جب میں عمر میں بہت چھوٹا تھا تو ایک کتاب میں چند شاعرانہ سطریں پڑھی تھیں۔ الفاظ تو اب جوں کے توں یاد نہیں، مگر مفہوم کچھ یوں تھا:
جب بولو، سچ بولو
بولنے سے پہلے، تولو
یہ بات ہمیں بچپن ہی میں سکھا دی جاتی ہے، اور حقیقت میں یہ کوئی معمولی سبق نہیں۔
ہم اسے پڑھ تو لیتے ہیں، مگر اکثر اس کی گہرائی کو سمجھ نہیں پاتے۔
عزیزو!
یہ الفاظ ہی ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر لوگ ہمیں اچھا یا برا سمجھتے ہیں۔
الفاظ بے حد طاقتور ہوتے ہیں، اتنے طاقتور کہ یہ رشتوں کو جوڑ بھی دیتے ہیں اور توڑ بھی دیتے ہیں۔
یہی الفاظ سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق واضح کرتے ہیں۔
اس لیے کبھی الفاظ کو جھوٹ کا سہارا نہ بنائیے، بلکہ ہمیشہ سچ کو ہی اپنی زبان کا زیور بنائیے۔
اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے،
مگر فی الحال اتنا ہی کافی ہے کہ
بولنے سے پہلے سوچنا
اور سوچ کر سچ بولنا
ایک باشعور انسان کی پہچان ہے۔
شاکر گنگوہی