🌿 کیا واقعی ہمارے اکابر قلیل تنخواہوں پر زندہ رہتے تھے؟
کیا وہ بھی ہم مولویوں کی طرح اضطراری فقر کے مارے تھے؟
کیا قلتِ رزق نیکی اور اخلاص کی علامت سمجھنا واقعی درست ہے؟
یہ سوال بہت اہم ہے۔ آئیے ان مثالوں کو غور سے دیکھتے ہیں جنہیں غلط طور پر "اخلاص کی دلیل" بنا کر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت برعکس ہے۔
1️⃣ حضرت قاسم نانوتویؒ
سوانح قاسمی کے مطابق آپ آٹھ/دس روپے اجرت پر مطبع میرٹھ میں کام کرتے تھے۔ اس وقت اتنی رقم میں ایک بائیسکل خریدی جا سکتی تھی۔ آج کے حساب سے یہ تنخواہ تقریباً دو لاکھ روپے کے قریب بنتی ہے۔
2️⃣ شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ
کتاب کے مطابق آپ کی تنخواہ پچھتر (75) روپے ماہانہ تھی۔ آپ پچیس روپے دارالعلوم کو واپس کرتے تھے۔ اس وقت پچھتر روپے میں ایک قیمتی زمین کا پلاٹ خریدا جا سکتا تھا۔
3️⃣ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ
علیگڑھ کے وقت آپ کی تنخواہ پچاس (50) روپے تھی۔ جب پانچ سو روپے جمع ہو گئے تو فرمایا:
"اب مجھ پر حج فرض ہو گیا ہے۔"
یعنی دس ماہ کی تنخواہ سے حج ممکن تھا۔ آج کے حساب سے اگر حج کے لیے کم از کم تیرہ لاکھ روپے درکار ہیں، تو کسی مولوی کی سالانہ تنخواہ تیرہ لاکھ روپے ہونی چاہیے تاکہ وہ اسی نسبت سے خوشحال ہو۔
4️⃣ حضرت مولانا منظور نعمانیؒ
تنخواہ 250 روپے تھی، اور مہینے بھر کا خرچ صرف 1500 روپے بنتا تھا۔ یعنی چھ ماہ کی تنخواہ میں سال بھر کا خرچ نکل آتا تھا۔
💬 نتیجہ
اخلاص اور خوشحالی کے ساتھ جو فقر تھا، وہ اختیاری فقر تھا، اضطراری نہیں۔
ان حضرات کے پاس وسائل کم تھے مگر عزت، وقار اور برکت زیادہ تھی۔
آج کے دور میں:
مہنگی مساجد، سستے امام، عظیم الشان مدرسے مگر محتاج معلم — لاکھوں کے چندے، مگر ہزاروں کی اجرت میں محروم،
مدرس فاقہ کش، معلم پریشان...
اگر تمہاری تنخواہ اتنی کم ہے کہ تم ماں باپ، بیوی بچوں، اور اپنے جسم کے بھی حقوق ادا نہیں کر سکتے تو تم اللہ کی نظر میں مجرم ہو۔
حدیث میں آیا ہے:
"کاد الفقر أن یکون کفرا"
(فقر انسان کو کفر کے قریب کر دیتا ہے)
⚠️ پیغام
خدارا! "اخلاص کا لالی پاپ" کھا کر اپنی نسلوں کو فقر میں نہ دھکیلیں۔
دین کی خدمت ضرور کریں مگر ذلیل ہو کر نہیں۔
اگر کوئی مسجد یا مدرسہ تمہیں وقت کے مطابق تنخواہ نہیں دیتا، تو دوسرا ذریعہ تلاش کرو۔
کوئی عیب نہیں اگر تم روزی کے لیے دکان چلاتے ہو یا آن لائن پڑھاتے ہو۔
🤲 دعا
یَا اللّٰہ!
علمائے کرام کو فقر کے شکنجوں سے نجات عطا فرما،
اماموں، مؤذِّنوں، معلموں کو عزت، سکون اور سہولت دے۔
ہمارے اداروں میں وہ روشنی پھر سے بھر دے جس سے دین کے اصل خادم چراغ بنیں
اور امت کو اندھیروں سے نکالیں۔
آمین یا رب العالمین 🌸
ماشاءاللہ ❤️