ایک دن رب کو حساب دینا ہے
انسان کی زندگی محض چند دنوں کا قیام ہے۔ یہ دنیا ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں بلکہ ایک امتحان گاہ ہے، جہاں ہر انسان کو اپنے اعمال، اقوال اور نیتوں کے ساتھ آزمایا جاتا ہے۔ اس حقیقت کو یہ جملہ بہت واضح انداز میں بیان کرتا ہے کہ "ایک دن رب کو حساب دینا ہے"۔ یہ سوچ انسان کو غفلت سے جگانے اور ذمہ داری کا احساس دلانے کے لیے کافی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل، شعور اور اختیار عطا کیا ہے۔ وہ چاہے تو نیکی کا راستہ اختیار کرے اور چاہے تو برائی کی طرف جائے۔ مگر یہ آزادی بے حساب نہیں ہے۔ قرآنِ کریم میں بار بار یہ بات دہرائی گئی ہے کہ قیامت کے دن ہر چھوٹے بڑے عمل کا حساب لیا جائے گا، حتیٰ کہ نیتوں تک کا محاسبہ ہوگا۔ اس دن نہ مال کام آئے گا، نہ اولاد، بلکہ صرف صاف دل اور نیک اعمال ہی نجات کا ذریعہ بنیں گے۔
دنیا میں انسان اکثر یہ بھول جاتا ہے کہ اس کے ہر لفظ، ہر قدم اور ہر فیصلہ لکھا جا رہا ہے۔ فرشتے اس کے اعمال کو محفوظ کر رہے ہیں۔ جو زبان سے نکلتا ہے اور جو دل میں چھپا ہوتا ہے، سب ربِّ کریم کے علم میں ہے۔ اسی لیے ایک مومن کا شیوہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ ہر کام اللہ کی رضا کو سامنے رکھ کر کرے۔
یہ موضوع ہمیں اپنی زندگی پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ کیا ہماری عبادات خالص ہیں؟ کیا ہمارا کاروبار دیانت پر قائم ہے؟ کیا ہم دوسروں کے حقوق ادا کر رہے ہیں؟ اگر ہم واقعی یہ یقین رکھتے ہیں کہ ایک دن رب کو حساب دینا ہے، تو ہماری زندگی کا انداز بدل جائے، ہماری گفتگو نرم ہو جائے اور ہمارے اعمال میں اصلاح آ جائے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جو شخص حساب کے دن کو یاد رکھتا ہے، وہ دنیا میں محتاط زندگی گزارتا ہے۔ وہ ظلم سے بچتا ہے، حق کا ساتھ دیتا ہے اور نیکی کو اختیار کرتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایک دن رب کو حساب دینا ہے، اور اسی دن اصل کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ ہوگا۔۔
محمد ساجد قاسمی