*___________________________________*‼️
▫️ *مزارات پر حاضری اور آداب!*
جس بارگاہ میں انسان حاضر ہو، وہاں *ادب* سب سے پہلی اور بنیادی شرط ہے۔
خصوصاً مساجد اور اللہ کے نیک بندوں کے مزارات، یہ وہ مقدس مقامات ہیں جہاں حاضری صرف جسم کی نہیں بلکہ دل کی بھی ہونی چاہیے۔ یہاں قدم رکھتے وقت انسان کے انداز، حرکات اور رویّے سب ادب کے تابع ہونے چاہیے، کیونکہ یہ جگہیں سکون، خشوع اور اصلاحِ باطن کے لیے ہوتی ہیں، نہ کہ بے جا اظہار یا بے اعتدالی کے لیے۔
*افسوس کے ساتھ یہ منظر آج عام ہوتا جا رہا ہے* کہ بعض لوگ مزار پر آکر ادب کے تقاضوں کو ملحوظ رکھے بغیر ایسے افعال اختیار کرتے ہیں جو سلیقۂ ادب اور وقار کے خلاف ہیں،
*جیسے:*
قبروں کو بار بار چومنا،پورے مزار کو چوم چوم کر تر کر دیناحتیٰ کہ ناک اور آنکھوں سے لگانا اور مزار پر آکراس طرح جھک جانا کہ سجدےجیسی ہیئت ہو جائے ۔ 
 اوراسی طرح بزرگوں یا پیرانِ کرام کے ہاتھ پاؤں کو بار بار چوم کر پریشان کرنا بھی مناسب نہیں۔
*ہاں!* یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ اکثر لوگ پیرانِ کرام کے ہاتھوں کو اچھی نیت سے چومتے ہیں، لیکن نیت کا اعتبار اپنی جگہ مسلّم ہے۔
اورـــــ
`اس تحریر کا مقصد بلا وجہ تنقید نہیں، بلکہ اصلاح اور توجہ دلانا ہے۔`

تو جب کسی ایسے عمل سے دوسروں کو تکلیف ہو، جگہ گندی ہو جائے، یا تقدس مجروح ہونے لگے تو وہاں رک جانا ہی اصل ادب ہے۔
اور دور سے کھڑے ہو کر عقیدت اور احترام کا اظہار کرنا زیادہ باادب اور بہتر طریقہ ہے۔

*عقیدت کا اصل حسن یہی ہے* کہ انسان ادب و احترام اور سکون کے ساتھ حاضری دے، نہ کہ ایسے افعال کے ذریعے جو تقدس کو مجروح کرنے کا سبب بن جائیں۔
اسی لیے *اکابر اہلِ علم* نے *مزارات پر حاضری* کے واضح آداب بیان فرمائے ہیں۔
❗*امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان قادری بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:*
مزاراتِ شریفہ پر حاضر ہونے میں پائنتی کی طرف سے جائے اور کم ازکم چار ہاتھ کے فاصلے پر مواجہہ میں کھڑا ہو اور متوسط آواز سے بادب عرض کرے
’’السّلام علیک یا سیدی ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ‘‘
پھر درودِ غوثیہ تین بار، الحمد شریف ایک بار، آیۃ الکرسی ایک بار، سورۂ اخلاص سات بار، پھر درودِ غوثیہ سات بار۔
اور اگر وقت کی گنجائش ہو تو سورۂ یٰس اور سورۂ ملک بھی پڑھے، پھر اللہ عزوجل سے دعا کرے کہ:
اے اللہ! اس قراءت پر مجھے اتنا ثواب دے جو تیرے کرم کے قابل ہو، نہ کہ میرے عمل کے قابل، اور اسے میری طرف سے اس بندۂ مقبول کو نذر پہنچا۔
پھر اپنا جائز شرعی مطلب طلب کرے اور صاحبِ مزار کی روح کو اللہ کی بارگاہ میں وسیلہ قرار دے۔
پھر اسی طرح سلام کر کے واپس آئے، *مزار کو نہ ہاتھ لگائے، نہ بوسہ دے، طواف بالاتفاق ناجائز ہے اور سجدہ حرام۔*
(فتاویٰ رضویہ، جلد 9، صفحہ 522)
نیز فرماتے ہیں:
*جمہور علماء* (قبر کو بوسہ دینا) `مکروہ` جانتے ہیں، تو اس سے `احتراز` ہی چاہیے۔
(فتاویٰ رضویہ، جلد 9، صفحہ 526)

اور *حرمتِ سجدۂ تعظیمی و زمین پر بوسہ دینے* کے متعلق اپنے رسالہ
`"الزبدة الزكية في تحريم سجود التحية"` میں فرماتے ہیں: 
"مزارات کو سجدہ کرنا یا ان کے سامنے زمین چومنا `حرام` ہے، اور حدِ رکوع تک جھکنا `ممنوع`۔"
(فتاویٰ رضویہ: ج 22، ص 474)

آج مسئلہ یہ نہیں کہ عقیدت ختم ہو گئی ہے، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ `ادب کی پہچان کمزور ہو گئی ہے`۔

لہٰذا ضروری ہے کہ *ہم مزار پر حاضری کے آداب سیکھیں، سمجھیں اور اپنائیں،* تاکہ ہماری حاضری واقعی باعثِ ثواب بنے اور نادانستہ طور پر بے ادبی یا خلافِ ادب امور میں شمار نہ ہو۔

*اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک!* 
*اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے!*


*اللہ سبحانہ وتعالیٰ* ہمیں ہر طرح کی بے ادبی، غلو اور نادانی سے محفوظ فرمائے، اور ہمارے دلوں میں خشوع، عاجزی اور حقیقی احترام پیدا فرمائے۔
*آمین یا ربّ العالمین۔ــــــــــــ*

✍🏻*از: صغریٰؔ انجم حنفی*
*٤ جنوری، اتوار /۲۰۲٦ء*
  
*وقت:09:07 PM* 

*___________________________________________*