امام وقت حضرت عبداللہ بن مبارکؒ خود اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ شام کے سفر میں نے کسی سے ایک قلم عاریتاً لیا، پھر اس سے لکھنا بھول گیا۔ جب واپس اپنے وطن مرو پہنچا تو دیکھا کہ وہ قلم میرے ساتھ آ گیا ہے۔ میں نے فوراً سفر کرنے کا ارادہ کیا اور قلم واپس کیا۔ حالانکہ اس زمانے میں مرو سے قلم لوٹانے کے لیے موٹے موٹے تھیلے پیتل کے تصور بھی نہ تھا۔ آپ کا مشہور قول ہے کہ “شبہ کے مال کا ایک درہم، حلال کے ایک لاکھ درہم سے بہتر ہے۔”
(مقدمۃ کتاب البر، ص 35)
یہ اللہ کے مقبول بندوں کے ورع و تقویٰ کی چند جھلکیاں ہیں جن سے ہمیں یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ ان حضرات کو اپنے بلند منصب کا کس قدر خیال تھا اور انہوں نے اپنی دینی عزت بچانے کے لیے کس قدر احتیاط اور حقوق پورا کرنے کی عادت ڈالی تھی۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ ان کی خدمات میں ایسی برکت ظاہر ہوئی کہ دنیا میں اشاعت بندوں کے بعد کے لوگوں میں بھی جن حضرات نے ان پاک نفوس کی قربتوں کو رہنمائی بنایا ان کی صفات اپنا نے کی کوشش کی، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے بھی قبولیت کے دروازے کھول دیے۔
مفتی صادق امین قاسمی