بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ 

یوم جمعہ کے فضائل 


جمعہ کے دن کی فضلیت یہ ہے کہ یہ دن ہفتے کے سارے دنوں کا سردار ہے۔
 ایک حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر دن جس پر آفتاب طلوع ہوتا ہے، جمعہ کا دن ہے۔ اس دن حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی، اسی دن ان کو جنت میں داخل کیا گیا، اسی دن ان کو جنت سے نکالا (اور دُنیا میں) بھیجا گیا۔ اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی اور اسی دن ان کی وفات ہوئی۔
 بہت سی احادیث میں یہ مضمون ہے کہ جمعہ کے دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس پر بندہٴ موٴمن جو دُعا کرے وہ قبول ہوتی ہے، جمعہ کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود پڑھنے کا حکم آیا ہے۔ یہ تمام احادیث مشکوٰة شریف میں ہیں۔ 

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے روز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : اس میں ایک ساعت ہے جو بندہ مسلمان اسے پائے اور وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو تو اللہ تعالیٰ سے جو چیز مانگے گا وہی عطا فرما دی جائے گی اور ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ وہ قلیل وقت ہے۔‘‘

جمعہ کے دن درج ذیل امور مسنون ومستحب ہیں:

(۱)غسل کرنا۔(۲)مسواک کرنا۔(۳)خوشبو لگانا۔( ۴)عمدہ لباس پہننا۔( ۵)تیل لگانا۔ 6۔جمعہ کے دن درود پاک کثرت سے پڑھنا ۔آپﷺ نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن اور رات کو مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو ، کیونکہ جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود( شریف ) پڑھا اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں۔ 
۷)جمعہ کے دن دعا مانگناخاص کر دونوں خطبوں اور عصر سے مغرب کے درمیان واضح رہے کہ دونوں خطبوں کے درمیان دعاصرف دل دل میں کی جائے ،زبان سے نہیں اور نہ ہی اس کے لیے ہاتھ اٹھائے جائیں.

جمعہ کے روز ان سورتوں کو پڑھنے کی فضیلت۔
  

 نسائی بيہقی بسند صحیح ابو سعید خدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوی، کہ فرماتے ہیں: ''جو شخص سورۂ کہف جمعہ کے دن پڑھے، اس کے ليے دونوں جمعوں کے درمیان نور روشن ہو گا۔'' 
اور دارمی کی روایت میں ہے، ''جو شب جمعہ میں سورۂ کہف پڑھے اس کے ليے وہاں سے کعبہ تک نور روشن ہوگا۔''اور ابو بکر ابن مردویہ کی روایت ابن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُما سے ہے کہ فرماتے ہیں: ''جو جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھے اس کے قدم سے آسمان تک نور بلند ہو گا جو قیامت کو اس کے ليے روشن ہو گا اور دو جُمعوں کے درمیان جو گناہ ہوئے ہيں بخش ديے جائیں گے۔''

حم الدخان پڑھنے کی بھی فضیلت آئی ہے
۔ 
طبرانی نے ابو امامہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کی کہ حضور (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) نے فرمایا: ''جو شخص جمعہ کے دن یا رات میں حم الدخان پڑھے، اس کے ليےاللہ تعالٰی جنت میں ایک گھر بنائے گا۔' اور ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی، کہ ''اس کی مغفرت ہوجائے گی۔''
 اور ایک روایت میں ہے، ''جو کسی رات میں حم الدخان
پڑھے، اس کے ليے ستر ہزار فرشتے استغفار کریں گے۔
 جمعہ کے دن یا رات میں جو سورۂ يٰس پڑھے، اس کی مغفرت ہو جائے۔''
حدیث شریف میں اس رات کو روشن رات اور جمعہ کے دن کو روشن دن قرار دیا گیا ہے جمعہ کے دن میں درود شریف اور استغفار کی کثرت، سورة کہف، صلوٰة تسبیح اور جمعہ کے دن مغرب سے کچھ دیر قبل دُعاؤں کا خصوصی اہتمام کریں...

      کیا عورتیں جمعہ ادا کرسکتی ہیں؟؟
عورت کے ليے ظہر افضل، ہاں عورت کا مکان اگر مسجد سے بالکل متصل ہے کہ گھر میں امام مسجد کی اقتدا کر سکے تو اس کے ليے بھی جمعہ افضل ہے اور نابالغ نے جمعہ پڑھا تو نفل ہے کہ اس پر نماز فرض ہی نہیں۔
جمعہ کی رکعتوں کی تعداد:
مرد کیلیے جمعہ کی رکعتوں کی کل تعداد 14 رکعت ہے۔ چار 4 سنت خطبہ سے پہلے ، خطبہ کے بعد 2رکعت فرض، پھر 4 سنت ، پھر 2سنت ، 2نفل۔ 
عورت کیلیے چونکہ مسجد میں جانا نہیں ہے ، اور نہ ہی جماعت ہے اسلیے عورت عام دنوں کی طرح ظہر کے 12 رکعت ہی ادا کریگی ۔ البتہ کہیں جماعت مل گئی جیسے کہیں استماعات وغیرہ یا کسی دینی محفل میں شریک ہوئی اور وہاں مرد حضرات بھی تھے لہذا جمعہ کی جماعت کروائی گئی تو اب خواتین کے لیے جمعہ ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح جس عورت کا گھر مسجد سے ملا ہوا ہے یا مسجد کے اتنا قریب ہیکہ آسانی سے عورت جماعت سے نماز پڑھ سکتی ہے تو جمعہ کی نماز بھی مسجد کی جماعت سے ادا کرلینے میں کوئی حرج نہیں۔ 
البتہ یہ ذہن میں رکھیں کہ جمعہ کی نماز سے مراد 2 رکعت فرض ہے اور جماعت سے یہی فرض ادا کی جاتی ہے ، لیکن فرض سے پہلے اور بعد میں جو سنت اور نفل ہے وہ خود سے ادا کر لینا ضروری ہے۔ سنتوں کو چھوڑنے پر قیامت میں گرفت ہونگی۔ 
  
جمعہ کی مبارکباد دینا:

جمعہ کی مبارک باد کا مطلب جمعہ کے بابرکت ہو نے کی دعا دینا ہے، اور برکت والے دن برکت کی دعا دینے میں بذاتِ خود حرج نہیں ہے، البتہ اس طرح مبارک باد دینے کا التزام واہتمام کرنا، اسے رواج دینا اور مبارک باد نہ دینے والے کو برا سمجھنا اور کہنا ٹھیک نہیں ہے، اور نہ ہی شرعی طور پر ان کاموں کا حکم دیا گیا ہے، ان چیزوں میں وقت صرف کرنے کی بجائے جو اعمال اس دن ثابت ہیں ان کا اہتمام کرناچاہیے۔
    اللّٰہ تعالٰی ہم سب کو عقل سلیم عطا فرمائے ۔
آمین یارب العالمین ۔
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ