسالیب میں واضح کرتا ہے﴿وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللّٰهِ﴾(الأنعام: 116) اور اگر تم زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کی بات مانو گے تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے گمراہ کر دیں گے۔
لہٰذا عالمِ حق وہ ہے جو اکثریت کی مخالفت کے باوجود حق پر قائم رہے، نہ کہ وہ جو عوامی رجحان دیکھ کر اپنا موقف بدل لے۔ شریعت کے مقابلے میں مصلحت؟
مولانا تھانویؒ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص شریعت کے خلاف جائے تو اس کی مخالفت لازم ہے، چاہے اس سے نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ یہی قرآنی منہج ہے﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ﴾
(النساء: 65) پس آپ کے رب کی قسم! یہ لوگ مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے اختلافات میں آپ ﷺ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں۔ شریعت کے خلاف مصلحت دراصل فتنہ ہے، اور عالمِ حق فتنہ پر خاموش نہیں رہتا۔ دنیاوی نقصان اور اخروی کامیابی حضرت تھانویؒ کے مطابق: دنیا بھی اس کے خلاف ہو جائے، تب بھی وہ شریعت کے خلاف قدم نہیں اٹھاتا۔
یہی وہ معیار ہے جسے قرآن یوں بیان کرتا ہے:
﴿مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَامَانَشَاءُ…﴾
(الإسراء: 18-19)
جو صرف دنیا چاہتا ہے، اسے دنیا ملتی ہے مگر آخرت کھو دیتا ہے، اور جو آخرت کو ترجیح دے، وہی کامیاب ہے۔ آج کے دور میں ہماری ذمہ داری
آج سب سے بڑا فتنہ یہ ہے کہ عالم کو تعداد، لائکس، واہ واہ اور مقبولیت سے پرکھا جاتا ہے، نہ کہ حق گوئی اور استقامت سے۔ جبکہ قرآن کا فیصلہ بالکل واضح ہے:
﴿الَّذِينَ يُبَلِّغُونَ رِسَالَاتِ اللّٰهِ وَيَخْشَوْنَهُ وَلَا يَخْشَوْنَ أَحَدًا إِلَّا اللّٰهَ﴾
(الأحزاب: 39)
وہ لوگ جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں، اسی سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ جب قرآنِ مجید کی آیات کو اس زاویے سے دیکھا جائے تو یہ حقیقت اور بھی نکھر کر سامنے آتی ہے کہ حق کی دعوت کبھی آسان راستہ نہیں رہی۔ انبیا علیہم السلام کی تاریخ گواہ ہے کہ حق گوئی کا صلہ ہمیشہ مقبولیت نہیں بلکہ آزمائش، تنہائی اور شدید مخالفت رہا ہے۔ باطل نے ہر دور میں اکثریت، طاقت اور شور کا سہارا لیا، جبکہ حق ہمیشہ دلیل، صبر اور استقامت کے سہارے کھڑا رہا۔ اسی لیے قرآن نے ہمیں بار بار یہ تنبیہ کی ہے کہ اہلِ حق کو لوگوں کے رجحان نہیں بلکہ اللہ کے حکم کو میزان بنانا چاہیے۔ جب علم اس میزان سے ہٹ جاتا ہے تو وہ ہدایت کے بجائے اختلاف، تعصب اور فتنہ پیدا کرنے لگتا ہے، اور جب اسی میزان پر قائم رہے تو زمانے کی اصلاح کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ آخرکار یہ حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ حق کا راستہ کبھی ہجوم کا محتاج نہیں رہا۔ عالمِ حق وہ نہیں جو سب کو راضی کر لے، بلکہ وہ ہے جو اللہ کو راضی کرنے کے لیے سب کی ناراضی مول لینے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ قرآن ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ حق کی قیمت تنہائی، مخالفت اور دنیاوی نقصان ہو سکتی ہے، مگر یہی قیمت دراصل اخروی کامیابی کی ضمانت ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عالم کو اس کی مقبولیت سے نہیں بلکہ اس کی حق گوئی، استقامت اور شریعت پر غیر مشروط ثابت قدمی سے پہچانیں۔
کیونکہ جو علم اللہ کے خوف سے خالی ہو، وہ روشنی نہیں بلکہ فتنہ بن جاتا ہے۔اللہ ہمیں حق کو پہچاننے، قبول کرنے اور اس پر ڈٹ جانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا ربّ العالمین۔
   بقلم محمودالباری 
mahmoodulbari342@gmail.com