خاموش جدوجہد کا قصہ

✒️ مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی 

اس دنیا میں ہم سب ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں، ملتے ہیں، بات کرتے ہیں، مسکراتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ کس شخص کے دل میں کیسا طوفان چھپا ہوا ہے۔ معاشرہ ہمیشہ چہروں کو دیکھتا ہے، الفاظ سنتا ہے، لیکن دل کی چیخ اور روح کی تھکن کو نہیں سن پاتا۔

کوئی نہیں جانتا کہ آپ کی زندگی کے پس منظر میں کیا ہوا۔ کون سا واقعہ تھا جس نے آپ کی سلامتی کو ہلا کر رکھ دیا؟ کون سا صدمہ تھا جس نے آپ کے دل کا سکون چھین لیا؟ کون سا لمحہ تھا جس نے آپ کی بے ساختہ صلاحیتوں کو بکھیر کر رکھ دیا؟ معاشرہ یہ نہیں جانتا کہ آپ نے کتنا کھویا، آپ نے اپنی اندرونی جنگ میں کتنی بار گریہ کیا، کتنی بار اٹھ کر کھڑے ہونے کی کوشش کی، اور کتنی بار خاموشی سے گر پڑے۔

ہماری سب سے بڑی کمزوری یہی ہے کہ ہم دوسروں کے درد کو دیکھنے کی بجائے صرف ان کے ظاہر کو پرکھتے ہیں۔ کوئی کامیاب نظر آئے تو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ خوش ہے، مگر کون جانے کہ اس کامیابی کے پیچھے کتنی راتوں کی جاگ، کتنے آنسو، کتنی ناکامیاں اور کتنے دل کے زخم چھپے ہیں۔ کوئی مسکرا دے تو ہم گمان کرتے ہیں کہ وہ بے فکری سے جیتا ہے، مگر کیا ہم نے کبھی اس مسکراہٹ کے پیچھے چھپے درد کو پہچاننے کی کوشش کی؟

یہی معاشرتی المیہ ہے کہ ہم دوسروں کی جدوجہد کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر انسان اپنی ایک نجی جنگ لڑ رہا ہے۔ کوئی غربت سے، کوئی بیماری سے، کوئی تنہائی سے، کوئی ٹوٹے رشتوں سے، کوئی نامکمل خوابوں سے، اور کوئی اپنی اندرونی کمزوریوں سے۔ مگر ہم صرف ظاہر کے آئینے میں جھانکتے ہیں، باطن کی ٹوٹ پھوٹ کو محسوس نہیں کرتے۔

معاشرے کو یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ دوسروں کی مسکراہٹوں کے پیچھے چھپے غم کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ کسی کے چپ رہنے کو کمزوری نہ سمجھے بلکہ یہ مانے کہ چپ کے اندر ایک پوری دنیا آباد ہے، جو زخموں سے بھری ہے۔ ہمیں یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ دوسروں کی کہانی جانے بغیر فیصلے نہ سنائیں۔ کیونکہ جو جدوجہد، جو قربانی، اور جو دکھ دوسروں نے برداشت کیے ہیں، وہ صرف انہیں ہی معلوم ہیں۔

ہر فرد کا درد منفرد ہے، اور ہر جدوجہد کی کہانی الگ ہے۔ اس لیے معاشرہ اگر واقعی مہذب بننا چاہتا ہے تو اسے دوسروں کے درد کو تسلیم کرنا ہوگا، ہمدردی پیدا کرنی ہوگی، اور اپنے رویوں میں نرمی لانی ہوگی۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ بظاہر مضبوط نظر آنے والا شخص بھی اندر سے ٹوٹا ہوا ہو سکتا ہے، اور بظاہر خاموش رہنے والا شخص بھی سب سے بڑی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے۔

لہٰذا، ہمیں ایک دوسرے کے لیے سہارا بننا چاہیے۔ اگر ہم کسی کا درد دور نہیں کر سکتے تو کم از کم اسے مزید بڑھانے والے نہ بنیں۔ کسی کی چپ کو سننے کی کوشش کریں، کسی کی خاموش آنکھوں کو سمجھنے کی ہمت کریں۔ یہی معاشرے کی اصل خدمت ہے کہ ہم دوسروں کو ان کی نجی جدوجہد میں تنہا نہ چھوڑیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ شعور عطا فرمائے کہ ہم دوسروں کے دکھ اور جدوجہد کو پہچان سکیں۔ ہمیں توفیق دے کہ ہم کسی کے زخم پر نمک چھڑکنے کے بجائے مرہم رکھنے والے بنیں۔ ہمیں صبر، برداشت اور ہمدردی کا ایسا رویہ عطا کرے کہ ہمارے وجود سے دوسروں کو راحت ملے، نہ کہ اذیت۔

یاد رکھیں!

دنیا کے اصل بہادر وہ نہیں جو دوسروں کو گرا دیں بلکہ وہ ہیں جو گرنے والوں کو تھام لیں۔ اصل خوشبو وہ نہیں جو پھول میں ہو بلکہ وہ ہے جو انسان کے رویے سے پھیلے۔ معاشرہ تبھی خوشحال ہوگا جب ہر فرد یہ سوچ لے کہ میرے ایک نرم لفظ، ایک ہمدرد نظر اور ایک مسکراتا چہرہ شاید کسی تھکے دل کے لیے زندگی کی نئی امید بن جائے۔