مجسمۂ شفقت: خوش دامن صاحبہ کی یاد میں
آتی ہی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو
✍ جلیل القاسمی
نائب قاضی و استاذ مدرسہ
بدرالاسلام بیگوسرائے، بہار
وقت اپنی رفتار سے چلتا رہا، دن اور رات کے قافلے گزرتے رہے، مگر کچھ تاریخیں ایسی ہوتی ہیں جو کیلنڈر کے اوراق سے نکل کر دل کے نہاں خانوں میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہو جاتی ہیں۔
10 جنوری 2025ء، مطابق 9 رجب المرجب 1446ھ—جمعہ کا دن—ایسی ہی ایک تاریخ ہے، جسے یاد کرتے ہی دل پر ایک خاموش اداسی اتر آتی ہے، آنکھیں بھیگنے لگتی ہیں اور روح کسی ان کہی کمی کا احساس کرنے لگتی ہے۔
وہ دن بظاہر عام تھا۔ کھانا پینا، بات چیت، مسکراہٹیں، دعائیں—سب کچھ حسبِ معمول۔ سورج نے ڈھل کر افق کو سلام کیا، رات نے اپنی سیاہ چادر پھیلائی، مگر اسی خاموشی میں تقدیر نے وہ چراغ بجھا دیا جس کی روشنی سے نہ صرف ایک گھر بلکہ ایک پورا حلقۂ نسواں منور تھا۔
اسی رات مجسمۂ شفقت، سراپا حیا و تقویٰ، پیکرِ اخلاص و وفا—خوش دامن صاحبہ—ہم سب کو آہ و فغاں کے ساحل پر چھوڑ کر اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہو گئیں۔
موت کا وقت تو مقرر ہے، مگر اس کی آمد ہمیشہ اچانک محسوس ہوتی ہے۔ انسان امید کے سہارے جیتا ہے، اور ہم بھی اسی گمان میں تھے کہ یہ سایۂ رحمت و برکت ہمارے سروں پر باقی رہے گا۔ مگر آہ! قزاقِ اجل نے وہ امانت واپس لے لی، جس کی قدر کا احساس اس کے چھن جانے کے بعد اور زیادہ شدت سے ہوا۔
76 برس کی زندگی؛ مگر محض عمر نہیں، خیر، اصلاح، شفقت اور تربیت کی ایک طویل داستان۔
وہ گئیں تو خالی ہاتھ نہیں گئیں؛ اپنے پیچھے ایسی یادیں، ایسی مثالیں اور ایسے نقوش چھوڑ گئیں جو وقت کی گرد سے ماند نہیں پڑتے۔
خوش دامن صاحبہ حیا و پاک دامنی کی جیتی جاگتی تصویر تھیں۔ سادگی ان کا زیور، انکساری ان کی پہچان، اور شریعت و سنت ان کا طرزِ حیات تھا۔ مہمان نوازی میں کشادہ دل، محتاجوں کے لیے جائے پناہ، اور بچوں کے لیے سراپا ممتا۔
بیٹی ہو یا بہو، طالبہ ہو یا مہمان—ان کی شفقت میں کبھی تفریق نہ رہی۔ مصنوعی امتیازات، نسب و تعلق کے تفاخر سے وہ کوسوں دور تھیں۔ ان کا دل دریا تھا، جو اپنے بیگانے، امیر و غریب سب کو یکساں سیراب کرتا۔
بچوں اور بچیوں کی تربیت ان کے نزدیک محض ذمہ داری نہیں، ایک دینی فریضہ تھی۔ لباس، گفتگو، نشست و برخاست، حتیٰ کہ لفظوں کے چناؤ تک پر ان کی باریک نظر رہتی۔ بے اعتدالی، مغرب پرستی، بے حیائی اور فحش کلامی پر ان کی اصلاحی گرفت مضبوط ہوتی، مگر لہجہ ہمیشہ محبت بھرا، انداز حکیمانہ اور اسلوب مشفقانہ ہوتا—اسی لیے ان کی بات دلوں میں اترتی اور دیرپا اثر چھوڑتی۔
ذکرِ الٰہی سے ان کی زبان تر رہتی، تلاوتِ قرآن سے ان کا دل منور۔ ضعفِ پیری اور جسمانی نقاہت کے باوجود نماز، اذکار اور شکر کا دامن نہ چھوڑا۔ ہر حال میں “الحمد للہ” کہنا ان کی زندگی کا حاصل تھا، اور یہی شکرگزاری دوسروں کے لیے حوصلے کا پیغام بن جاتی۔
وہ فرشتہ صفت خاتون تھیں؛ جن کے دل میں بغض، حسد، کینہ، جلن اور چغلی کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔ غیبت، بہتان اور الزام تراشی ان کی مجلس کے لیے ناقابلِ برداشت تھیں۔ وہ نہ صرف خود ان آلودگیوں سے بچتیں بلکہ اپنی محفل کو بھی ان سے پاک رکھتیں۔ ان کا ماننا تھا کہ عورتوں کی مجلس اگر ذکر و خیر سے خالی ہو جائے تو وہ اصلاح نہیں، زوال کا آغاز بن جاتی ہے۔
دینی اقدار کے زوال پر ان کا دل بے چین رہتا۔ اصلاحِ نسواں کی مجالس، مدرسۃ البنات کی سرپرستی اور دینی اداروں سے قلبی وابستگی—یہ سب ان کی زندگی کے روشن عنوانات تھے۔
وہ جانتی تھیں کہ اگر عورت سنور جائے تو نسلیں سنور جاتی ہیں، اور اگر ماں بگڑ جائے تو گھر و معاشرہ بکھر جاتا ہے۔
اپنی صاحبزادی سعدیہ حیدری نوری پرنسپل جامعہ طیبہ للبنات کی دینی، تعلیمی اور اصلاحی خدمات اور سرگرمیوں پر انہیں بجا طور پر فخر تھا۔ جامعة الصالحات اور جامعہ طیبہ للبنات ان کے دل کی دھڑکن تھے۔ ان اداروں کے احوال سے باخبر رہنا ان کے لیے باعثِ مسرت تھا۔
وہ کہتی تھیں کہ
تعلیم وہی بامعنی ہے جو ایمان کو مضبوط کرے، اور وہ علم جو کردار نہ بدلے، محض ایک کھوکھلا سرٹیفیکیٹ ہے۔ وہ چاہتی تھیں کہ بیٹیاں صرف تعلیم یافتہ نہ ہوں بلکہ صالح، باحیا اور باکردار ہوں۔وہ کہتی تھیں: “عورت کی اصل زینت علم نہیں، ایمان ہے؛ اور ایمان کے بغیر علم بوجھ بن جاتا ہے۔”
آج ان کی وفات کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے، مگر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کل ہی ہم سے جدا ہوئی ہوں۔ ان کی باتیں، دعائیں، نصیحتیں اور خاموش مسکراہٹیں اب بھی دلوں میں زندہ ہیں۔
آتی ہی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو
گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا
آخر میں بارگاہِ رب العزت میں دست بدعا ہیں کہ اللہ تعالیٰ خوش دامن صاحبہ کی بال بال مغفرت فرمائے، ان کی حیاتِ طیبہ اور اصلاحی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا کرے، انہیں خلدِ بریں میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے، اور ہم اہلِ خانہ سمیت تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم سے نوازے۔ آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے