بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
واقعۂ معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ثبوت آیات قرآنی سے:
اس واقعہ کی تاریخ اور سال کے متعلق ‘ مؤرخین کی راۓ مختلف ہیں، ان میں سے ایک رائے یہ ہے کہ نبوت کے بارہویں سال ۲۷ رجب کو ۵۱ سال ۵ مہینہ کی عمر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی، جیساکہ علّامہ قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’مہرِ نبوت‘‘ میں تحریر فرمایا ہے۔
اِسراء کے معنی رات کو لے جانے کے ہیں۔ مسجدِ حرام (مکہ مکرمہ) سے مسجدِ اقصیٰ کا سفر جس کا تذکرہ سورۂ بنی اسرائیل ’’سُبْحَانَ الَّذِیْ أَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی الْمَسْجِدِ الْأَقْصٰی‘‘ میں کیا گیا ہے، اس کو اِسراء کہتے ہیں۔ اور یہاں سے جو سفر آسمانوں کی طرف ہوا اس کا نام معراج ہے۔
’’معراج‘‘ عروج سے نکلا ہے جس کے معنی چڑھنے کے ہیں۔ حدیث میں’’عُرِجَ بِيْ‘‘ یعنی ’’مجھ کو اوپر چڑھایا گیا‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے، اس لیے اس سفر کا نام معراج ہوگیا۔
اس مقدس واقعہ کو اِسراء اور معراج دونوں ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس واقعہ کا ذکر سورۂ نجم کی آیات میں بھی ہے:
’’پھر وہ قریب آیا اور جھک پڑا، یہاں تک کہ وہ دو کمانوں کے فاصلے کے برابر قریب آگیا، بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک، اس طرح اللہ کو اپنے بندے پر جو وحی نازل فرمانی تھی، وہ نازل فرمائی۔‘‘
سورۃ النجم کی آیات ۱۳-۱۸ میں وضاحت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس موقع پر) بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں:
’’ اور حقیقت یہ ہے انہوں نے اس (فرشتے) کو ایک اور مرتبہ دیکھا ہے۔ اس بیر کے درخت کے پاس جس کا نام سدرۃ المنتہیٰ ہے، اسی کے پاس جنت المأویٰ ہے، اس وقت اس بیر کے درخت پر وہ چیزیں چھائی ہوئی تھیں جو بھی اس پر چھائی ہوئی تھیں۔ (نبی کی) آنکھ نہ تو چکرائی اور نہ حد سے آگے بڑھی، سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بہت کچھ دیکھا ہے۔‘‘
اور یہ واقعہ احادیثِ متواترہ سے بھی ثابت ہے، یعنی صحابہؓ، تابعینؒ اور تبع تابعینؒ کی ایک بڑی تعداد سے معراج کے واقعہ سے متعلق احادیث مروی ہیں۔
انسانی تاریخ کا سب سے لمبا سفر
قرآن کریم اور احادیثِ متواترہ سے ثابت ہے کہ اسراء ومعراج کا تمام سفر صرف روحانی نہیں، بلکہ جسمانی تھا، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سفر کوئی خواب نہیں تھا، بلکہ ایک جسمانی سفر اور عینی مشاہدہ تھا۔ یہ ایک معجزہ تھا کہ مختلف مراحل سے گزرکر اتنا بڑا سفر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے صرف رات کے ایک حصہ میں مکمل کردیا۔
واللّٰہ اعلم بالصواب
۔۔
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ