🌿 *تعطیلِ ششماہی کا ایک یادگار سفر*

علم کی راہوں کے مسافر کے لئے ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے۔ چھٹی کا وقت عام طلبہ کھیل کود اور سیر و تفریح میں گزار دیتے ہیں، لیکن جو طلبہ علم کی چاشنی اور خدمتِ دین کی مٹھاس سے مانوس ہوتے ہیں، وہ اپنی چھٹیوں کو بھی نفع اور خیر میں صرف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسی پس منظر میں اس سال تعطیلِ ششماہی کے دوران نوئیڈا جانے کا موقع نصیب ہوا۔ مقصد یہ تھا کہ وہاں مکتب کے بچوں کے امتحان لینے کے لئے بطورِ ممتحن شریک ہوں۔ یہ ایک دن کا سفر تھا، مگر دل و دماغ پر ایسی انمٹ یادیں چھوڑ گیا جو مدتوں ذہن و قلب کو روشن رکھیں گی۔


🏫 *بچوں کا امتحان اور خوشی کا لمحہ*

امتحان کے دوران میں نے ننھے منے بچوں کی آنکھوں میں دین کے نور کی چمک دیکھی، ان کے لہجوں میں قرآن کی مٹھاس سنی اور ان کے شوق و ذوق نے دل کو بے حد مسرور کر دیا۔ علم کا یہ منظر واقعی ایمان کو تازہ کرنے والا تھا۔

یہ سب کچھ دیکھ کر بے ساختہ یہ جملہ زبان پر آیا:
"یہ بچے مستقبل کے چراغ ہیں، اگر آج ان کی صحیح تربیت ہو جائے تو کل یہی دین کے سچے خادم بنیں گے۔"


👨‍🏫 *استاذ محترم مولانا محمد مہتاب عالم کی محنت*

یہ کامیابی اور روشنی دراصل ان کے استاذِ محترم مولانا محمد مہتاب عالم کی دن رات کی محنت کا نتیجہ ہے۔ مولانا مہتاب عالم ہمارے نہایت ہی پراعتماد رفیقوں میں سے ہیں۔ خوش اخلاق، خوش کردار، باکمال اور ہمہ جہت صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ انہوں نے اپنی محنت اور جاں فشانی سے مکتب کے ماحول کو ایسا گلشن بنا دیا ہے کہ وہاں کے بچے علم و عمل کی خوشبو سے معطر ہو رہے ہیں۔

یقیناً ایسے استاذ مبارکباد اور ستائش کے مستحق ہیں۔ وہ صرف پڑھاتے نہیں، بلکہ بچوں کے دلوں میں دین کی محبت بٹھاتے ہیں۔


👨‍👩‍👧 *والدین کے لئے پیغام*

البتہ ایک کمی جو میں نے محسوس کی وہ یہ کہ بچوں کے والدین کو بھی مزید آگے بڑھ کر تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر والدین اپنے اساتذہ کی محنت کو دل سے قبول کریں، اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ وقت بچوں پر صرف کریں، موبائل اور فتنہ پرور مشاغل سے بچوں کو دور رکھیں، اور وقتاً فوقتاً اپنے بچوں کے استاذ کی حوصلہ افزائی کریں—تو یہ بچے یقیناً علم و فضل کے آسمان پر روشن ستارے بن سکتے ہیں۔

یہ پیغام میں بطورِ ممتحن والدین تک ضرور پہنچانا چاہتا ہوں۔


🤝 *دوستوں سے ملاقات اور یادگار لمحات*

امتحان سے فراغت کے بعد ایک اور خوشی نصیب ہوئی۔ ہمارے عزیز دوست محمود بیگوسرائے—جو دارالعلوم قاسمیہ دیوبند کے ایک متحرک فرد ہیں اور آج کل نوئیڈا میں ڈاکٹر بننے کی تیاریوں میں مصروف ہیں—نے پرخلوص انداز میں فون کر کے بلایا۔ ان کی محبت اور خاطر تواضع واقعی ناقابلِ فراموش رہی۔

ان کے ساتھ وقت گزارنے میں بہت کچھ دیکھنے، سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ ساتھ ہی ہمارے رفیق مولانا امان قریشی بھی رہنمائی کے لئے ہمراہ رہے۔ مزید یہ کہ ڈاکٹر عادل سے بھی ملاقات ہوئی، جن سے تعارف مولانا مہتاب عالم کے ذریعے ہوا تھا۔ یہ ملاقات بھی ایک خوشگوار تجربہ اور یادگار لمحہ رہی۔

🏠 *مہمان نوازی کا حسین تذکرہ*

آخر میں اگر میں بھائی مہتاب کی والدہ محترمہ کا ذکر نہ کروں تو یہ تحریر ادھوری رہ جائے گی۔ انہوں نے جس محبت، اخلاص اور اعلیٰ ذوق کے ساتھ مہمان نوازی فرمائی، وہ زبان و بیان سے ماورا ہے۔ ان کی ذرہ نوازی اور ایثار نے دل پر گہرا نقش چھوڑ دیا۔ ایسی مہمان نوازی کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔


🌸 *دعا اور کلماتِ اختتام*

آخر میں بارگاہِ ایزدی میں دعا ہے کہ:

اللہ تعالیٰ ان تمام حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

ان بچوں کو عالمِ باعمل اور والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے۔

دینِ متین کی صحیح سمجھ نصیب فرمائے۔

مولانا محمد مہتاب عالم کی عمر، محنت اور کوشش میں خوب برکت عطا فرمائے، اور انہیں مزید ترقیات سے نوازے۔


آمین ثم آمین، یا رب العالمین، بجاہ النبی الامین ﷺ۔

            محتاج دعا:
 *محمد معصوم شاہی ارریاوی* 
       دارالعلوم وقف دیوبند
بروز جمعرات بوقت 2:15