سورۂ کہف فتنوں کے مقابل ایک مضبوط حصار

✍🏻 محمد عادل ارریاوی
_______________________________
محترم حضرت قرآن کریم کی ہر سورت انسان کی رہنمائی کے لیے ایک نور ہے مگر سورۂ کہف کو خاص طور پر فتنوں کے اندھیروں میں روشنی اور حفاظت کی ڈھال قرار دیا گیا ہے سورہ کہف بےشمار فتنوں کے لیے ایک ڈھال ہے چاہے وہ فتنہ بادشاہ کی طرف سے ہو گھر بار کی طرف سے ہو مال و دولت کی وجہ سے ہو ابلیس کی وجہ سے ہو کبر علم کی وجہ سے ہو یاجوج ماجوج کا فتنہ ہو یا نفس پرستی کا فتنہ ہو یہ سورت مبارکہ ہماری رہنمائی کرتی ہے کہ اس گھٹیا اور فانی دنیا کی حقیقت کو پہچان لو اپنی توانائیوں کا رُخ آخرت کی طرف کرلو صحبت صالح ترا صالح کند کے مصداق بن جاؤ علم نافع کے حصول میں ایک پر جوش طالب علم بن کر رہو عبادات الہی کو زاد راہ بناؤ صبر و استقامت کو اپنا زیور بناؤ اور مکارم اخلاق کو مشعل راہ بناؤ۔ (سورہ کہف کے فوائد ج ۱ ص ۶۳ مصنف حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمتہ اللہ علیہ)
سورۂ کہف پڑھنے سے یہ ایمان کو تازگی بخشتی اور دل کو دنیا کی غفلت سے بیدار کرتی ہے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس سورت کی تلاوت کو فتنۂ دجال سے حفاظت کا ذریعہ قرار دیا خصوصاً اس کی ابتدائی اور آخری آیات کو اس سورت کو پڑھنے سے بندۂ مؤمن کے اندر توکل عاجزی اور اللہ کی قدرت پر یقین کو مضبوط کرتی ہے۔ اس کی باقاعدہ تلاوت دل میں نور پیدا کرتی ہے فکر کو درست سمت دیتی ہے اور انسان کو آزمائش کے وقت ثابت قدم رہنے کی قوت عطا کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ سورۂ کہف کو جمعہ کے دن پڑھنا نورِ ہدایت اور روحانی حفاظت کا سبب سمجھا جاتا ہے۔ ویسے قرآن کریم میں کسی بھی سورت کی تلاوت کریں سب سے ہمیں سکون ملتا ہے لیکن سورہ کہف میں ایک الگ ہی لطف رہتا ہے بہت سکون ملتی ہے
اے اللہ ربّ العزت ہمیں سورۂ کہف کے نور سے منور فرما ہر قسم کے شرور و فتن سے ہماری مکمل حفاظت فرما ہمارے ایمان کو مضبوط رکھ ہمیں دنیا کی حقیقت پہچاننے اور آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرما آمین یارب العالمین