وقف بچاؤ،دستور بچاؤ کانفرنس ایک تحریک

گل رضاراہی ارریاوی✍🏻 

خون کا ہر قطرہ ملت کےلیے قربان ہے
یہی میری شان ہے یہی میری پہچان ہے

سرزمین بہار وہ جگہ ہے جہاں سے کئی کامیاب تحریکیں چلی اور کئی انقلابات رونما ہوۓ-
 بہار کے بغیر ہندوستان کی تاریخ ناقص ہے گویا کہ بہار ہندوستان کی تاریخ کا تتمہ ہے
1857ءکی جنگ آزادی میں بہار کا ایک نمایاں کردار رہاہے چونکہ بہار اس وقت بنگال کے ساتھ ملحق تھا -
سرزمین بہارنے ہمشیہ ملت اسلامیہ اور مسلمانان ہند کےلیے کئی کامیاب تحریکیں چلائی ہیں جو سنہرے حروف سے کتابوں میں درج ہیں ،
اس کی کچھ تفصیلات فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے اپنی کتاب" وہ جو بیچتے تھے دوائے دل "'کے اندر ذکر فرمایاہے-
بہار بھلے ہی خستہ حالی وزبوں حالی کا شکار ہو مگر ملت کے تئیں فکرمندی اور اس کی آبیاری میں پیش پیش رہی ہے اور ہمیشہ قائد ملت کی آواز پر لبیک وسعدیک کا نعرہ بلند کیاہے -
بہار میں ویسے تو مختلف تنظیمیں ہیں جوکہ اپنے طور پر ملت اسلامیہ کی خدمت کررہی ہے -
مگر ان میں امارت شرعیہ ایک بڑی تنظیم ہیں جن کی بنیاد حضرت مولانا ابوالمحاسن سجاد رحمۃ اللہ علیہ نے مسلمانوں کے شرعی مسائل کے حل کے لیے رکھی تھی ،رفتہ رفتہ ان کا اثر ورسوخ مضبوط ومستحکم ہوااور اب ان کی گونج مسند نشینوں کو بھی لرزاں کردتیی ہے، ان کی آواز پر پورے بہار ہی نہیں پورے ملک کے لوگ گوش بر آواز ہو کر قربانی کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں -
بہار کو دینی لحاظ سے کو جن لوگوں نے سینچا اور پروان چڑھایا ان میں نمایاں نام مولانا ابوالمحاسن سجاد ،مولانا محمد علی مونگیری ،مولانا منت اللہ رحمانی ،مولانا قاضی مجاہد الاسلام ،مولانا اسرارالحق ،مولانا ولی رحمانی رحمہم اللہ ہیں ،جنہوں نے ملت کو متحد کرنے اور ملت کا شعور بیدار کرنے کی انتھک کوشش کی اور الحمدللہ وہ لوگ کامیاب بھی ہوئے -
اب جب کہ یہ لوگ پردۂ عدم میں مستور ہوۓ تو انہوں نے اپنے وارثین میں یہ درد پیدا کردیا جس کا نمونہ آج ہم دیکھ رہے ہیں -
وقف ترمیمی بل جو کہ غیرآئینی سیاہ قانون ہے جسے حکومت زبردستی طاقت کے بل بوتے مسلط کرنا چاہتی ہے یہ براہ راست ملت اسلامیہ پر یلغار اور مسلمانوں کی شناخت کمزور کرنے کی ناپاک سازش ہے 
اس کو لےکر ملت کی تمام تنظیم تشویش میں ہے اور اس کو مسترد کرنے کے لیے تمام ملی تنظیمیں کوشش کررہی ہیں ،اس کےلیےکانفرنس کی جارہی ہیں اور حکومت کو یہ پیغام دینے کی پوری سعی پیہم کی جارہی ہےکہ ملت اسلامیہ ایسے کوئی بھی قانون کو گوارہ نہیں کرے گی جو ملت اور اہل ملت کے وجود پر حملہ ہو
اسی سلسلے کی ایک سنہری کڑی اور شاندار نمونہ آج ٢محرم الحرام ١٤٤٧ھ بمطابق 29جون 2025ء بروز شنبہ وقف بچاؤ ،دستور بچاؤ کانفرنس ہے ،جو کہ حضرت امیرِ شریعت ولی فیصل رحمانی صاحب کی سعی پیہم اور جہدِ مسلسل کا نتیجہ ہے 
اور انہی کی قیادت میں یہ کانفرنس منعقد ہوئی ہے
اس کانفرنس میں لاکھوں کی تعداد میں سیاسی وغیرسیاسی معزز شخصیات نے شرکت کی ،تمام لوگوں نے موجودہ حکومت کو یہ پیغام دیا کہ آپ کا وقف کے سلسلے میں کوئی بھی قانون بنانا جس سے ملت کمزور ہو اس کا اختیار نہیں ہے ،
امیر شریعت کی یہ کوشش اور ملت کے تئیں فکر مند دیکھ کر آج دل کو قلبی اطمینان ہورہاہے کہ جب تک ملت اسلامیہ کو ایسے قائد ملتے رہیں گے ان شاءاللہ اہل ملت کو کبھی بھی یہ محسوس نہیں ہوگا کہ ہم اب کچھ نہیں کرسکتے 
حضرت امیرِ شریعت نے اس کے انعقاد کی تاریخ میں بھی اسلامی تاریخ کو ملحوظ رکھا -
اور ہو کیوں نہ ایک محرم الحرام خود قربانیوں کا مہینہ ہے جس میں اہل حق نے جام شہادت تو نوش کرلیا مگر باطل کے سامنے سر نگوں نہ ہوا اورجب سرزمین بہار کی ہو تو نور علی نور -
آج کی یہ کانفرنس ایک پروگرام نہیں بلکہ ایک تحریک ہے جو کہ اپنے انجام تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی- ان شاءاللہ 
وہ لوگ لائق مبارک باد ہیں جنہوں نے اس کانفرنس میں شریک ہوکر امیر شریعت کےفکروں اور انکے حوصلوں کومزید مستحکم کیا اور ان کے روح کو جلا بخشا جس سے مستقبل میں مزید حوصلوں کے ساتھ آگے بڑھنے میں قوت ملےگی -
آج کے کانفرنس سے یقینا یہ احساس تو ہوا کہ ملت اب متحد ہے، شریعت کے خلاف ہر اٹھنے والی آواز کا ملت اسلامیہ دندان شکن جواب دینے کے لیے ہمہ وقت مستعد و تیار ہے 
باری تعالیٰ کی ذاتِ عالی سے یہ امید بستہ ہے کہ وہ اس کا مثبت نتیجہ عطاء فرمائے گا اور یہ سیاہ قانون مسترد ہوگا 
ان شاءاللہ