کیا آپ جانتے ہیں؟
وضو صرف پانی نہیں…
وضو اللہ کا ایک راز ہے۔
چلیں…
آج وہ راز جان لیتے ہیں جو ہر وضو کے ساتھ خاموشی سے کھلتا ہے۔
ہم میں سے اکثر نے کبھی نہ کبھی یہ سوچا ہوگا:
“ابھی تو وضو کیا تھا…
بار بار وضو کیوں؟
اتنا وقت کیوں لگتا ہے؟”
لیکن اگر یہ سمجھ آ جائے کہ
وضو مشقت نہیں… مغفرت ہے
تو شاید وضو کبھی بوجھ نہ لگے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“وضو آدھا ایمان ہے”
(صحیح مسلم)
ذرا رک کر سوچیں…
آدھا ایمان؟
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایمان صرف وضو ہے،
بلکہ یہ کہ ایمان کی بنیاد پاکیزگی ہے
اور پاکیزگی کی کنجی وضو ہے۔
دل پاک ہو مگر جسم ناپاک ہو
تو نماز نہیں۔
جسم پاک ہو مگر دل ناپاک ہو
تو نماز میں جان نہیں۔
وضو دل اور جسم کے درمیان وہ پل ہے
جس سے ایمان گزرتا ہے۔
اب ایک اور حدیث…
اور ذرا دل سے سنئے:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں
جس سے اللہ گناہ مٹا دیتا ہے
اور درجات بلند فرما دیتا ہے؟”
صحابہؓ نے عرض کیا:
کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ
آپ ﷺ نے فرمایا:
“مشقت کے باوجود وضو کرنا”
(صحیح مسلم)
یہاں لفظ ہے مشقت
یعنی جب نفس کہے:
“سردی ہے…
تھکن ہے…
دل نہیں چاہتا…”
اور پھر بھی آپ پانی کی طرف بڑھیں
تو وہ وضو
صرف وضو نہیں رہتا
درجات کی سیڑھی بن جاتا ہے۔
اللہ پہلے ہی انتظار میں ہوتا ہے
کہ بندہ کب آئے،
کب کہے:
“یا اللہ میں کمزور ہوں،
یا اللہ میں گنہگار ہوں…”
اللہ تو بہانے ڈھونڈتا ہے
معاف کرنے کے۔
اور وضو؟
یہ تو اللہ کا دیا ہوا معافی کا بہانہ ہے۔
آپ نے ہاتھ دھوئے —
ہاتھوں کے گناہ گر گئے۔
آپ نے منہ دھویا —
غلط باتیں، شکایتیں، تلخ الفاظ بہہ گئے۔
آپ نے چہرہ دھویا —
نظر کی خطائیں، حسد، موازنہ، دل کی تھکن دھل گئی۔
آپ نے پاؤں دھوئے —
غلط راستوں کی گرد اتر گئی۔
اور ہم کہتے ہیں:
“بس وضو ہی تو ہے…”
جبکہ اللہ فرماتا ہے:
“یہ وضو نہیں…
یہ میری رحمت کا دروازہ ہے
جو تم خود کھولتے ہو۔”
جو وضو سے اکتاتے ہیں
وہ اصل میں نہیں جانتے
کہ وہ کس خزانے کو چھوڑ رہے ہیں۔
وضو وقت نہیں لیتا
وضو وقت بچاتا ہے
کیونکہ دل کا بوجھ ہلکا کر دیتا ہے۔
وضو تھکاتا نہیں
وضو ہلکا کرتا ہے
کیونکہ روح کو دھو دیتا ہے۔
وضو بار بار ہے
کیونکہ اللہ
تمہیں بار بار صاف دیکھنا چاہتا ہے۔
یہ ہمارا رب ہے…
جو ہر نماز سے پہلے کہتا ہے:
“آؤ…
پہلے صاف ہو جاؤ
پھر میرے سامنے آؤ۔”
تاکہ جب تم سجدے میں جھکو
تو بوجھ زمین پر نہ گرے
کیونکہ گناہ
پانی کے ساتھ پہلے ہی بہہ چکے ہوں۔۔
از
محمد ساجد قاسمی