آئینہ قرآن میں ہمارا معاشرتی چہرہ
✍: جلیل القاسمی
نائب قاضی و استاذ مدرسہ
بدرالاسلام بیگوسرائے، بہار
انسانی معاشرہ محض افراد کے مجموعے کا نام نہیں، بلکہ یہ افکار، جذبات، رویّوں اور باہمی تعلقات کا ایسا نازک نظام ہے جس کی بقا عدل، احترام، محبت اور اخلاقی اقدار سے وابستہ ہے۔ جب یہ اقدار کمزور پڑنے لگتی ہیں تو معاشرہ ظاہری ترقی کے باوجود اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ قرآنِ حکیم نے انسانیت کو جن سنہری اصولوں سے روشناس کرایا ہے، وہی اصول ایک صالح، پُرامن اور باوقار معاشرے کی بنیاد ہیں۔
انسانیت کی وحدت اور برتری کا معیار
قرآنِ کریم انسان کو اس کی اصل یاد دلاتا ہے کہ تمام انسان ایک ہی مرد اور عورت سے پیدا کیے گئے ہیں۔ رنگ، نسل، زبان اور قبیلہ محض پہچان کے ذرائع ہیں، فضیلت کا معیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ انسانوں میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔
یہ اعلان دراصل ہر اس نظریے کی نفی ہے جو انسانوں کو اونچ نیچ، ذات پات یا نسب و خاندان کی بنیاد پر تقسیم کرتا ہے۔ اسلام نے برتری کو خون اور نام کے بجائے کردار اور تقویٰ سے جوڑ دیا۔
تعارف، تعاون اور رواداری
معاشرتی زندگی کا پہلا اصول باہمی تعارف اور قربت ہے، نہ کہ نفرت اور اجنبیت۔ قرآن انسانوں کو ایک دوسرے کو پہچاننے، سمجھنے اور قریب آنے کی دعوت دیتا ہے۔
بدقسمتی سے آج معاشرے میں معمولی اختلافات بھی دشمنی میں بدل جاتے ہیں، جبکہ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ اختلاف کے باوجود احترام باقی رکھا جائے۔ یہی رویّہ معاشرتی توازن اور فکری وسعت کو جنم دیتا ہے۔
تحقیق اور احتیاط: سچائی کا تحفظ
قرآن کا ایک عظیم سماجی اصول یہ ہے کہ ہر خبر کو بلا تحقیق قبول نہ کیا جائے۔ افواہیں، سنی سنائی باتیں اور بغیر ثبوت کے الزامات معاشروں کو تباہ کر دیتے ہیں۔ ایک غلط خبر کسی کی عزت، خاندان اور زندگی کو برباد کر سکتی ہے۔
اسلام ہمیں جذبات کے بجائے بصیرت، اور جلدبازی کے بجائے احتیاط کا درس دیتا ہے، تاکہ انصاف اور حق تلفی سے بچا جا سکے۔
احترامِ انسانیت اور زبان کی حفاظت
انسانی وقار کا تقاضا ہے کہ کسی کو حقیر نہ سمجھا جائے، نہ مرد مرد کا مذاق اڑائے، نہ عورت عورت کو کمتر جانے۔ قرآن کریم طنز، تمسخر، عیب جوئی اور دل آزاری کو سخت ناپسند کرتا ہے، کیونکہ زبان کے تیر جسمانی زخموں سے زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں اختلاف کے باوجود شائستگی اور تہذیب برقرار رہے۔
بدگمانی، تجسس اور غیبت: معاشرتی زہر
بدگمانی دلوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے، تجسس اعتماد کو ختم کرتا ہے، اور غیبت معاشرتی رشتوں کو دیمک کی طرح چاٹ لیتی ہے۔
قرآن ان تمام رویّوں کو مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دے کر ان کی قباحت واضح کرتا ہے۔
یہ محض ایک تشبیہ نہیں بلکہ ضمیر کو جھنجھوڑنے والا پیغام ہے کہ جو عمل ہمیں گھناؤنا لگتا ہے، وہی عمل ہم روزمرہ زندگی میں بلا جھجھک کرتے ہیں۔
اخوت، ہمدردی اور خیر خواہی
اسلامی معاشرت کی روح اخوت اور خیر خواہی ہے۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے؛ اس کا درد محسوس کرنا، اس کی عزت کی حفاظت کرنا اور اس کے لیے وہی پسند کرنا جو اپنے لیے پسند ہو — یہی ایمان کی عملی تصویر ہے۔ جب یہ جذبہ کمزور پڑ جاتا ہے تو عبادات بھی رسم بن جاتی ہیں اور اخلاق کھوکھلے رہ جاتے ہیں۔
اصلاحِ معاشرہ: ہماری ذمہ داری
آج کے پُرفتن دور میں جہاں اخلاقی قدریں زوال پذیر ہیں، ان قرآنی اصولوں کو محض تقریروں تحریروں تک محدود رکھنا کافی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم انہیں اپنی ذاتی زندگی، گھریلو ماحول، تعلیمی اداروں اور سماجی رویّوں میں نافذ کریں۔ اسلام کا پیغام صرف مسجد تک نہیں، بلکہ بازار، دفتر، گلی اور گھر تک پھیلا ہوا ہے۔
اگر ہم ایک پُرامن، باوقار اور باہمی احترام پر قائم معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں قرآن کے ان معاشرتی اصولوں کو سنجیدگی سے اپنانا ہوگا۔ یہ اصول نہ کسی خاص قوم کے لیے ہیں، نہ کسی دور کے لیے؛ بلکہ ہر زمانے کے انسان کے لیے ہدایت اور رحمت ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم کے پیغام کو سمجھنے، اپنانے اور اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین