ختمِ نبوت کا عقیدہ اتنا اہم اور اس قدر عظیم الشان ہے کہ بنا کسی تأویل وتطبیق کے، سچے دل سے اس کا اعتقاد کۓ بغیر کوئی شخص مؤمن نہیں ہو سکتا ، ختمِ نبوت کا مطلب یہ ہے کہ آقائے نامدار ،مدنئ تاج دار حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰه علیه وسلم آخری نبی ہیں ،آپ کے بعد کسی بھی قسم کا کوئی نبی نہیں آۓ گا ،اگر آپ کے بعد کوئی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ دجا،ل ،کذاب اور کائنات کا سب سے بدترین آدمی ہے، خاتم النبیین ہونا آپ صلی اللّٰه علیه وسلم کا امتیازی وصف ہے جس طرح اللہ تبارک وتعالیٰ کی وحدانیت میں کسی کو شریک کرنا آدمی کو مشرک جیسے مذموم اور قبیح ترین لقب سے ملقب کر دیتا ہے اسی طرح آقائے مدنی حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰه علیه وسلم کے وصفِ ختمِ نبوت میں کسی کو شریک کرنا بھی آدمی کو ایمان جیسی عظیم المرتبت اور رفیع الشان دولت سے محروم کر کے کفر کی وادیوں میں دھکیل دیتا ہے۔
ختمِ نبوت کی مزید تشریح
اللہ تعالیٰ نے ابتداۓ آفرینش میں دو محلوں کی بنیاد رکھی ہے ،ایک قصرِ عالم دوسرا قصرِ نبوت ، اللہ تعالی نے اس عالم کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلام کے ذریعہ سے مقدر فرمائی تو وہیں دوسری طرف نبوت کی بظاہر خشتِ اوّل بھی حضرت آدم علیہ السلام کو قرار دیا ،پھر ایک طرف یہ عالم اپنی تمام تر رنگینیوں سمیت پھیلتا رہا تا آں کہ اپنے اختتام کو پہنچ لیا تو دوسری طرف قصرِ نبوت کی تعمیر ہوتی رہی، یہاں تک کہ محل بن کر تیار ہو گیا ، چناں چہ جس طرح یہ عالم اپنی آخری کڑی میں ہے ،اسی طرح قصرِ نبوت کی بھی خشتِ آخر رکھی جا چکی ہے ، اب نہ تو اس عالم میں نئ کڑی (امت) کا اضافہ ہوگا اور نہ اب اس قصرِ نبوت میں کوئی اینٹ رکھی جائے گی خلاصہ یہ کہ قصرِ عالم کی آخری کڑی امتِ محمدیہ (علی صاحبھا الصلوٰۃ والسلام) ہے اور قصرِ نبوت کی آخری کڑی صاحبِ امتِ محمدیہ خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰه علیه وسلم ہیں۔
ایک طالب علم اور ناموسِ رسالت
1953شمشی کی تحریکِ ختمِ نبوت کا زمانہ تھا،ایک طالب علم ہاتھ میں کتابیں لۓ کالج جا رہا تھا سامنے تحریکِ ختمِ نبوت کے لوگوں پر گولیاں چل رہی تھی ،طالب علم کتاب رکھ کر جلوس کی طرف بڑھا کسی نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ جواب میں کہا آج تک پڑھتا رہا ہوں، اج عمل کرنے جا رہا ہوں، جاتے ہی ران پر گولی لگی ،گر گیا ،پولیس والے نے آ کر اٹھایا تو شیر کی طرح گرج دار آواز میں کہا: گولی ران پر کیوں ماری ہے ؟ عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تو دل میں ہے یہاں دل پر گولی مارو تاکہ قلب و جگر کو سکون ملے۔(ناموسِ محمد کے پاسباں,185)
آج میں بھی اسی طالب علم کی اتباع و پیروی کرتے ہوئے اہلِ باطل سے کہنا چاہتا ہوں، ختمِ نبوت کے دشمنوں کو باخبر کرنا چاہتا ہوں ،ختمِ نبوت کے لٹیرے اور ڈاکوؤں کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ ختمِ نبوت کی حفاظت کے لیے صرف یہ ایک طالب علم نہیں بل کہ لاکھوں اور کروڑوں طالب علم نہ صرف ہمہ وقت اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار ہیں، بل کہ تحفظِ ختمِ نبوت پر جان کا نذرانہ پیش کرنے کو سب سے بڑی سعادت سمجھتے ہیں۔
تحریر: عبد اللہ یوسف
یکم/ربیع الثانی ١٤٤٧ھ۔
بہ روز بدھ