قرآن اور تدبر: ہدایت کی کنجی
✍ جلیل القاسمی
نائب قاضی و استاذ مدرسہ
بدرالاسلام، بیگوسرائے، بہار
قرآنِ کریم اللہ ربّ العالمین کا وہ ازلی و ابدی کلام ہے جو قیامت تک کے لیے نوعِ انسان کی ہدایت، رہنمائی اور نجات کا واحد مستند سرچشمہ ہے۔ اس کا ہر حرف نور، ہر آیت مشعلِ راہ اور ہر حکم زندگی کو سنوارنے والا ضابطہ ہے۔ یہ کتاب محض تلاوت کے لیے نہیں بلکہ فہم، تدبّر اور عمل کے لیے نازل کی گئی ہے۔ اسی لیے قرآن اپنے بارے میں اعلان کرتا ہے: “هُدًى لِّلنَّاسِ” یعنی تمام انسانوں کے لیے ہدایت۔
قرآنِ مجید کی عظمت اس بات سے بھی واضح ہے کہ اس کے الفاظ کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا اور اس کے معانی کی توضیح و تشریح کے لیے رسولِ اکرم ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ نبی ﷺ کی سیرت اس بات کی عملی تفسیر تھی کہ قرآن کیسے جیا جاتا ہے؛ اسی لیے امّ المؤمنین حضرت عائشہؓ نے فرمایا: “کان خلقہ القرآن” آپ کا اخلاق قرآن تھا۔ گویا قرآن کو سمجھنا دراصل رسولِ اکرم کے اسوۂ حسنہ کو سمجھنا ہے۔
قرآن کے الفاظ قالب ہیں اور معانی اس کی روح۔ الفاظ کے بغیر معانی کا ظہور ممکن نہیں، اور معانی کے بغیر الفاظ بے جان جسم کی مانند ہیں۔ اگرچہ بغیر سمجھے تلاوت بھی اجر و ثواب کا باعث ہے، جیسا کہ ایک حرف پر دس نیکیوں کی بشارت آئی؛ لیکن قرآن کے نزول کا اصل مقصد محض ثواب نہیں بلکہ ہدایت ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن بار بار خود کو ہدایت، نور، رحمت، بصائر، فرقان اور روح کہتا ہے۔ یہ سب اوصاف اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ قرآن انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانے کے لیے آیا ہے۔
ہدایت کا حصول تدبّر کے بغیر ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں فرمایا: “أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ” کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟ تدبّر نہ کرنے والوں کے بارے میں فرمایا کہ ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔ یعنی عدمِ تدبّر دل کی بندش، فہم کی محرومی اور ہدایت سے دوری کا سبب بنتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تلاوت محض آواز بن کر رہ جاتی ہے اور زندگی میں اس کا اثر ظاہر نہیں ہوتا۔
سلفِ صالحین کا حال یہ تھا کہ وہ قرآن کو آہستہ آہستہ، سمجھ کر پڑھتے، ایک ایک آیت پر رک کر سوچتے اور اپنے آپ کو اس کے سامنے تولتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ قرآن اس وقت نفع دیتا ہے جب دل میں اتر جائے۔ رسول اللہ ﷺ پوری پوری رات ایک ہی آیت دہراتے، جنت کی آیات پر شوق اور جہنم کی آیات پر خوف طاری ہو جاتا، حتیٰ کہ آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے۔ یہ کیفیت محض الفاظ کی ادائیگی سے نہیں بلکہ معانی کی گہرائی میں اترنے سے پیدا ہوتی ہے۔
عدمِ تدبّر کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان قرآن کو پڑھتے ہوئے بھی اس سے محروم رہتا ہے۔ وہ حروف یاد کر لیتا ہے مگر حدود پامال کرتا ہے۔ حضرت حسن بصریؒ نے ایسے لوگوں پر افسوس کرتے ہوئے فرمایا کہ کچھ لوگ فخر سے کہتے ہیں ہم نے پورا قرآن ختم کر لیا، حالاں کہ ان کے اخلاق و کردار میں قرآن کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی۔ یہی وہ المیہ ہے جسے قرآن نے “مہجور”—چھوڑا ہوا قرآن—کہہ کر تعبیر کیا ہے۔
قرآن کے پانچ حقوق بیان کیے گئے ہیں: اس پر ایمان، اس کی تلاوت، اس کو سمجھنا، اس پر عمل کرنا اور اسے آگے پہنچانا۔ ان میں سے کسی ایک حق کی کوتاہی بھی درحقیقت قرآن سے بے تعلقی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن فریاد کریں گے: “اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا”۔ علامہ اقبالؒ نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا:
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآن ہو کر
تدبّر کا دروازہ آج بھی کھلا ہے۔ قرآن کو سمجھنا کسی خاص طبقے تک محدود نہیں۔ مستند تراجم اور تفاسیر ہر زبان میں موجود ہیں۔ ضرورت صرف نیت، تسلسل اور سنجیدگی کی ہے۔ روزانہ تھوڑی سی تلاوت کے ساتھ معنی پر غور، سوال کرنا، اپنے عمل کا محاسبہ—یہ سب تدبّر کے عملی مظاہر ہیں۔
زوال امت کے دو بنیادی اسباب
شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے مالٹا کی اسیری میں امتِ مسلمہ کے زوال پر گہرے غور و فکر کے بعد دو بنیادی اسباب متعین کیے:
اوّل، قرآنِ کریم سے عملی اور فکری دوری؛
دوم، مسلمانوں کے باہمی اختلافات اور خانہ جنگی۔
حضرت مفتی محمد شفیع عثمانیؒ کے بیان کے مطابق، شیخ الہندؒ نے رہائی کے بعد فرمایا کہ امت کی دینی و دنیوی تباہی کی جڑ یہی دو خرابیاں ہیں۔ اسی احساس کے تحت انہوں نے عزم کیا کہ اپنی باقی زندگی قرآن کو لفظاً و معناً عام کرنے، بچوں کے لیے مکاتب اور بڑوں کے لیے درسِ قرآن کے فروغ، اور امت میں اتحاد و اخوت کے قیام کے لیے وقف کریں گے، چنان چہ اس نبّاضِ امت نے ضعف و علالت کے باوجود پوری زندگی اسی تشخیص اور تجویز پر عمل کی جدوجہد کی۔
خلاصہ یہ کہ قرآنِ کریم محض پڑھنے کی نہیں، سمجھنے، سوچنے اور جینے کی کتاب ہے۔ اس سے ہدایت، رحمت اور عزت اسی وقت ملتی ہے جب ہم اسے شعور کے ساتھ تھامیں۔ تدبّر کے بغیر تلاوت چراغ تو ہے مگر بے تیل، اور تدبّر کے ساتھ تلاوت وہ نور ہے جو دل کو بدل دیتا ہے، زندگی کو سنوار دیتا ہے اور انسان کو رب کے قریب کر دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کریم میں تدبر کرنے اور حسبِ طاقت اس کے تمام حقوق ادا کرنے کی توفیق دے. آمین