وجودِ خدا پر کائنات کا ذرہ ذرہ گواہ
✍: جلیل القاسمینائب قاضی و استاذ مدرسہ
بدرالاسلام بیگوسرائے، بہار
خدا کا وجود محض ایک عقیدۂ مذہب نہیں، بلکہ انسانی فکر، اخلاق اور تہذیب کی بنیاد ہے۔ دنیا کے تمام بڑے مذاہب میں خدا کے وجود کا تصور مشترک رہا ہے، کیوں کہ یہی یقین انسان کو ایک اعلیٰ قوت کے سامنے جواب دہ ہونے کا احساس دلاتا ہے، اس کے ضمیر کو بیدار کرتا ہے اور اسے خیر، عدل اور ذمہ داری کی راہ پر قائم رکھتا ہے۔ خدا پر ایمان انسان کو محض خواہشات کا غلام نہیں بننے دیتا، بلکہ اسے مقصدِ حیات عطا کرتا ہے۔
مگر عہد حاضر کا المیہ یہ ہے کہ مغربی تہذیب نے خدا پرستی کے بجائے شہوت پرستی کو اپنی بنیادی دعوت بنا لیا ہے۔ اس فکری نظام میں خدا کا تصور سب سے بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ خدا کا یقین انسان سے ضبطِ نفس، اخلاقی پابندی اور جواب دہی کا مطالبہ کرتا ہے۔ اسی ماحول کا نتیجہ ہے کہ نئی نسلوں میں مختلف صورتوں میں الحاد اور خدا بیزاری فروغ پا رہی ہے۔ ایسے حالات میں یہ ازحد ضروری ہے کہ مسلمان اپنے بچوں کی فکری اور ایمانی تربیت میں خدا کے وجود اور اس کی معرفت کو بنیادی حیثیت دیں۔
اللہ تعالیٰ کے وجود کو ماننے کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ ہم اسے آنکھوں سے نہیں دیکھتے، مگر ہم اس کے وجود، قدرت اور حکمت پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ وہی اس کائنات کا خالق ہے، وہی اس کے نظام کو چلا رہا ہے، اور اسی کے حکم سے ہر شے اپنے دائرے میں متحرک ہے۔ یہی یقین انسان کو اطاعت، بندگی اور عاجزی کا راستہ دکھاتا ہے۔اگر نگاہِ بصیرت سے دیکھا جائے تو کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کے وجود کی شہادت دے رہا ہے، مگر چند نمایاں دلائل ایسے ہیں جو عقلِ سلیم کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔
تخلیق کا بدیہی قانون
ہم روزمرہ زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ کوئی بھی چیز بنانے والے کے بغیر وجود میں نہیں آتی۔ سوئی سے لے کر ہوائی جہاز تک، ایک معمولی کھلونے سے لے کر فلک بوس عمارت تک—ہر شے کسی صانع کی محتاج ہے۔ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ ایک شاندار محل ازخود وجود میں آ گیا، تو اسے دیوانگی سمجھا جائے گا۔ پھر یہ وسیع و عریض کائنات، جس میں کہکشائیں، ستارے، سیارے اور زمین و آسمان شامل ہیں، کسی خالق کے بغیر کیسے وجود میں آ سکتی ہے؟ قرآن مجید اسی بدیہی حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے سوال کرتا ہے: اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ
ترجمہ: کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے خدا کے بارے میں کوئی شک ہو سکتا ہے؟
تغیر اور حرکت کی دلیل
کائنات کا ہر لمحہ تغیر سے عبارت ہے۔ دن رات میں بدلتا ہے، بچہ جوانی اور پھر بڑھاپے میں داخل ہوتا ہے، بیماری کے بعد صحت آتی ہے، زندگی موت میں بدلتی ہے اور فنا کے بعد نئی تخلیق کا دروازہ کھلتا ہے۔ یہ مسلسل تبدیلی کسی اندھی فطرت کا کھیل نہیں ہو سکتی۔ ہر تبدیلی کے پیچھے کوئی محرک، کوئی عامل اور کوئی مدبر ہوتا ہے۔ جیسے لکڑی کے تختے خود بخود کرسی میں تبدیل نہیں ہو جاتے، ویسے ہی یہ عالمِ ہست و بود کسی حکیم طاقت کے بغیر مسلسل ارتقا کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔ اسی حقیقت کی طرف قرآن اشارہ کرتا ہے:
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ ترجمہ: بے شک آسمان و زمین کی تخلیق اور شب و روز کی گردش میں عقل والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔
نظامِ کائنات اور توازن
کائنات میں حیرت انگیز نظم و ضبط پایا جاتا ہے۔ ہزاروں ستارے خلا میں گردش کر رہے ہیں، مگر نہ ٹکراتے ہیں اور نہ اپنے مدار سے ہٹتے ہیں۔ زمین پر انسان کی بنائی ہوئی گاڑیاں آئے دن حادثات کا شکار ہوتی ہیں، مگر سورج اور چاند کے درمیان کبھی تصادم نہیں ہوا۔ یہ نظم اس بات کا اعلان ہے کہ کوئی طاقت ہے جو حکمت کے ساتھ اس پورے نظام کو کنٹرول کر رہی ہے۔ قرآن کہتا ہے: اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ ترجمہ: سورج اور چاند ایک مقرر حساب کے پابند ہیں اور فرمایا: اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ ترجمہ: ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے کے ساتھ پیدا کیا ہے۔
انسان: ایک زندہ دلیل
انسان خود اللہ کے وجود کی سب سے روشن دلیل ہے۔ ایک ہی ماں باپ سے پیدا ہونے والے بچوں میں شکل، آواز، مزاج اور صلاحیتوں کا حیرت انگیز تنوع پایا جاتا ہے۔ اگر مادہ ہی سب کچھ ہوتا تو یہ تنوع ممکن نہ تھا۔ قرآن اس حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے کہ تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف بھی اللہ کی نشانیوں میں سے ہے۔ یہ تنوع کسی قادر، حکیم اور مدبر ذات کے بغیر ممکن نہیں۔
فطرتِ انسانی کی گواہی
انسانی فطرت خود خدا کے وجود کی متلاشی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ انسان کی غالب اکثریت نے کسی نہ کسی صورت میں خدا کو مانا ہے۔ منکرینِ خدا ہمیشہ اقلیت میں رہے ہیں۔ یہ فطری میلان اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا کا تصور انسان پر باہر سے مسلط نہیں کیا گیا، بلکہ وہ اس کی سرشت میں پیوست ہے۔
نظر نہ آنے کا مغالطہ
خدا کے منکرین کہتے ہیں کہ چونکہ خدا نظر نہیں آتا، اس لیے وہ موجود نہیں۔ مگر عقلِ سلیم اس دلیل کو قبول نہیں کرتی۔ ہوا نظر نہیں آتی، مگر اس کا وجود مسلم ہے۔ عقل نظر نہیں آتی، مگر اس کے آثار ہر جگہ ہیں۔ روح کا مشاہدہ ممکن نہیں، مگر اس کے بغیر زندگی کا تصور ناممکن ہے۔ لہٰذا کسی چیز کا نظر نہ آنا، اس کے نہ ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔
فطرت کا خود ساختہ نظریہ
ملحدین کائنات کے نظام کو فطرت کے نام پر ٹال دیتے ہیں، مگر فطرت خود ایک سوال ہے، جواب نہیں۔ اگر فطرت سب کچھ کرتی، تو ہر چیز میں یکسانیت ہوتی، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ اختلاف، یہ تنوع اور یہ مقصدیت اس بات کی گواہ ہے کہ کوئی حاکمِ مطلق ہے جو اپنے حکم سے کائنات کو چلا رہا ہے۔
الغرض، کائنات کی تخلیق، اس کا نظم، انسان کی فطرت اور عقلِ انسانی—سب مل کر اللہ کے وجود کی شہادت دیتے ہیں۔ خدا کا انکار دراصل عقل، فطرت اور مشاہدے تینوں کا انکار ہے۔ خوش نصیب ہے وہ انسان جو کائنات کی صداؤں کو سن لے اور اپنے خالق کو پہچان لے؛ کیونکہ یہی پہچان انسان کو انسان بناتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔