حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ تعالیٰ بہت بڑے ولی اللہ تھے۔ ان کے قصبہ “گنگوہ” میں مولانا قاسم نانوتوی اور مولانا رشید احمد گنگوہی بہت سے علماء کے ساتھ اکٹھے تھے۔ گرمی کے موسم میں دوپہر کے وقت گھروں سے نکل کر آ گئے۔ مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب میں دوپہر کے وقت گنگوہ پہنچا تو پیاس بہت ہی لگی، گنگوہ میں حضرت کی خانقاہ کے قریب ایک پختہ پانی کا کنواں تھا، میں کنویں پر پہنچا تو دیکھا کہ لوٹے میں پانی موجود ہے، میں بڑا خوشی ہوا، جب میں نے پیالہ پانی اٹھایا اور کہا کہ میں تھوڑا تھوڑا رکھ کر پیا لیکن وہ بہت پیاس ختم نہ ہوئی۔
حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ تعالیٰ تشریف لائے، میں نے عرض کیا کہ آپ کے کنویں کا پانی کیسے گوارا ہو گیا؟ فرمایا کہ وہ کنواں بے نمازی کی قبر پر کھودا گیا ہے۔
حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ تعالیٰ نے کچھ دیر تک سکوت فرمایا، پھر فرمانے لگے کہ حضرت! اس کنویں کا پانی تو ٹھنڈا ہی ہے، لیکن یہ وہی ہے جو اس آدمی کی قبر سے نکلا گیا ہے کہ جس کی قبر میں بے نمازی دفن ہے۔
دیکھئے! اپنی نماز کا خیال رکھو، دوپہر میں سکایا ہوا پانی میں ٹھنڈک کیا لاتا ہے، مگر اس میں بے نمازی کی قبر کی نحوست شامل ہو جائے تو سوچئے کہ اس قبر میں مردہ کا کیا حال ہوگا؟
(خطباتِ فیض، ص: 356)
اللہ تعالیٰ ہم سب کو عذابِ قبر سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
مفتی صادق امین قاسمی