کتابِ جاناں": سیرتِ نبویؑ کا معتبر و شفاف آئینہ
سیرت، تحقیق اور عشقِ رسولؑ کی علمی تعبیر کا سنگم
✍ جلیل القاسمی
نائب قاضی و استاذ مدرسہ
بدر الاسلام، بیگوسرائے، بہار
سرزمینِ بیگوسرائے علم و فضل کی روایات میں ہمیشہ زرخیز رہی ہے۔ اس مردم خیز خطے نے امت کو جو قابلِ فخر فرزند عطا کیے، ان میں نامور محقق، جید عالم و فقیہ اور صاحبِ طرز ادیب ہمارے سینئر برادر مکرم مولانا مفتی شکیل منصور القاسمی کا نام نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔ ان کا تعلق دارالعلوم دیوبند کے اس فیض یافتہ قافلے سے ہے جس نے علم کو اخلاص، تحقیق کو دیانت اور قلم کو مقصدیت عطا کی۔
راقم کے لیے یہ نسبت باعثِ مسرت بھی ہے اور موجبِ شرف بھی کہ دارالعلوم دیوبند میں وہ ہم سے ایک سال سینئر رہے اور آج علمی و تصنیفی افق پر ایک روشن، معتبر اور مستند حوالہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
مولانا مفتی شکیل منصور القاسمی ان اہلِ علم میں سے ہیں جن کی تحریروں میں فقاہت کی پختگی، تحقیق کی گہرائی اور ادب کی شائستگی یکجا ہو جاتی ہے۔ ان کا قلم نہ سطحی ہے اور نہ محض جذباتی؛ بلکہ دلیل، توازن اور حسنِ بیان کا ایسا حسین امتزاج پیش کرتا ہے جو قاری کو فکری اطمینان بھی دیتا ہے اور قلبی سرشاری بھی۔ یہی اوصاف ان کی تازہ اور وقیع تصنیف "کتابِ جاناں" میں پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔
"کتابِ جاناں" محض سیرتِ نبوی کی ایک کتاب نہیں، بلکہ عشقِ رسول، دیانتِ تحقیق اور حسنِ ترتیب کا ایسا دل نشیں سنگم ہے، جو قاری کے دل و ذہن کو بیک وقت مسخر کر لیتا ہے۔ مطالعے کے دوران یوں محسوس ہوتا ہے گویا مؤلف نے قلم نہیں اٹھایا، بلکہ محبت کو لفظوں میں ڈھال دیا ہے۔
اس تصنیف میں سیرتِ طیبہ کو روایت کے احترام اور تحقیق کے وقار کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ قرآن و سنت، معتبر کتبِ سیر و تاریخ اور صحیح احادیث سے ماخوذ مواد نہایت سلیقے سے مرتب کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ہر باب علمی اعتماد کے ساتھ روحانی تاثیر بھی رکھتا ہے۔ اسلوب میں محدثانہ متانت کے ساتھ ادیبانہ لطافت اور بیانیہ حسن نمایاں ہے۔
چودہ ابواب پر مشتمل یہ کتاب نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے متنوع گوشوں کو اس طرح محیط ہے کہ قاری کو ایک جامع، مربوط اور ہمہ جہت سیرت نگاری کا ذوق حاصل ہوتا ہے۔ شمائل و اخلاق، سیر و مغازی، معاملات و عادات، دلائل و معجزات اور غیر مسلم مفکرین کی آرا—ہر موضوع اپنے مقام پر توازن اور اعتدال کے ساتھ پیش ہوا ہے۔ خصوصاً اخلاق و شمائل سے متعلق مباحث دل میں عشقِ رسول کی ایسی حرارت پیدا کرتے ہیں جو دیرپا تاثیر رکھتی ہے۔
کتابِ جاناں دفاعِ سیرت کے میدان میں بھی ایک سنجیدہ، مضبوط اور معقول آواز ہے۔ معاصر اور حساس اعتراضات کو علمی متانت، شائستگی اور مدلل اسلوب میں پیش کرنا مؤلف کے محققانہ مزاج کا روشن ثبوت ہے۔ اسی بنا پر یہ کتاب نہ صرف ذوقِ مطالعہ کے لیے مفید ہے بلکہ تدریس اور فکری رہنمائی کے لیے بھی نہایت موزوں ہے۔
سیرتِ نبوی کا مطالعہ محض تاریخ کا مطالعہ نہیں، بلکہ ایمان کی تجدید، عمل کی اصلاح اور فکر کی رہنمائی کا مؤثر ذریعہ ہے۔ اسی شعور نے اردو زبان میں سیرتِ پاک کا ایک عظیم اور قابلِ فخر ذخیرہ تیار کیا ہے۔ علامہ شبلی نعمانی و سید سلیمان ندوی کی سیرت النبی، سید مناظر احسن گیلانی کی النبی الخاتم، سید ابو الحسن علی ندوی کی نبی رحمت، مولانا ادریس کاندھلوی کی سیرت المصطفی، قاضی سلیمان منصورپوری کی رحمة للعالمین، جسٹس کرم شاہ کی ضیاء النبی اور مولانا صفی الرحمن مبارک پوری کی الرحیق المختوم جیسی تصانیف اس روایت کی روشن مثالیں ہیں۔ ایسے بھرپور پس منظر میں "کتابِ جاناں" کا منظرِ عام پر آنا اس تسلسل کی خوشگوار توسیع اور ایک وقیع اضافہ ہے۔
کتابِ جاناں محض ایک دل فریب عنوان نہیں، بلکہ مؤلف کے قلبی تعلق، والہانہ وابستگی اور عشقِ رسولؑ کا بلیغ اظہار ہے۔ یہ نام خود اس حقیقت کا اعلان ہے کہ فلاح، نجات اور کامیابی کا راستہ صرف وابستگیِ رسولؑ میں مضمر ہے۔
مفتی شکیل منصور القاسمی نے اس تصنیف میں قرآن و سنت اور معتبر مآخذ سے نہایت محنت، دیانت اور سلیقے کے ساتھ مواد جمع کیا ہے۔ تحقیقی منہج واضح، حوالہ جات مستند اور اسلوب شستہ و دل نشیں ہے۔ ہر سطر میں اخلاص کی خوشبو اور ہر صفحے پر محبتِ رسول کی روشنی محسوس ہوتی ہے۔
مختصر یہ کہ "کتابِ جاناں" سیرت نگاری کے میدان میں ایک وقیع، معتبر اور قابلِ اعتماد اضافہ ہے، جو علم کو وقار، تحقیق کو اعتماد اور محبت کو زبان عطا کرتی ہے۔ مؤلفِ محترم اس عظیم خدمتِ نبویؑ پر بجا طور پر داد و تحسین کے مستحق ہیں۔ راقم سطور انھیں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو بارگاہِ رسالت مآب میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اسے امت کے لیے نفع بخش اور مؤلف موصوف کے لیے ذخیرۂ آخرت بنائے۔
آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین