زندہ والدین کے ہوتے ہوئے یتیم بچے!
ہمارے معاشرے میں ایک تلخ مگر کم بولی جانے والی حقیقت یہ ہے کہ بہت سے بچے والدین کے زندہ ہونے کے باوجود عملاً یتیمی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ بچے کسی حادثے یا قدرتی آفت کا شکار نہیں ہوتے، بلکہ وہ والدین کی بے توجہی، عدم دلچسپی اور جذباتی دوری کا شکار ہوتے ہیں۔ والدین تعلیم کے نام پر بچوں کو ہزاروں کلومیٹر دور ہاسٹلوں اور اداروں میں چھوڑ آتے ہیں اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ان کی ذمہ داری ختم ہو گئی ہے۔
حالانکہ بچے کی ضرورت صرف کتاب، فیس اور رہائش نہیں ہوتی۔ اسے ماں کی دعا، باپ کی نگرانی، خیریت پوچھنے والا ایک فون، اور یہ احساس چاہیے ہوتا ہے کہ “میرے پیچھے کوئی ہے”۔ مگر افسوس کہ سالہا سال گزر جاتے ہیں، نہ ملاقات، نہ فون، نہ یہ سوال کہ بچہ کس حال میں ہے، کسی پریشانی میں تو نہیں، کسی چیز کی کمی تو نہیں۔
یہ وہ خاموش ناانصافی ہے جو چیخ کر نظر نہیں آتی، مگر اندر ہی اندر بچے کی شخصیت کو توڑ دیتی ہے۔ بچہ بچپن سے ہی تنہائی، احساسِ محرومی اور اندرونی کشمکش میں پلتا ہے۔ باہر کے لوگ باتیں کرتے ہیں، طعنے دیتے ہیں، حالات دباؤ ڈالتے ہیں، مگر اندر سے وہ کسی سے کچھ کہہ بھی نہیں پاتا، کیونکہ اسے سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔
جب ایسا بچہ سال میں کبھی گھر واپس آتا ہے تو منظر اور بھی تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔ کچھ گھروں میں محبت، توجہ اور اپنائیت ملتی ہے، مگر کئی گھروں میں بچے کو بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ مار پیٹ، جھگڑے، تحقیر—گویا بچہ مہمان نہیں بلکہ مسئلہ ہو۔ نہ گھر میں سکون، نہ باہر اطمینان۔ سوال یہ ہے کہ ایسے حالات میں ایک حساس انسان آخر کرے تو کیا کرے؟
یہ کہنا آسان ہے کہ اسلام میں والدین کی نافرمانی منع ہے، اور یہ بالکل درست ہے۔ قرآن و حدیث ہمیں والدین کے احترام، صبر اور حسنِ سلوک کی تعلیم دیتے ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ والدین کی بھی ذمہ داریاں ہیں۔ اولاد کی بنیادی ضروریات جسمانی ہی نہیں، جذباتی اور نفسیاتی بھی نظر انداز کرنا ایک طرح کی ناانصافی ہے۔ یہ ظلم چیخ چیخ کر نہیں ہوتا، اس لیے اسے عام طور پر ظلم نہیں سمجھا جاتا، مگر اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر کسی بچے کے ساتھ ایسا ہو رہا ہو والدین دھیان نہیں دیتے، خیریت نہیں پوچھتے، ضروریات کا خیال نہیں رکھتےتو وہ بچہ کیا کرے؟
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ وہ نفرت، بغاوت اور گناہ کے راستے پر نہ جائے۔ والدین کے حقوق اپنی جگہ قائم رہتے ہیں، مگر ساتھ ہی بچے کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خود کو مضبوط بنائے۔ علم، ہنر، صبر، اور خود اعتمادی کو اپنا سہارا بنائے۔ اپنے مستقبل کے لیے محنت کرے، اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ حالات کا محتاج نہ رہے۔
دوسری بات یہ کہ وہ یہ سمجھے کہ یہ دنیا ہمیشہ انصاف پر نہیں چلتی، مگر اللہ کی عدالت کبھی خالی نہیں جاتی۔ انسان اکیلا ہی پیدا ہوتا ہے اور اپنی زندگی کی جدوجہد بھی خود ہی کرنی پڑتی ہے۔ اگر رشتے ساتھ نہ دیں تو حوصلہ، کردار اور محنت انسان کا اصل سرمایہ بن جاتے ہیں۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ آج کے معاشرے میں بعض والدین اولاد کو پیسے کے ترازو میں تولنے لگے ہیں۔ جو بچہ کماتا ہے، وہ عزیز؛ جو نہیں کما سکتا، وہ بوجھ۔ یہ رویہ اولاد کی شخصیت اور مستقبل دونوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ مگر اس کے باوجود مایوسی حل نہیں۔
ایسے تمام بچوں کے لیے پیغام یہی ہے کہ خود کو ٹوٹنے نہ دیں۔ اپنے اندر ہمت پیدا کریں، اپنے رب سے تعلق مضبوط کریں، اور یقین رکھیں کہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ حالات بدلتے ہیں، دن بدلتے ہیں، بس شرط یہ ہے کہ انسان خود کو بدلنے کے لیے تیار ہو۔
اللہ ہمیں والدین کی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی توفیق دے، اور ان بچوں کو صبر، حوصلہ اور کامیابی عطا فرمائے جو خاموش ناانصافی کا شکار ہیں۔ آمین۔
✍️ محمد فداء المصطفٰی قادری
پی جی اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی